مٹہ سوات( سوات نیوزڈاٹ کام)دارالعلوم تحصیل مٹہ میں31طلباء کرام کے دستار بندی اور 8طلباء کے ختم مکمل ہوکرتقریب منعقد ہوئی۔روح پرور تقریب سے مہمان خصوصی مفتی غلام الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معاشرے کو ہر فیلڈ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے اوروہ مختلف اداروں سے ڈگریاں لیکر اپنے نوکریاں کرتے ہیں ۔ حکومت نے ان ڈگریوں کی حصول کیلئے بندوبست کیاہے لیکن علماء کرام کیلئے ان کے ساتھ کوئی پلاننگ نہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء بھی معاشرے کی ضروت ہے جو کہ مذہبی تربیت سے معاشرہ کو بہترین انسان دے سکتے ہیں،حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود یہ مدرسے علماء کرام بڑی تعداد میں فارغ کرتے ہیں،انہوں نے مذید کہا کہ جن کی نظریہ نہ ہو ان کولوگ رد کرتے ہیں،شعراء میں علامہ اقبال اور خوشحال خان خٹک بہت بڑے نام ہیں جو نظرئے کے تحت مقبول ہوئے ہیں انکے کتابیں ہیرے ہیں اور لوگ ان سے ہیرے نکال کر اپنے کام میں لاتے ہیں۔انہوں نے فاضل ہونے والے علماء کرام پر زور دیا کہ جھوٹ سے پرہیز کریں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں،صفائی کا خاص خیال رکھیں اور حرام سے پرہیز کریں۔انہوں نے کہا کہ ایک بہت اہم چیز جس کا نہ یونیورسٹی والوں کو علم ہے اور نہ امریکہ وبرطانیہ کو وہ ہے طہارۃ بطن ہے۔مفتی غلام الرحمان نے کہاکہ لند ن میں علماء آنے کیلئے ریکوائرمنٹ پوچھ لیا تو جواب ملا کہ صاف کردار بہت ضروری ہے اور اس کے بعد انگلش ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ کا یہ نظریہ غلط ہے کہ اسلام کے مذہب والے تلوار سے اسلام نافذ کرتے ہیں اسلام دہشت گردی سے حسن اخلاق سے پھیلا ہے۔انہوں نے کہا کہ علماء کرام ایک دوسرے کے ساتھ ضد نہ کریں اورجانوروں تک کا خصوصی خیال کریں،سٹیج پرظلم اور جذبات سے پرہیز کریں اور لوگوں کے دلوں کو جیت لیں۔انہوں نے تمام مسلمانوں پر زور دیا کہ ذکرکا اہتمام کریں اور نماز کو قائم کریں اور قرآن پاک کا درس شروع کریں۔اس پہلے مہتمم دارالعلوم مٹہ کے فرزند برتھانے باباجی مولانا حفیظ الرحمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا اورفارغ التحصیل طلباء کے دستار بندی ہوئی۔
2,446 total views, no views today



