سوات،27 اکتوبر 1974 کے حوالے سے یوم سیاہ کشمیرتقریب گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ سوات کی جانب سے خپل کور ماڈل سکول میں منعقد ہوا ، تقریب میں مقامی لوگوں ، سول ڈیفنس کے رضا کاروں ، میونسپل کارکنوں اور طلبہ سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی ، ، ممبر صوبائی اسمبلی وچیئرمین ڈیڈک فضل حکیم خان ، اے سی اشفاق خان ،صدر گلوبل پیس کونسل اور ڈئریکٹر سروش اکیڈ می احمد شاہ خان اور عمائدین علاقہ نے خطاب کیا ، کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، پاکستان اورپاکستان کے عوام کشمیر یوں کے ساتھ ساتھ رہے گا ، حکومت پاکستان کو اس طرف توجہ دینا چاہیئے ، علحٰیدہ گی پسند تحریکوں کا مقابلہ کرنا چاہیئے ، پاکستان کی تباہی ، بلوچستان صوبے کی علحٰیدہ ہونے سے ممکن ہے ، کشمیریوں کو تمام امور میں اعتماد میں لینا چاہیئے ، کشمیریوں کو بھی اظہار رائے کا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں ، کشمیری لوگوں کو ازادی دی جائے ، مسئلہ کشمیر کے حل تک ہمارا ہندوستان سے تعلق اچھا نہیں ہو سکتا ، کشمیر میں 80 ہزارسے زائد مرد و خواتین ، بوڑھے ،بچے شہید ہوئے ،انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے ، ہندستان کی نہیں ، مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھانا چاہیئے ، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا چاہیئے ، کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں ، پکستان اقوام متحدہ اور دنیا کے تمام فورمز پر آواز بلند کررہا ہے ، 27 اکتوبر کا دن منانے کا مقصد کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے ، مقررین نے کہا کہ ہندوستان ہوش کے ناخن لیں ، اور کشمیری عوام پر مظالم بند کریں، ہندوستان اسرائیل سے معاہدہ کرکے پاکستان کے خلاف 13 ارب روپے کی غوض اسلحہ خرید رہاہے ، امریکہ اور قوام متحدہ کشمیر کا مسئلہ حل کرکے عوام کے خواہشات کے مطابق حقوق دے ، مسلمہ امہ اپنی استطاعت کے تحت کشمیر کے عوام کی مدد کریں ، ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان کردیں گے ۔
884 total views, no views today


