سوات (سوات نیوزڈاٹ کام) سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے بائی پاس فلائی اوور منصوبے کونقصان دہ قراردیتے ہوئے وزیراعلیٰ اورپی ٹی آئی حکومت سے فوری نظرثانی کامطالبہ کیاہے ، بائی پاس فلائی اوور منصوبہ کاروباری طبقہ اوراہل علاقہ نے مستردکردیاہے ۔ اورکسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے ، جس سے لوگوں کو نقصان اور معاشی قتل ہو، ان خیالات کااظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمودخان اورممبران اسمبلی اس حوالے لوگوں کے احساسات اورتحفظات کو مدنظررکھتے ہوئے عوامی مطالبے پر اس منصوبے کے متبادل سڑکوں کی تعمیرکویقینی بنائیں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ حکومت خیبرپختونخوا نے مینگورہ بائی پاس پراربوں روپے کی خطیرلاگت سے فلائی اوور بنانے کی منظوری دی ہے ، اورجلد ہی اس منصوبے پرکام کاآغاز ہونیوالا ہے ۔ جس پر مینگورہ بائی پاس میں کاروباری لوگوں اوراس منصوبے سے متاثرہونیوالوں اہل علاقہ تحریک انصاف کے ضلعی کونسلر شوکت علی تحصیل کونسلر شاہدعلی خان، لوکل کونسلر اورمقامی عمائدین ہوٹل ایسوسی ایشن اوراہل علاقہ کی شدید تحفظات ہیں اورخدشہ ظاہرکیاہے کہ اگرفلائی اوورمنصوبے کوعملی کیاگیاتو اس سے نہ صرف قیمتی اراضی کونقصان ہوگا بلکہ اس سے سینکڑوں افراد بھی بیروزگارہوجائیں گے واضح رہے کہ مینگورہ بائی پاس فلائی اوورجوکہ ایک کلومیٹرہے اس کے نیچے آنیوالا کاروبار اوراراضی ہوٹل ، کمرشل پلازے ، پٹرول پمپ اوردیگر کاروباری مراکز ختم ہوکر رہ جائیگا اوراب جبکہ حکومت نے کبل اورننگولئی میں دوپلوں کی منظوری دی ہے توپھراس اربوں روپے کے منصوبے کی کوئی ضرورت نہیں رہی ۔ یہاں قابل ذکربات یہ ہے کہ سوات میں ویسے بھی بڑھتی ہوئی بیروزگاری نے لوگوں سے جینے کا حق چھین لیاہے تاہم لوگوں نے نجی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ اس طرح مینگورہ بائی پاس پرقائم ہوٹلوں کیوجہ سے بائی پاس میں لوگوں کوتفریحی مواقع بھی میسرہیں۔ اوربائی پاس اس وقت فوڈ اسٹریٹ میں تبدیل ہوچکاہے ۔ جہاں شام کے وقت مقامی لوگ اورسیاح آکرسکون محسوس کرتے ہیں۔ مینگورہ اورگردونواح کے لوگوں کے تفریح کاواحد علاقہ اب بائی پاس ہے جو لوگوں کواپنی طرف کھینچ لاتاہے مینگورہ بائی پاس کے ان ہوٹلوں اوردیگر کاروباری مراکز میں ایک محتاج اندازے کے مطابق ہزاروں افراد برسرروزگارہے جبکہ سرمایہ کاری کرنیوالوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کرکے یہاں روزگار شروع کیاہے اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سالوں سے مینگورہ بائی پاس کافوڈ اسٹریٹ اوردریائے سوات کے کنارے پکنک پوائنٹس لوگوں کی توجہ کامرکز بن گئے ہیں اور پورے صوبے اورملک سے لوگوں کی آمدکاسلسلہ جاری رہتاہے جہاں لوگوں کوروزگار کے مواقع میسرہونے کیساتھ علاقے میں مقامی سطح پر سیاحت کوبھی فروغ مل رہاہے
1,004 total views, no views today



