میاں گل اورنگ زیب ولئی عہد ریاست سوات کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اللہ نے اُن کو پوری دنیا میں ایک جداگانہ حیثیت دی تھی۔ وہ پاکستان کی واحد شخصیت تھے کہ چاہے حکومت کا حصہ ہوتے یا نہیں، دنیا کے بیش تر ممالک میں اُن کے کہنے پر آدمی کا کام ہوجایا کرتا تھا۔ خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے گورنر بھی رہ چکے تھے۔ کئی دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے۔ سیاست میں اُن کا ایک اہم کردار رہ چکا ہے۔ کوئی ان پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہیں کرسکتا۔ نیز یہ بھی کہ انھوں نے کسی سے کام کی غرض سے یا کسی سے نوکری کے لیے رشوت لی ہو۔ حکم رانی کی اور اچھے طریقے سے کی۔ اس طرح سیاست کی اور وہ بھی چھے طریقے سے کی۔ کبھی جھوٹے وعدے نہیں کیے، منافقت سے کام نہیں لیا۔ ہمیشہ سچی اور کھری بات کی۔ حق بات کرنے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ صوفی محمد کی ’’نفاذ شریعت‘‘ نامی تحریک، سوات میں بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ مینگورہ کے سہراب خان چوک میں سیاسی جلسہ ہورہا تھا۔ اُس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ لوگوں نے میاں گل اورنگ زیب سے مطالبہ کیا کہ ہمیں سوات میں ’’نفاذ شریعت‘‘ اور ’’سوئی گیس‘‘ چاہیے۔ میاں گل اورنگ زیب نے صاف لفظوں میں بتایا کہ نفاذ شریعت کا مسئلہ پیچیدہ ہے، یہ نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ کسی بھی ملک میں بہ یک وقت دو قانون ممکن نہیں ہیں اور سوئی گیس کا سوات لانا، نا ممکن نہیں، ممکن ہے۔ سوات میں سوئی گیس کی ترسیل بھی ایک مشکل کام تھی اور یہ سوات کے اس وقت کے ایم این ایزاور ایم پی ایز کے بالکل بس کی بات نہیں تھی، لیکن میاں گل اورنگ زیب کو اپنی طاقت کا اندازہ تھا۔ اس لیے وہ اس کو مشکل نہیں سمجھتے تھے۔ الیکشن جیتنے سے پہلے اپنے ایک سیاسی جلسے میں عوام سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے کہ یہ میرا آخری الیکشن ہے۔ چاہے ہار ہو یا جیت۔ دوبارہ الیکشن نہیں لڑوں گا۔ کیوں کہ میری عمر اس وقت ستر سال کے قریب ہے۔ اب اس کے بعد میں کیا الیکشن لڑوں گا۔ اگر ووٹ دیا، تو اچھا۔ نہ دیا تو بھی اچھا۔
وہ ایک صاف گو انسان تھے۔ منافقت ان میں نہ تھی۔ دوسرے سیاست دانوں کی طرح عوام سے جھوٹے وعدے کرکے ووٹ نہیں بٹورتے تھے۔ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں بڑے بڑے کام سرانجام دیے جیسے سوات میں سیدوشریف ائیر پورٹ کی منظوری اور اس کی تعمیر، سوات کے لیے سوئی گیس کی منظوری، سوات کی سڑکوں کی خوب صورتی کو قائم رکھنے بارے اقدام، سوات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ خیبر پختون خوا کے دوسرے اضلاع کی نسبت نہ ہونے کے برابر، سوات کے باسیوں اور سیاحوں کے لیے اس جنت نظیر وادی کو امن کا گہوارہ بنائے رکھنا اور اس قبیل کے دیگر کار ہائے نمایاں سوات میں میاں گل اورنگ زیب ہی نے انجام دیے، لیکن میاں گل اورنگ زیب نے ان کی وجہ سے اپنا نام بنایا اور نہ اپنے سیاسی جلسوں میں اس کا تذکرہ ہی کیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سوات کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔ اپنے گھر میں کام کرکے آدمی فخر تو محسوس کرسکتا ہے، اسے گھر کے دیگر لوگوں پر احسان نہیں گردانتا۔ ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر دوسرے گھروں سے خوب صورت ہو اور اس کے بچے بھوکے پیاسے نہ ہوں۔ نیز اس کے بچوں کے تن بے لباس نہ ہوں اور وہ اچھے تعلیم یافتہ ہوں، برسرِروزگار ہوں، کسی چیز کے محتاج نہ ہوں۔ اس طرح بچوں کا بھی کچھ حق بنتا ہے کہ اپنے والد کو والد کی نظر سے دیکھیں۔ یہ نہیں کہ اس کی ولدیت سے ہی مکر جائیں۔ جیسے سوات کے کچھ لوگوں کی طرح، جو کہتے ہیں میاں گل اورنگ زیب نے سوات کے لیے کیا کیا ہے اور اُن کے کیے ہوئے کام دوسرے سیاست دانوں کے نام کرتے ہیں اور اپنے اس ہم درد راہ نما پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔
حقیقت سے بے خبر ان لوگوں کو میں یہ دکھانا چاہتاہوں کہ میاں گل اورنگ زیب بہ حیثیت ولئی عہد ریاست سوات، ممبر قومی اسمبلی گورنر صوبہ سرحد (اب خیبر پختون خوا) انھوں نے سوات کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ چاہے وہ سوات میں موجود ہوتے یا نہیں لیکن سوات کی بات ہوتی یا پھر سوات کے کسی فرد کی۔ کوئی بھی ان کے پاس جاتا، تو فوراً ان کا کام کردیتے، بغیر کسی لالچ کے۔ ثبوت کے طور پر یہاں ایک حوالہ دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ قمبر رحمان آباد کا ایک شخص جس کا نام آفرین خان ہے اور رحیم آباد یونین کونسل کا سابقہ ناظم ہے، ادب سے لوگ اسے خان لالا پکارتے ہیں۔ وہ ہر وقت اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ہمارے ایک دوست عبدالغفار کے دفتر آتا ہے۔ ہم چند دوست مذکورہ دفتر میں اکٹھے ہوا کرتے ہیں۔ اپنی باتوں کے علاوہ سیاسی اور ملکی صورت حال پر ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں۔ ایک دن آفرین خان لالا آئے ہوئے تھے۔ سیاسی بحث پر گفت گو ہورہی تھی۔ گفت گو میں حصہ لینے والے دوست سیف الاسلام خان ایڈووکیٹ، آفتاب خان، خائستہ محمد ٹھیکہ دار اور اسماعیل وغیرہ تھے۔ ہمارے ایک دوست جس کا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق ہے، میاں گل اورنگ زیب کو بے جا اپنی تنقید کا نشانہ بنارہے تھے۔میں اس کی غلطیوں کی نشان دہی کراتا لیکن وہ اپنی بات پر اڑا رہتا۔ آفرین خان لالا چپ نہ رہا۔ اس نے غصہ ہوکر کہا کہ میاں گل اورنگزیب نہ ہوتے، تو شاید آج میں بھیک مانگ رہا ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ یہ انیس سو ستانوے اٹھانوے کی بات ہے کہ میرے بیٹے حیدر علی اور بھائی بخت روخان نے لوگوں سے ویزوں کے لیے بارہ لاکھ روپے لیے تھے اور یہ رقم کراچی کے ایک آدمی کو دی تھی کہ لوگوں کے لیے ویزوں کا بندوبست کیا جاسکے۔ اس آدمی نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔ ویزے مہیا کیے گئے اور نہ رقم ہی واپس مل رہی تھی۔ لوگ ہمارے دروازے پر آتے اور اپنے ویزوں کا ڈیمانڈ کرتے۔ ہمارے پاس انھیں دینے کے لیے پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی۔ حیدر علی اور بخت روخان فیصلہ کرکے اس شخص کے پیچھے کراچی چلے گئے لیکن وہ ویزے دینے کو تیار تھا اور نہ رقم ہی دینے کو۔ میرے بیٹے حیدر علی نے گھر فون کرکے ماں کو روتے ہوئے بتایا کہ اب کیا ہوگا؟ شام کو میری بیوی نے مجھے بتایا کہ مسئلہ پیچیدہ ہے۔ وہ شخص بہت طاقت والا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ کراچی کے بجائے میاں گل اورنگ زیب کے پاس اسلام آباد چلا جاؤں۔ حیدر علی کو بھی فون کرکے بتایا کہ آپ لوگ کراچی سے اسلام آباد آجائیں۔ ہم سب میاں گل اورنگ زیب کے بنگلے پر اکھٹا ہوئے اور اُن سے ملاقات کی۔ اُن کو ساری بات بتائی۔ وہ غصہ ہوئے اور کہا کہ تم نے تو پورے سوات کو تباہ کر دیا۔ ستّر خاندانوں کو برباد کردیا۔ بخت روخان نے جب یہ سنا، تو وہ گیٹ کی طرف روانہ ہوا لیکن میاں گل اورنگ زیب نے غصے سے آواز دی کہ واپس آؤ۔ عدنان اورنگ زیب ہم سے دور ایک طرف کھڑا تھا۔ باپ نے اشارہ کیا ادھر آؤ۔ بیٹے نے حکم کی تعمیل کی۔ میاں گل اورنگزیب نے عدنان کو کہا کہ اس آدمی کو فون کرکے صاف بتادو کہ میاں گل اورنگ زیب کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو نقد روپے دے دو۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ عدنان اورنگ زیب نے فون کے بعد ہمیں بتایا کہ جائیں اور اپنی رقم اُس دھوکے باز سے واپس لے آئیں۔ اگر آپ سے وہ وقت لینا چاہے، تو بالکل مت دیں اور اپنی رقم واپس لے کر ہی لوٹیں۔القصہ ہمیں اُس آدمی نے جن سے ہم ایک پیسہ بھی وصول نہیں کرسکتے تھے، میاں گل اورنگ زیب کے کہنے پر 12 کی جگہ 14 لاکھ لاکر بہت خوشی سے سوات لوٹ آئے۔
یہ تھا میاں گل اورنگزیب کا ایک چھوٹا سا کام۔ اس طرح کے ہزاروں کام انھوں نے سوات اور سواتیوں کے لیے کیے ہیں جن کا حوالہ دینا یہاں ممکن نہیں۔
میاں گل اورنگ زیب اب ہم میں نہیں ہیں، لیکن اُن کی کمی سوات کے لوگ ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے اور لوگ ہمیشہ اُن کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔اللہ اُن کو جنت الفردوس عطافرمائے، (آمین)۔
1,235 total views, no views today


