بہ قول غالبؔ
عشق نے غالبؔ نکما کردیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
ایک مجلس میں سنا تھا کہ ’’عشق ہونا چاہیے، عشق کرنا چاہیے، اس میں سوچنے کی کوئی بات نہیں بس سوچنا یہ چاہیے کہ عشق کس سے کرنا چاہیے، عشق خدا سے ہونا چاہیے اور جب تمھارا عشق خدا سے ہوگا، تو تمھاری دنیا و آخرت دونوں کامیاب ہوں گی۔‘‘ برسبیل تذکرہ، ایک آدمی کو ایک مولوی صاحب کی بیٹی پسند تھی۔ مولوی صاحب کو معلوم ہوا، تو انھوں نے خود جاکے ہنستے مسکراتے ہوئے اُس لڑکے سے کہا میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دے دوں گا، مگر ایک شرط ہے۔ لڑکے نے حیرت سے پوچھا کہ مولوی صاحب اپنی شرط میرے سامنے رکھیے۔ مولوی صاحب نے فرمایا، بس تم کچھ دن اس مسجد میں ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز پڑھو، پھر میں خود تیرے پاس آجاؤں گا اور اپنی بیٹی کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں دے دوں گا۔ لڑکے نے کہا مجھے آپ کی شرط منظور ہے۔ اُس کے بعد مولوی صاحب دوسری مسجد میں جاتے تھے۔ بس یہ خبر لیتے تھے کہ لڑکا عبادت میں مصروف ہے یا نہیں۔ ایک مہینہ بعد مولوی صاحب اُس لڑکے کے پاس آگیا اور فرمایا میں اپنی اس بیٹی کو لایا ہوں جس سے تمھیں عشق تھا۔ اُس لڑکے نے بہت ہی پیارے الفاظ بولے کہ مولوی صاحب مجھے صرف عشق کی ضرورت تھی، بس میں نے راستہ غلط چنا تھا۔ میں نے عشق کرنا تھا اور میں نے اپنے خدا سے عشق کیا۔ اب میں اپنے خدا سے ہی عشق کرنا چاہتا ہوں۔ اب میں کہی نہیں جاسکتا، نہ ہی کسی سے عشق کرنا ہے۔ اور مولوی صاحب لبوں پر مسکراہٹ سجائے اپنے گھر لوٹ گئے۔ اس طرح حضرت سفیانؓ فرماتے ہیں کہ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران پہ یہ وحی فرمائی تھی کہ ’’میرا انتقام اس شخص پر ایسا نہیں ہے جو مجھے جانتا ہے اور میرے سامنے نا فرمانی کے جرأت کرتا ہے، اُس شخص کے مقابلے میں جو مجھے نہیں جانتا۔‘‘
پس آج کی نشست کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کو عشق ضرور کرنا چاہیے۔ تبھی تو ایک شاعر کیا خوب فرما گئے ہیں کہ
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
اور حضرتِ غالبؔ تو عشق کے حوالے سے کچھ اور ہی کہتے ہیں کہ
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ
جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
992 total views, no views today


