انٹرویو : شاہ اسد علی + ارشد علی خان
عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی وقار خان کسی تعارف کے محتاج نہیں ، موصوف ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور سوات کی سیاست میں اس سیاسی خاندان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ سوات میں قیام امن کیلئے ان کے خاندان نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں سوات میں امن کا چراغ روشن کرنے کیلئے ایک درجن کے قریب جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان کے رہائشی مکانات ، حجروں اور دیگر جائیداد کو تباہ کرکے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا قیام امن کیلئے اس خاندان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے قربانیوں کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی قیام امن کیلئے قربانیاں دینے کے بعد اس خاندان نے بحالی اور تعمیر وترقی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس خاندان کے سیاسی مشر اور حسین احمد المعروف خان نواب علاقے کے ایک ہر دلعزیز اور جانی پہچانی شخصیت ہے ان کے حوصلے سے پورے خاندان کو حوصلہ ملا اور قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اس خاندان کے ایک نوجوان خدائی خدمتگار وقار خان نے جب ضمنی الیکشن میں حصہ لیا تو حلقہ پی کے 7 کے لوگوں نے ان کے حق میں ووٹ استعمال کرکے ان کوکامیاب کرایا

اے این پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے وقار خان سوات سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے واحد ایم پی اے ہے وہ جذبہ خدمت خلق سے سرشار اور عوام کے دلوں پرراج کرنے والے عوامی نمائندہ ہے ضمنی الیکشن میں ان کو اپوزیشن جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور کامیابی کے بعد وہ خود کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں میں شامل تمام جماعتوں کا نمائندہ کہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے تمام کارکنوں کو ساتھ لیکر چلیں گے وقار خان حلقہ کی تعمیر وترقی اور عوام کو مسائل و مشکلات کے دلدل سے نکالنے کیلئے پر عزم ہیں ان سے آزادی ایڈیشن کیلئے ایک خصوصی انٹرویو کا اتفاق ہواجو نذر قارئین ہے وقار خان نے سب سے پہلے اپنی کامیابی کو علاقے کے ہر فرد کی کامیابی قرار دی اور تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں ، ذمہ داروں اور عہدیداروں اور ہم خیال لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کے انتخابی اتحاد میں شامل تھے وقار خان نے کہا کہ میں اتحادی جماعتوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنوہں نے الیکشن کے دوران میرا بھر پور ساتھ دیکر مجھے جتوایا ہے

انہوں نے کہا کہ اب ان اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈ اتحادی جماعتوں کے باہمی مشاورت سے خرچ کریں گے اس مقصد کیلئے یونین کونسلوں کی سطح پر مشترکہ کمیٹیوں کا قیام لا کر ان کے ذریعے ترقیاتی فنڈ خرچ کرینگے انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ہر کام میں اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کریں گے اور جو بھی ہو سب لوگوں کے سامنے ہو گا انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام اور اتحادیوں نے جس بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے کوشش کرینگے کہ ان کے اعتماد پر پورا اُتر سکے انہوں نے کہا کہ کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ عوام کی بلا تفریق خدمت ہی میرا ایجنڈا ہے اور ہماری سیاست کا محور بھی لوگوں کی خدمت ہے انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں حلقہ میں ریکارڈ کام ہوئے آج بھی ہم پر عزم ہے انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی میرا مشن ہے اور خود کو اس مقصد کیلئے وقف کر رکھاہے انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہر فورم پر آواز اُٹھائیں گے اور علاقے کی پسماندگی دور کرنے میں اپنا کردار اد ا کرینگے انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ علاقے میں صحت و تعلیم اور سڑکوں کا جال بچھانے میں وہ کردار ادا کریں گے جو ہمیں ادا کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے عوامی محرومیوں کا ازالہ کریں گے انہوں نے کہا کہ بحیثیت عوامی نمائندہ عوام کو تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کرینگے پہلے بھی عوام کی خدمت کی ہے اور اب بھی اللہ تعالیٰ نے جوموقع دیا ہے وہ موقع ضائع کئے بغیر لوگوں کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ ہم تنقید برائے تنقید کے حق میں نہیں تنقید برائے تعمیر کرکے علاقائی مسائل حکومتی ایوانوں میں اُٹھائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت نے علاقے کی تعمیروترقی کیلئے جو اعلانات کئے ہیں ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے جس کا وزیراعلیٰ نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے

صحت وتعلیم، صاف پانی اورسڑکوں کے حوالے سے جواعلانات کئے گئے ہیں ان کو عملی جامہ پہنانے میں اپناکرداراداکریں گے ، تعلیمی ایمرجنسی کوعملی کرنے کیلئے تحصیل کبل کے بالائی علاقے میں گرلز وبوائے ڈگری کالجز کا قیام ناگزیرہے، وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران علاقے کے مسائل اٹھائے ہیں جس کے حل کی بھرپور یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ سوات سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ سے توقع ہے کہ وہ سوات کو مسائل کے دلدل سے نکال باہرکریں گے۔انہوں نے کہا کہ حلقہ پی کے 7کے بالائی علاقوں کے 6یونین کونسلز پسماندہ علاقوں پرمشتمل ہیں۔ جہاں صحت وتعلیم ، پینے کے پانی اور سڑکوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصرت تا لانگڑ مین شاہراہ جوکہ ادھورا رہ گیاہے۔ جس کے لئے 19کروڑ روپے منظورہوئے تھے۔ اور گزشتہ حکومت میں اس پر 7کروڑ روپے خرچ کی گئی ہے۔لیکن اب یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا ہے ، لہٰذا حکومت یہ منصوبہ فوری طورپر مکمل کریں۔ جبکہ لانگڑ ،مانڑئی، گودا ، دردیال ، قلاگے ، نصرت، سربالا سمیت دیگر علاقوں کے مین سڑکوں کی فوری تعمیر بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ کے سامنے حلقہ پی کے 7کے مسائل رکھ دئے ہیں جس پر وزیراعلیٰ کی طرف سے بھرپور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ اس طرف بھرپور توجہ دیں گے۔ اور ہمیں امید ہے کہ چونکہ وزیراعلیٰ کا تعلق سوات سے ہے اور وہ ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انشاء اللہ انہوں نے اس بارے جو یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کو عملی طورپرثابت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعلیٰ کی توجہ علاقے میں ٹریفک مسئلے کی طرف مبذول کرایاتھا اور دوپلوں کی تعمیرکامطالبہ کیاتھا۔ جو وزیراعلیٰ نے منظور کرایاہے۔ اور آئندہ اے ڈی پی میں شامل کیاگیا ہے۔ تحصیل کبل میں دریائے سوات پر دوپلوں کوتعمیرکرکے ٹریفک کادباؤ کم کردیاجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے اور ترقیاتی فنڈ بھی باہمی مشاورت کے ذریعے خرچ کریں گے ۔ ہریونین کونسل کی سطح پر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پرمشتمل کمیٹیاں بنائیں گے۔ تاکہ ترقیاتی فنڈ باہمی مشاورت کے ذریعے خرچ کیاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیاہے انشاء اللہ بحیثیت عوامی نمائندے پورے سوات کا مقدمہ اسمبلی فلور پر بہتراندازمیں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی قائدین اس حوالے سے میرے رہنمائی کریں گے۔

1,813 total views, no views today



