مینگورہ، خپل کور ماڈل سکول کے پرنسپل محمد ثنا ء الحق قاضی نے گزشتہ روز ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خواہ کی حکومت سرکاری اور غیر سرکاری مدارس میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنا چاہتی تھی، وہ تو نہ ہو ا لیکن اس سے پہلے سال میں ایک مرتبہ ضلعی سطح پر تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے مابین سپورٹس ٹورنمنٹ منعقد ہوتا تھا، یہ کھیلوں کے مقابلے دوسرے مرحلے میں ڈویژنل اور پھر آخری مرحلے میں صوبے کے سطح پرمنعقد کیے جا تے تھے ،اسطرح اس ٹورنامنٹس کی بدولت صوبے سے بہترین کھلاڑی قومی سطح پرپہنچ کر صوبے کا نام روشن کرنے کا باعث بنتے تھے، لیکن جب سے صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے تب سے صوبے میں ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر ٹورنامنٹس سے پرائیویٹ سکولوں کوباہر کر دیا گیاہے، انہوں نے کہا کہ ان مقا بلوں کے زریعے پرائیویٹ سکول اور سرکاری سکولوں کے طلباء کم ازکم سال میں ایک دفعہ اکھٹا ہو ا کرتے تھے ،اور ان میں دوریاں ختم ہوتی تھی اور اس سے ان میں مقابلے کا رجحان اور زیادہ بڑھ جاتا ،انہوں نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کو سپورٹس ٹورنامنٹس سے نکالنا صوبے میں امن کو مزید خراب ہونے کے مترادف ہے دینی مدارس کے طلباء اور سکو لوں کے طلباء کے ما بین دوریا ں تو تھیں ہی (جو ان کے درمیا ن نفر ت کا باعث بھی تھیں ) اب سر کا ری اور غیر سر کا ری سکو لوں طلباء کے درمیان کھیلو ں کو منعقد نہ کرکے ان کے درمیان بھی یہ دوریاں اور فاصلے پیداکیے جا رہے ہیں ،جو امن کے لیے خطرے کا باعث ہو گا،لہٰذا حکومت جلد ازجلد اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیں اور ضلعی ، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سرکاری سکولوں کے ساتھ پرائیویٹ سکول اور مدارس کے طلباء کو شامل کرکے مثالی حکومت ہونے کے دعوے کو عملی جامہ پہنائیں ۔
708 total views, no views today


