مینگورہ ، محکمہ تعلیم نے الف اعلان این سی ایچ ڈی اینیویٹویوتھ فورم ہلال احمر پاکستان کے تعاون سے پورے سوات میں 12 ستمبر سے سکول داخلہ مہم شروع کیا تھا جس کے تحت مینگورہ، چارباغ ،مٹہ ،خوازہ خیلہ ،مدین اور کبل میں ریلیاں اور سماجی رابطوں کے لئے تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا ، جس کا مقصد بچوں کو سکولوں میں داخل کرانا تھا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈی ای او ذولفقار ملک نے کہا کہ سکول داخلہ مہم میں سینکڑوں بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ تعلیم میں بہتری والدین او رسماجی طبقے کے بغیر نا ممکن ہیں انہوں نے کہا کہ سوات اہم مسئلہ بچوں کا درمیان میں سکول چھوڑنا ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ سکول جس میں استاد ہوتا ہے یہ مسئلہ زیادہ ان سکولوں میں ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ایسے سکولوں کو ہم استاد مہیا کریں گے جس سے بچوں کے تعلیم اور کارکردگی کو تقویت ملے گی ، تعلیم کے بہتری کے لئے کام کرنے والے ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ سکول داخلہ مہم میں کامیابی اب بھی ہم سے دور ہے ، انہوں نے کہا کہ اپر سوات خصوصاً گٹ پیوچار ، چپریال ، مانکیال اور مٹہ کے دوسرے علاقوں میں اب بھی والدین بچوں کے تعلیم کے حق میں نہیں ہیں ، ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ ہم بچوں کو سکولوں میں اس وقت داخل کراسکتے ہیں جب تک معاشرے کا ہر فرد اس میں اپنا کردار ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ سوات میں تعلیم کے دوسری مسائل کے ساتھ تعلیم کا معیار بھی ہے انہوں نے کہا کہ الف اعلان کے رپورٹ کے مطابق 146 اضلاع میں سوات 77 نمبر پر ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت پنجم کے صرف 21 فیصد بچے جماعت دوئم کے کتاب کی کہانی پڑھ سکتے ہیں ، جبکہ 18 فیصد بچے جماعت دوئم کے کتاب کے ریاضی کے سوالات حل کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ سوات میں صرف دو فیصد بچیاں ہائی سکول تک تعلیم مکمل کرتے ہیں ڈی جی این سی ایچ ڈی کے ریٹائرڈ کرنل ارشد درانی نے کہا کہ تعلیم کے بہتری کے لئے این سی ایچ ڈی 5000اساتذہ بھر تی کررہے ہیں جو کہ سوات کے علاوہ شانگلہ ، دیر لوئر اور پر دیر اورخیبر پختونخواہ کے دیگر علاقوں میں فرائض سرانجام دیں گے ،
764 total views, no views today


