میرے خیال میں سوات کے عوام کی تقدیر جاگنے والی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوات کا دانشور اور لکھا پڑھا طبقہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ سوات کے ادغام پاکستان کے بعد چالیس سال میں سوات کے عوام نے کیا کھویا اور کیا پایا اور یہ بات میں اس لئے محسوس کررہا ہوں کہ اکثر اخبارات میں سوات کے بے پایا مسائل کا ذمہ دار موجودہ موروثی سیاست اور سیاستدانوں کو ٹہرایا جاتا ہے مگر یہ سوچ ابھی تشنہ لب ہے کہ اس بھنور سے سوات ،اہل سوات اور خود کو کیسے نکالا جائے میرے خیال میں ان چالیس پنتالیس سال میں سوات نے سب کچھ کھودیا مگر پایا کچھ نہیں یہ جو لوگ ریاست کے دور میں امن وامان، مفت اور معیاری تعلیم کے قصے سناتے ہیں یہ سب باتیں سچ ہیں صحت کے بارے میں اور قانون کی پاسداری کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں بھی ذرہ بھر مبالغہ نہیں انسان تو انسان چرند پرند بھی امن سے رہ رہے تھے مجھے یاد ہے کہ جنگلی پرندے تیتر (تنزری، زرکی) صبح کے وقت ابادی کے بلکل نزدیک بے خوف خطر چگتے رہتے تھے جنگلی بکرے اور خرگوش وغیرہ بھی پہاڑی آبادی کے قریب چرتے رہتے تھے۔ اگر یہ سب لکھنے بیٹھ جاؤ تو کتابیں لکھ ڈالوں لیکن سوات کی کہانی ختم نہیں ہوگی قصے کہانیاں سنانے کا کوئی فائدہ نہیں صرف پدرم سلطان بود کا محاورہ بن جائیگا مگر یہ سمجھ لیجئے ۔
؎ دا آزادی دا آبادی د وطن د یو سو ٹکو پہ تحریر نہ کیگی وینہ د تن ورسرہ مل چی نہ وی خدمت د قام تش پہ تقریر نہ کیگی
سوات کے عوام کو عرصہ سے کسی مسیحا کی تلاش ہے اور اس تلاش کے نتیجہ میں کتنے سیاسی سیاح سوات آئے اور یہاں سے سو فیصد ووٹ لے لیا اور پھر سوات ہی کے مینڈیٹ سے صوبائی حکومت بنا کر سوات کے عوام کو بھول گئے اور اس کی مثال گذشتہ تین الیکشن ہیں چاہے ایم ایم اے ہو یا اے این پی اور یا پھر موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کسی بھی ضلع سے اتنے کامیاب ممبران نہیں ملے جتنے سوات سے ملے مگر افسوس کہ سوات کو ان تینوں حکومتوں میں کچھ بھی نہیں ملا بس یہی کہ سوات کو ایک لیبارٹری کے طور پر استعمال کیا گیا اور ہر قسم کے تجربے کئے گئے بدلے میں سوات کے عوام کو محض زلالت اور خواری کے کچھ نہ ملا سات ممبران اسمبلی ایم ایم اے، اے این پی اور پی ٹی آئی کو سوات نے دئے مگر افسوس کہ وزیراعلی بنوں، مردان اور نوشہرہ سے لئے گئے کتنا تضاد ہے موروثی پارٹیوں کی برائے نام جمہوری سوچ میں اور رویوں میں منہ زبانی سب یہی کہتے ہیں کہ سوات کے عوام نے ملک اور آئین بچانے کے لئے بےشمار قربانیاں دی ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں مگر افسوس ان قربانیوں کے بدلے جو اربوں ڈالر باہر سے آئے وہ شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کرلئے گئے اور سواتیوں کو صرف طفل تسلی دیتے رہے
قارئین کرام میں مزید آپ کا وقت خراب نہیں کرونگا کیونکہ جو کچھ میں بیان کررہا ہوں وہ سب آپ پرہی گزری باتیں ہیں اور آپکو معلوم بھی ہیں جو آپکو نہیں معلوم اسکا میں ذکر نہیں کرونگا مگر اتنا ضرور کہونگا کیا ہم ہمیشہ فریاد کرتے رہینگے اور دوسروں پر تنقید کرکے خود کو بری الذمہ قرار دیتے رہینگے یا اس جنت نظیر وادی کا حق ہم پر کچھ بڑھ کر ہے اس جنت میں دوزخیوں کی طرح زندگی گزارنے والے مظلوموں کی دادرسی ہم پر فرض ہے یہ بھٹکی ہوئی قوم جو کبھی ایک پارٹی کی جھولی میں سکون تلاش کرتی ہے تو کبھی دوسری پارٹی کی اور ملتی ہے تو صرف مایوسی، محرومی اور تشنگی۔ میں ہر باشع ور، صاحب حیثیت سواتی فرزندوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے آئیے اور ان بھٹکے ہوئے سیاسی ورکروں کی رہنمائی کریں اور ان کو راستہ دکھائیں ائیے سوات کی عوام کو متحد کرکے صرف سوات کی ترقی کے لئے استعمال کریں جس طرح کراچی میں مہاجر ایم کیو ایم کے نام پر ایک ہوئے اور اپنی قوم کو تمام پارٹیوں سے کھینچ کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور بہت کم عرصہ میں پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن گئے تو پھر سوات اپنے سات صوبائی سیٹوں کے ساتھ کیوں پریشر گروپ نہیں بن سکتا۔۔ ذرا سوچئے
954 total views, no views today


