کوئی دو مہینے قبل پشاور کے ایک بڑے اخبار نے خبر دی تھی کہ محکمۂ تعلیم نے محکمۂ انتظامیہ کو لکھا ہے کہ وہ محکمۂ تعلیم میں درجۂ چہارم ملازمین کے لیے بھرتی کی عمر زیادہ سے زیادہ پینتالیس سال مقرر کرے۔ معلوم نہیں محکمۂ انتظامیہ بھی ورکعو مع الراکعین ہوگیا ہے کہ نہیں۔ محکمہ تعلیم جتنا بڑا اور اہم محکمہ ہے، بدقسمتی سے اُتنا ہی نمبر دو بیوروکریسی کا جنگل ہے۔ دونمبر کی بیوروکریسی میں اعلیٰ معیار کی قوتِ کار، قوتِ ادراک اور قوتِ فیصلہ کی جگہ خوشامد، چاپلوسی، جی حضور اور یس سر والی عادتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ پرویز خٹک کا کوئی رشتہ دار عزیز (جس کا ہمیں نہ امید ہے نہ شک) اوور ایج ہوا ہے جس کو کسی نہ کسی طرح سرکاری ملازمت میں کھپانا ہے یا کسی اور بڑے کے عزیز و اقارب کو Accomodate کرنا ہے یا سن نوے کی دہائی میں پی پی پی حکومت کی حکماً خلافِ ضابطہ بھرتی ہونے والوں کو اب کلاس فور کے لبادے میں سرکاری ملازمت میں لانا ہے جن کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرکے بھرتی کی وجہ سے بعد کی حکومت نے گھروں کو بھیجا تھا۔
محکمۂ تعلیم بدقسمتی سے سیاست کاروں کے لیے سب سے نرم اور کم زور شکار گاہ ثابت ہوا ہے۔ اس کے افسران کی کثیر ترین تعداد خود سفارشی ہے اور دفتری امور کے لیے درکار فرائض قوتوں اور خواص سے عموماً محروم ہوتے ہیں، اس لیے اُن میں بھی برائی کے آگے جھک جانے کی عادتیں، اُس کے سامنے ڈٹ جانے کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے محکمۂ انتظامیہ کو تجویز بھیجنے میں اس محکمے نے پہل کی۔
ہمارے خدشات، گمان پر مبنی ہیں اور گمان غلط بھی ہوسکتا ہے۔ ہم اُمید کرسکتے ہیں کہ سیکرٹریٹ لیول پر محکمۂ تعلیم نے اس معاملے کے سارے پہلوؤں کا محتاط جائزہ لے کر اسے محکمۂ انتظامیہ کو بھیجا ہوگا لیکن محکمۂ تعلیم کی سیکرٹریٹ لیول کی حالت بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس اہم ترین محکمے میں پبلک سروس کمیشن سے مقابلے کے امتحان کے پاس کردہ افسران کی نسبت مفت کے مفتی زیادہ ہیں جن کی کارکردگی کا معیار محکمے کی مجموعی کارکردگی کی شکل میں دنیا کے سامنے ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت میرٹ اور شفافیت کی دعوے دار ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اس کے مخالفین مختلف حیلے بنا کر اسے سولی پر نہ چڑھادیں۔ اور کل مخالفین کو یہ موقع ملے کہ خٹک سرکار نے یہ کیا تھا اوروہ کیا تھا۔ سیاسی پھندے مختلف خوب صورت شکلوں میں بنے اور ڈالے جاتے ہیں۔ محکمۂ تعلیم میں کلاس فور کون سی بڑی اور اہم پوزیشن ہے جس کے لیے پینتالیس سال کی سفارش حکومت کی سطح پر کی جاتی ہے۔ اسکولز، کالجز اور یونی ورسٹیز میں بے شمار خالی اسامیاں موجود ہیں۔ بہت سارے لڑکے لڑکیاں اعلیٰ ترین تعلیم کے ساتھ بے روزگار موجود ہیں۔ محکمہ ایسا کیوں نہیں کرتاکہ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈیز کے لیے اور دور افتاد اسکولوں میں استانیوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے محکمۂ انتظامیہ و عملہ سے نرمی کی سفارش کرے۔ وہ اساتذہ کی بھرتی کی عمر میں بھی پینتالیس سال تک رعایت دے۔ خٹک صاحب کی حکومت احتیاط کرے۔
پہلے سے صوبے میں صنعت اور زراعت کے شعبے تقریباً تقریباً ختم ہوگئے ہیں۔ مارکیٹنگ کا بھی برا حال ہے۔ اس لیے صوبے کے ہزار ہا نوجوان بے روزگار ہیں۔ اُن کو چھوڑ کر بڑی عمر کے لوگوں کو کھپانے کا مطلب ہوگا نوجوانوں کو مایوس کرکے براے راستوں پرڈالنا۔ پھر پینتالیس سال کی بھرتی اور ساٹھ سال پر ریٹائرمنٹ کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ لاڈلے پنشن حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ان کا عرصہ خدمات بھی صرف پندرہ سال ہوگا جب کہ ایک بیس سالہ نوجوان چالیس سال تک خدمات ادا کرسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ پنشن کے حصول کے لیے لاڈلے کل حکومت پر ناجائز دباؤ ڈال کر اسے بلیک میل کریں۔ ہاں، اگر یہ رعایت خواتین درجۂ چہارم کے لیے مجوزہ ہو، تو پھر کوئی معمولی سا جواز ملتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں نوجوان خواتین کلاس فور ملازمت میں کم ہی آتی ہیں لیکن ہم پھر بھی تجویز کرتے ہیں کہ دور افتادہ اسکولوں اور کالجوں میں خواتین عملے کے ہر کیڈر کی عمر بے شک پینتالیس سال کی جائے اور اُن سے ڈومیسائل کی شرط ہٹائی جائے۔ مثلاً اگر کراچی کی تعلیم یافتہ خاتون کیلاش میں پڑھانے پر راضی ہو، تو اُسے خدمات فراہم کرنے دیا جائے، تاکہ صوبے سے تعلیم کی (خصوصاً لڑکیوں کی) کمی دور ہوجائے۔ البتہ ایسی ملازمت کی شرائط عدالتی سطح کے پکے اقرار ناموں پر دی جائے، تاکہ بعد میں یہ ملازمین بلیک میلنگ اور دوسرے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں۔ صوبے کو کلاس فور کے لیے نہیں اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے لیے قوانین میں نرمی کرنی چاہیے۔
خٹک سرکار اور چیف سیکرٹری صاحب میٹھی گولیوں سے ہوشیار رہیں۔ صوبے کے وسیع تر مفادات کا خیال رکھیں۔
728 total views, no views today


