سوات، صوبہ خیبر پختونخواہ کے تین سو سے زائد پبلک پراسیکوٹر شدید مسائل سے دوچار ،نہ سرکاری گھر ،نہ دفتر ،انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ ،صوبہ خیبر پختونخواہ میں تین سو سے زائد پبل پراسیکؤٹرز شدید مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں اور ملاکنڈ ڈویژن میں نہ تو انکے پاس دفاتر موجود ہے اور نہ ہی سرکاری رہایشن گاہ موجود ہے جس کے وجہ سے غریب لوگوں کو انصاف کی فراہمی کرنے والے خود کرائے کے گھروں میں مقیم ہوکر مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں ،جبکہ خطرناک کیسز میں پیروی کرنے کے وجہ سے انکی جانوں کو شدید خطرات بھی لاحق ہے جبکہ پولیس کی جانب سے سیکورٹی بھی فراہم نہیں کی جاتی اس سلسلے میں سوات کے سینئر پبلک پراسیکؤٹر سعید نعیم خان نے میڈیا کو بتایا کہ پورے صوبے میں دوسرے محکموں میں اپ گریڈیشن ہو چکی ہے اور ہمارا واحد محکمہ ہے جہاں پر اب تک نہیں ہوئی جبکہ زیادہ بوجھ بھی اس محکمے پر ہیں اور انصاف کا زیادہ انحصار بھی اس پر ہے انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں ڈسٹرکٹ اور سینئر پراسیکؤٹر کو سرکاری گاڑیاں اور دیگر مراعات ملی ہے جبکہ یہ واحد صوبہ ہے جنکا کام زیادہ ہونے کے باوجود ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے اور دیگر صوبوں میں الاونسیز بھی زیادہ ہے جبکہ ہماری نہ ہونے کے برابر ہے اور اسکے علاوہ دیگر محکموں میں گریڈ سترہ کے افیسر کیلئے گاڑی ،سٹینو،کمپیوٹر اپریٹر،جونیر کلرک ،نائب قاصد وغیرہ دئے گئے ہیں جبکہ اس اہم محکمے میں ایک پی پی کے پاس بھی انکے ستر فیصد مراعات بھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں سیکورٹی اس وجہ سے نہیں دی جاتی کہ محکمہ پولیس پراسیکؤٹر کو اپنے اوپر ایک بڑا بوجھ سمجھتے ہیں انہوں نے مذید کہا کہ دیگر محکموں کی طرح ون سٹیپ اپ گریڈیشن گریڈ سولہ سے بیس تک ہونی چاہیں اور تمام پوسٹوں کو اپ گریڈ کرنا چاہیں اور دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخواہ میں بھی مراعات دینے چاہیں اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت سے ضلع کے سطح پر دفاتر ،رہایشی کالونی ،مربوط سیکورٹی اور تمام تر سٹاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔
598 total views, no views today


