جب بھی میاں محمد نواز شریف اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہیں، تو جلد یا بہ دیر لوگ ان سے استعفا مانگ لیتے ہیں۔ ویسے وہ آسانی سے اقتدار کی کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں بہ حیثیت وزیراعظم تیسری دفعہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے ہیں۔ ان تینوں ادوار میں باقاعدہ طور پر ان سے استعفا دینے کی خواہش زور پکڑتی رہی ہے اور وہ بھی ہنسی خوشی نہیں بلکہ زور زبردستی سے۔ مجھے یاد ہے بلکہ آپ کو بھی یاد ہوگا کہ پہلی دفعہ صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا تھا۔ یہی نواز شریف صاحب پھر سپریم کورٹ چلے گئے، وہاں سے انھوں نے اپنی حکومت دوبارہ بحال کی۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ انھیں پھر استعفا دینے پر مجبور کیا گیا لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر صدر پاکستان غلام اسحاق خان اور میاں محمد نواز شریف میں ٹھن گئی۔ صدر انھیں وزیراعظم کی کرسی پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور میاں صاحب کرسی چھوڑنے پر تیار نہیں ہورہے تھے۔ آخر کار اُس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ صاحب درمیان میں آگئے۔ کیسے آگئے؟ اس کا مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن اس سے یہ ہوا کہ میاں نواز شریف وزیراعظم نہیں رہے اور میاں صاحب نے جنرل کاکڑ صاحب سے استدعا کی کہ ان کو بھی صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ اس طرح غلام اسحاق خان نے بھی صدر کی کرسی چھوڑ دی۔ غلام اسحاق خان صاحب نے نواز شریف میں کون سی برائی دیکھی تھی، اس کاپتہ اللہ تعالیٰ کو ہوگا لیکن یہ برائی غلام اسحاق خان کی نظروں میں نا قابل برداشت تھی۔ اس لیے نواز شریف کو ہٹانے کے لیے انھوں نے پاکستان کی صدارت سے ہاتھ دھونے میں دیر نہیں لگائی۔ غلام اسحاق خان صاحب صدارت سے چلے گئے لیکن انھوں نے تادم آخر اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا کہ اصل معاملہ کیا تھا اور یہ کہ نواز شریف بہ حیثیت وزیراعظم اُن کے لیے کیوں قابل قبول نہیں تھے۔ حالاں کہ غلام اسحاق خان صاحب ایک ایمان دار اور سچے پاکستانی تھے اور انھوں نے اپنی زندگی میں اسسٹنٹ کمشنر سے پاکستان کی خدمت شروع کی اور صدر پاکستان بننے تک ملک کی خدمت پر مامور رہے بلکہ ضیاء الحق کے دور میں وہ سینیٹ کے چیئرمین بھی رہے۔ بھٹو دورِ حکومت سے وہ ایٹمی پاور پراجیکٹ کی سرپرستی اور دیکھ بھال پر مامور ہوا کرتے تھے اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ان کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔ جب کہ نواز شریف نے اپنے دوسرے ٹرم میں تو ایٹمی دھماکہ کرکے دنیا کو بتادیا کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی مرضی سے ایک جونیئر آرمی آفیسر پرویز مشرف کو چیف آف آرمی اسٹاف بنایا، لیکن بعد میں وہ جنرل پرویز مشرف کو بھی برداشت نہ کرسکے۔ ان سے پہلے جنرل جہانگیر کرامت چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی نواز شریف کی ٹھن گئی تھی لیکن جنرل صاحب بہت جلد اللہ کو پیارے ہوگئے اور انھی جنرل مشرف کو ان کی جگہ میاں صاحب نے سپہ سالار کی مسند پر بٹھا دیا۔ جنرل مشرف آگئے لیکن اس کے باوجود نواز شریف کو آرام کی نیند نصیب نہ ہوئی۔ وہ مشرف سے بھی مطمئن نہ تھے۔ ایک دن جب جنرل پرویز مشرف سری لنکا سے بہ ذریعہ ہوائی جہاز آرہے تھے، تو نواز شریف نے انھیں ہوا میں ہی برطرف کیا اور ملک کے تمام ہوائی اڈے اُن کے جہاز کے لیے بند کرنے کا حکم صادر کیا۔ آخر پاک فوج نے جنرل مشرف کو بہ حفاظت زمین پر اُترنے کے لیے ایکشن لیا۔ حالات مار شل لاء کی جانب موڑ دیے گئے۔ نواز شریف کی حکومت دوسری بار برطرف کی گئی۔ ان کو اٹک قلعے میں قید کیا گیا۔ بعد میں سعودی عرب کی درخواست پر وہ اور ان کا پورا خاندان سعودی عرب منتقل ہوا۔
اب تیسری بار علامہ طاہر القادری صاحب اور جناب عمران خان، نواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اس غرض کے لیے دونوں پارٹیاں مل کر اسلام آباد میں دھرنا دے رہی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ نواز شریف کی حکومت سے ہر کوئی نالاں ہے۔ ملک میں بے انتہا مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستانی عوام اس صورت حال سے بالکل خوش نہیں ہیں اور یہ ہیں کہ اقتدار کی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
676 total views, no views today


