مینگورہ، مینگورہ حاجی بابا چوک میں ٹریفک پولیس اہلکار کا غریب رکشہ ڈرائیور پر وحشیانہ تشدد، سر پھاڑ دیا، رکشہ ڈرائیور نے احتجاجاً سڑک پر لیٹ کر دو گھنٹے روڈ کو بند رکھا، باقی ڈرائیوروں نے پولیس کے ناروا روئیے کیخلاف رکشے حاجی بابا مین روڈ پر کھڑی کرکے مین حاجی بابا روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کردیا، ڈی ایس پی سٹی صدیق اکبرخان کا مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کے یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا گیا۔ روڈ دو گھنٹے سے زیادہ بند ہونے کیوجہ سے مینگورہ شہر کے تمام سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔مذکورہ پولیس اہلکار نے پانچ دن پہلے بھی پلوشہ مارکیٹ میں ایک معزز دکاندار پر لاتھوں گھونسوں کی بارش اور سنگین دھمکیاں دی تھی۔ گزشتہ روز مینگورہ کے گنجان چوک حاجی بابا میں ٹریفک پولیس اہلکار نے نامعلوم وجوہات کے بناء پر غریب رکشہ ڈرائیور عزیز الرحمن کو تشدد کا نشانہ بنا کر سر پھاڑ دیا جبکہ ہاتھ پر بھی چوٹیں ائی۔رکشہ ڈرائیور نے پولیس اہلکار کے ناروا تشدد کے خلاف احتجاجاً مین حاجی بابا روڈ پر لیٹ کر احتجاج شروع کردی جس پر باقی ڈرائیوروں نے بھی رکشے روڈ پر کھڑے کرکر احتجاج میں شریک ہوگئے اور پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کردیا۔ تقریبا دو گھنٹے ٹریفک پولیس نے رکشہ ڈرائیور کو منت سماجت کی مگر رکشہ ڈرائیور اپنے مطالبہ پر ڈٹا رہا بعد ازاں ڈی ایس پی سٹی نے حالات کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقع پر پہنچ گئے اور رکشہ ڈرائیور کو پولیس اہلکار کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے جبکہ ڈی ایس پی سٹی کے ہدایت پر تشدد سے زخمی ہونے والے رکشہ ڈرایور کو مرہم پٹی کیلئے ہسپتال منتقل کردیا۔رکشہ ڈرائیور کے احتجاج کیوجہ سے مین روڈ دو گھنٹے سے زائد بندہونے کیوجہ سے پوری مینگورہ شہر کے سڑکوں پر بد ترین ٹریفک جام رہا۔ مذکورہ پولیس اہلکار نے پانچ دن پہلے مینگورہ مین بازار کے قریب پلوشہ مارکیٹ میں ایک معزز دکاندار کو تشدد کا نشانہ بنا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھی۔
798 total views, no views today


