کبل(تحصیل رپورٹر)سوات یونیورسٹی کے انتظامیہ طلبہ و طالبات کے منظورشدہ فیس واپسی کی ادائیگی نہیں کررہے ہیں۔373طلبہ و طالبات کے 4کروڑ روپے کی رقم واجب الادا ہے۔نواز شریف دورحکومت میں منظور شدہ فیس ری ایمبرسمینٹ پالیسی پر یونیورسٹی انتظامیہ نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔پوچھنے پر طلبہ کو جواب دیاجاتاہے کہ HECنے ہمیں رقم واپس نہیں بھیجی حالانکہ باقی تمام تر یونیورسٹیوں کو رقم کی ادائیگی ہوچکی ہے اور طلبہ کو بھی ان کی رقم واپس مل چکی ہے۔اگر یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کو ان کا حق ادا نہیں کررہی تو طلبہ پرامن احتجاج سے آگے بڑھ کر دھرنوں اور شدید احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔جس کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر ہوگی۔ان خیالات کا اظہار سوات یونیورسٹی کے طلبہ نمائندگان ضیاء اللہ، اسداللہ،کاشف علی خان اور ارشاد خان نے کبل پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور حکومت میں طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کیلئے Fee Reimbursement policy شروع کی گئی تھی جس کے تحت ایم ایس سی، ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کی ادا شدہ فیسیں انکو واپس ادا کی جاتی تھیں۔جس پر تمام تر یونیورسٹیوں میں عمل درآمد جاری ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ سوات یونیورسٹی کی انتظامیہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔تاحال 373طلبہ کے4کروڑروپے واجب الاداہیں۔جوکہ فی طالب علم 88ہزارروپے ہیں۔جن میں غربت کے مارے غریب طلبہ نے قرضے لے کر اپنی فیسیں بھری ہیں۔انہوں نے کہا کہ رقم کی واپسی کیلئے ہم نے وی سی آفس کے سامنے احتجاج بھی کیااور کئی مرتبہ یونیورسٹی رجسٹرار سے رابطہ کیا لیکن ان کا ایک ہی جواب ہوتاہے کہ ہم نے HECکے ساتھ رابطہ کیاہے لیکن انہوں نے تاحال ہمیں رقم واپس نہیں بھیجی۔حالانکہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ تمام تر یونیورسٹیوں کے طلبہ کو ان کی رقم واپس مل چکی ہے۔ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ سوات یونیورسٹی انتظامیہ اتنی لاچار ہے کہ یہ اپناحق نہیں مانگ سکتے؟اگرسوات یونیورسٹی انتظامیہ اتنی لاچار ہے تو ہمارا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا،گورنر خیبرپختونخوا اور وزیراعظم پاکستان سے یہ سوال ہے کہ ہمارے ساتھ اتنی زیادتی کیوں ہورہی ہے؟اور حال یہ ہے کہ زیادہ تر غریب طلبہ نے قرض لے کر اس شرط پر فیسیں بھری ہیں کہ جب ہمارے پیسے واپس کئے جائیں گے تو ہم قرض واپس کردیں گے۔ہم کسی سے ناجائز مطالبہ نہیں کررہے۔ہم اپنا جمہوری حق مانگ رہے ہیں اور اپنے حق کیلئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے امتحان سرپر ہیں اور ایسا نہ ہو کہ یونیورسٹی ہمارے احتجاج پر ہمیں ٹارگٹ کرکے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے یاپھر طلبہ کو ڈرادھمکائے۔ہم اپنے حق کیلئے پرامن احتجاج کررہے ہیں لیکن اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے توہم شدید احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے اور دھرنے دیں گے ۔اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
1,329 total views, no views today



