سوات، پاکستان کی پہلی اور پشتونوں کی واحد کم عمر لڑکی ملالہ یوسفزئی کو دنیا اہم ترین نوبل پیس پرائز سے نوازا گیا، ایوارڈ ملنے کے بعد ملالہ یوسفزئی کے ابائی شہر مینگورہ میں جشن کا سماں ہے ، جوں ہی ملالہ یوسفزئی کے نام کا اعلان ہوا تو اہلیان سوات اپنے گھروں سے نکل ائے اور ملالہ یوسفزئی کو خراج تحسین پیش کیا، اس موقع پر لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ایوارڈ نہ ملنے پر
لوگوں کو کافی مایوسی ہوئی تھی لیکن اس سال ملالہ کو ایوارڈ ملنے پر ہمیں بے حد خوشی ہے، بچوں ، بڑوں اور نوجوانوں نے گلی کوچوں میں مٹھائیاں بانٹی اور ان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ملالہ کو عالمی شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب سوات کشدگی کے دوران انہوں نے لڑکیوں کے تعلیم کے لیئے اواز اٹھائے۔ بعد میں 9اکتوبر 2012کو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئی ۔ ملالہ سوات میں واحد کمسن لڑکی تھی جس نے طالب ئزیشن کے وقت لڑکیوں کے تعلیم کیلئے اواز اٹھائی۔ملالہ یوسفزئی کے استاد فضل خالق نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو نوبل پرائز ملنا سوات کیلئے ایک اعزاز ہے جس پر پوری قوم اور اہلیان سوات فخر محسوس کررہے ہیں ، ملالہ یوسفزئی کے فیمبلی ممبر احمد شاہ نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کاسوات کیلئے بہت بڑی قربانیاں ہیں، انہوں نے کشیدگی کے دوران تعلیم کے حق میں اواز بلند کی اور اب وہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے کام کررہی ہے ، انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو نوبل پرائز ملنے پر بہت خوشی محسوس کررہے ہیں ۔ملالہ کی کزن محمو د حسن نے کہا کہ آج ہمارے خاندان میں جشن ہے اور پورا خاندان خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ، انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی نے نہ صرف سوات ، پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ انہوں نے یوسفزئی قوم کا سر بھی فخر سے بلند کیا ہے ۔
458 total views, no views today


