* ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام ملنا پاکستان کے لیے قابل فخر بات ہوگی لیکن عوام میں کچھ اور قسم کے پریشان کن سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، مثلاً یہ کہ کیا اسرائیل اور امریکہ عمران خان سے مایوس ہو گئے؟ کیا وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی اگلی وزیراعظم ملالہ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟
ملالہ یوسف زئی نوبل انعام پانے والی پہلی پاکستانی مسلمان ہیں۔ ان سے پہلے ایک پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی یہ انعام ملا جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔
بہ طور مسلمان دیکھا جائے، تو ملالہ کے بعد نوبل انعام پانے والے مسلمانوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔ نوبل انعام کے ادارے کے مطابق یہ تعداد گیارہ ہے، کیوں کہ وہ ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی مسلمانوں کے کھاتے میں گنتے ہیں۔
سب سے پہلا نوبل امن انعام مصر کے صدر آنجہانی انوار السادات کو ملا۔ یہ انعام انھیں اسرائیل کو تسلیم کرنے، فلسطین کے کاز سے دست بردار ہونے اور اسرائیل سے اسٹریٹجک اتحاد پر ملا۔ اس دوران میں انھوں نے مصر کے بنیاد پرست مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرکے بھی مغرب کی نظروں میں اپنا مقام بنایا۔ اس انعام میں وہ اسرائیل کے وزیراعظم مناہم بیگن کے ہم شریک تھے۔ دوسرا انعام فلسطین کی تنظیم آزادی کے راہ نماآنجہانی یاسر عرفات کو اس وقت ملا جب وہ اپنے قدیمی مؤقف سے دست بردار ہو کر اسرائیل کے ماتحت رہتے ہوئے فلسطینیوں کو یہودیوں کی باج گزار قوم بنانے پر تیار ہوگئے۔تیسرا انعام ایران کی شیریں عبادی کو ملا۔ یہ خاتون انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور ہم جنسی پرستی کی پر جوش حامی یعنی روشن خیال تھیں۔ انعام انھیں بہ ظاہر انسانی حقوق کے نام پر دیا گیا لیکن اگر مؤخر الذکر خوبی نہ ہوتی، تو بہت مشکل تھا کہ انھیں یہ انعام مل پاتا۔ پاکستان کی محترم خاتون عاصمہ جہانگیر کی انسانی حقوق کی خدمات شیریں عبادی سے کہیں بڑھ کر ہیں لیکن نوبل انعام کے لیے درکار خصوصی صفات ان میں نہیں چناں چہ انھیں یہ انعام نہیں مل سکتا اور نہ ہی محترمہ آمنہ جنجوعہ کو مل سکتا ہے جن کی انسانی حقوق کی خدمات کا مقابلہ شاید ہی کوئی دوسری خاتون کر سکے۔ انھوں نے تو پولیس اور خفیہ اداروں کا وحشیانہ تشدد بھی برداشت کیا۔ وہ چوں کہ اسلام پرست بھی ہیں، یعنی تاریک خیال، اس لیے نوبل انعام کے اردگرد ان کا نام پھٹک بھی نہیں سکتا۔ چوتھا انعام مصر کے محمد البرادی کو ان کی پرامن ایٹمی خدمات پر ملا۔ ان کا اصل کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے عراق کے ’’تباہ کن ہتھیاروں‘‘ کی وہی مخبری کی تھی جو امریکہ چاہتا تھا۔ انھوں نے مصر کو امریکی کالونی بنانے کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ پانچواں انعام بنگلہ دیش کے گرامین بینک کے محمد یونس کو دیا گیا۔ موصوف بنگلہ دیش میں جمہوریت کے خلاف عالمی اسکرپٹ رائٹرز کے منصوبے کے بنیادی مہرے تھے۔ انھوں نے بنگلہ دیش میں بھارت نواز عناصر کی پر شور واپسی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا۔ چھٹا انعام یمنی خاتون توکیل کرمان کو ملا۔ انسانی حقوق کی اس پرجوش کارکن نے یمن میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ان تھک محنت کی۔ ساتواں انعام (ادب) مصر کے نجیب محفوظ کو ملا۔ وہ بہت بڑے ادیب تھے اور اسرائیل کے پر جوش عاشق۔ انھیں مصر کے اندر یہود دشمن عناصر کی ناراضگی کا سامنا رہا۔ آٹھواں انعام (ادب) مصر کے ایک اور بڑے ادیب اور رجحان ساز ڈرامہ نگار توفیق الحکم کو ملا۔ توفیق الحکم مشہور مائسوگائنسٹک Misogynistic شخص تھے۔ عربی میں اس کا ترجمہ عدو المراۃ یعنی عورت دشمن کیا جاتا ہے۔ آپ عورتوں سے امتیاز برتنے، ان پر ہر طرح کے تشدد کو روا رکھنے اور استحصال کے بعد انھیں اٹھا پھینکنے کے پر جوش حامی اور وکیل تھے۔ البتہ بعد ازاں آپ نے اس نظریے سے علانیہ تو نہیں عملاًرجوع فرما لیا، اس طرح کہ ایک خاتون سے شادی کر لی۔ مصر میں ڈرامے کی تجدید اور احیا کے لیے آپ کی خدمات بہت تاریخی ہیں۔ آپ نے الف لیلیٰ کے ایک باب شہر زاد پر ڈرامہ لکھا جو اصل سے بڑھ کر بے حجاب تھا۔ نویں نمبر پر بھی ایک مصری ہیں۔ یعنی احمد زویل جنھیں کیمسٹری میں خدمات پر انعام ملا۔ اس ایک نظر سے واضح ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو نوبل انعام دینے کا ’’خصوصی‘‘ معیار ہے۔
ملالہ کی تعلیمی خدمات ابھی تک پردۂ اسرار میں ہیں لیکن ان کا پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی پر جوش حامی ہونا بالکل آشکار ہے۔ وہ خود پاکستانی ہیں لیکن ان کے والد گرامی جیّد قسم کے اکھنڈ بھارتی ہیں۔ ملالہ کی سوانح عمری جس میں توہین رسالت کی گئی، ملالہ کی نہیں، انھی قابل احترام والد محترم کی تخلیق ہے۔ اب تو خیر سے وہ ’’بابائے پاکستان‘‘ بننے کے قریب ہیں۔ انعام ملتے ہی ان کی پہلی فرمائش تھی کہ انعام بانٹنے کی تقریب میں نریندر مودی اور نواز شریف یعنی دونوں ملکوں کے وزیراعظم موجود ہونے چاہئیں۔ نواز شریف بھی بھارت سے امن چاہتے ہیں اور اس بنا پر سیکورٹی حلقے انھیں سیکورٹی رسک قرار دیتے ہیں۔ ملالہ، نواز شریف سے آگے بڑھ کر بہت کچھ اور بھی چاہتی ہیں۔ خوش آئند بات ہے کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ملالہ کو پر جوش مبارک باد دی ہے۔ جس کے بعد امید بندھ گئی کہ امن کی گاڑی اب چل پڑے گی اور نواز شریف کو کچھ زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ان کی ذمہ داری ملالہ یوسف زئی، جو بالکل سیکورٹی رسک نہیں ہیں، نے لے لی ہے۔ ملالہ نے انعام لینے کے بعد کہا کہ قلم کی طاقت بندوق سے زیادہ ہے۔ اس پر اسے خوب داد ملی۔ یہی بات پرویز رشید نے کہی تھی اور داد کی جگہ بے داد پائی تھی۔ ثابت ہوا کہ کیا کہا گیا، یہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ کس نے کہا۔ اسی طرح اہم یہ نہیں کہ کوئی کیا کر رہا ہے؟ اہم یہ ہے کہ کون کر رہا ہے؟ مثلاً نواز شریف نے واجپائی کولاہور بلایا اور کرسی سے محروم کر دیئے گئے۔ مشرف نے آگرہ جا کر واجپائی کی پاپوش بوسی کی اور عظیم مدّبر کہلائے۔
مشہور مغربی نیوز ایجنسی رائٹر نے لکھا ہے کہ ملالہ کی عالمی پذیرائی بہت زیادہ ہے لیکن پاکستان میں اسے اچھوت Outcast مانا جاتا ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ امریکہ جب کسی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کرلے، تو ’’مقامی قوتیں‘‘ سارے راستے ہم وار کر لیتی ہیں۔ اچھوت آپ سے آپ اچھوت بن جاتا ہے۔ رائٹر کو چنداں فکر کی ضرورت نہیں۔ رائٹر نے لکھا ہے کہ فیس بک پر ملالہ کو سی آئی اے کی ایجنٹ بتایا جا رہا ہے۔ اس میں کیا خرابی ہے؟ سی آئی اے کا ایجنٹ ہونا کسی بھی محب وطن پاکستانی کے لیے اعزاز کی آخری معراج ہوا کرتا ہے۔ شک ہے، تو پاشا سے پوچھ لو، عمران سے پوچھ لو، طاہر القادری سے پوچھ لو، شاہ محمود قریشی سے پوچھو یا پاشا کارپوریشن کے کسی بھی تعلق دار سے پوچھ لو۔ عام پاکستانی کو اس معاملے پر کوئی تحفظات نہیں ہیں، اسے تو صرف یہ پریشانی ہے کہ عمران سے کیا غلطی ہوگئی کہ اس کا متبادل ڈھونڈ لیا گیا، بلکہ ڈھونڈ لی گئی۔ یا یہ کہ اگلی باری عمران کی، اس سے اگلی ملالہ کی!
* کراچی میں ایک فٹ پاتھ پر سوئی ہوئی ماں اور اس کے دو بچوں پر کوئی بے قابو گاڑی چڑھ گئی جس سے دونوں بچے ہلاک ہوگئے اور ماں زخمی ہو گئی۔
خبرکا مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں بچی ہر وقت یہ سوال پوچھ پوچھ کر تنگ کرتے رہتے تھے کہ ماں، دوسروں کی طرح ہمارا گھر کیوں نہیں ہے، ہم چارپائی کیوں نہیں خرید سکتے، ہم پتھروں پر کیوں سوتے ہیں؟ اب ماں ان کے سوالوں سے پریشان نہیں ہوگی، اگر زندہ رہی۔ ایک دور تھا جب پاکستانی اخبارات میں یہ بات فخر سے چھپتی تھی کہ بھارت میں کروڑوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں، ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔ پھر ’’ہماری جنگ‘‘ آگئی جو ملک کے سارے وسائل کھا گئی۔ اب بھارت میں دن بہ دن فٹ پاتھ پر سونے والوں کی تعداد کم سے کم اور ہمارے ہاں زیادہ سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔ بھارت میں غربت کی شرح تیس فی صد رہ گئی ہے، ہمارے ہاں ساٹھ فی صد ہوگئی ہے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، عمران خان، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، ملک ریاض، اعظم سواتی جیسے روشن ستارے بڑی تعداد میں ملک میں موجود ہیں جن کے مکانات، فارم ہاؤسزاور بنگلوں اور دیگر اثاثوں کی گنتی ان گنت ہے اور مزید ان گنت ہوتی جارہی ہے۔ ہم اُدھر سے کم زور ہیں، تو اِدھر سے طاقت ور بھی ہیں۔ زرداری کے بارے میں اسی طرح کی ایک حوصلہ افزا خبر دیکھیے، لاہور میں اس کے گھوڑوں پر ماہانہ ساڑھے چار کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے۔ بھارت والوں کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ (بہ شکریہ روزنامہ نئی بات)
728 total views, no views today


