بریکوٹ ( سہیل باچہ سے )بریکوٹ میں آسیہ مسیح کے رہائی اور مولانا سمیع الحق کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،مشتعل مظاہرین نے آسیہ مسیح کے رہائی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ، احتجاجی مظاہرے سے سابق ممبر صوبائی اسمبلی مولانا نظام الدین ، جے یو ائی کے رہنما شاہی نواب باچا ، سید علی باچہ ، علی خان ،بازار ٹریڈیونین صدر معراج الدین و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توہین رسالت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں،ناموس رسالت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اوراس پر جان بھی قربان ہے ،سپریم کورٹ نے فیصلہ جلد بازی میں کی، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور مسلمانوں کی جزبات مجروح ہونے سے باز آجائیں، مقررین نے کہا کہ پیارے پیغمبر کے شان رسالت میں گستاخی کرنے والے پھانسی کے مستحق ہیں، مگر سپر یم کورٹ اسیہ مسح کو بری کر کے مسلمانوں کے جذبات کو للکار ہے۔ اس قسم کے غیر سنجیدہ اور غیرمسلموں کے مرضی کے مطابق فیصلے کر تے ہیں جو ہمیں کسی صورت میں منظور نہیں ہے انہوں نے پاکستان اسلام کے نام پر معروض و جود میں آیا ہے،گستاخ اسیہ مسح کو سیشن کورٹ اور ہا ئی کورٹ نے سزائے موت کی سزا سنا ئی مگر سپر یم کورٹ نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہو ئے گستاخ رسول اسیہ مسح کو باعزت بری کردیا۔ جو پاکستانی قوم کو کسی صورت میں منظور نہیں۔، مظاہرین نے کہا کہ مولانہ سمیع الحق کے قتل پر عالم اسلام ایک جید عالم دین سے محروم ہو گیا ، انکی شہادت وطن عزیز کیخلاف بہت بڑی عالمی سازش ہے وہ ہمیشہ ملک میں قیام امن کیلئے کوشاں رہے وہ ایک امن پسند انسان تھے ،انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق اتحاد امت کے بڑے داعی تھے اور اس وقت ملک و قوم کو اتحاد امت کی سخت ضرورت ہے ، مولانا سمیع الحق کی مظلومانہ و بہیمانہ شہادت پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے مولانا سمیع الحق کی شہادت امن اور انسانیت کا قتل ہے۔مظاہرین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ آسیہ کوسزائے موت اور مولانا سمیع الحق کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتا ر کیا جائے ۔
1,786 total views, no views today



