سوات، الف اعلان اور ، اینیویٹو یوتھ فورم کے تعاون سے میاندم میں ایک تقریب والدین کی آواز کے نام سے منعقد ہوا۔جس کا مقصد میاندم میں سکول داخلہ مہم اور تعلیم کے بہتری کیلئے والدین اور معاشرے کے ہر طبقے کا کردار واضح کرنا تھا ۔۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ سوات میں تعلیم کی شرح ۲۹ فی صد ہے جبکہ سوات کے ۲۸ فی صد بچے سکولوں سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاندم میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے اور صفر ۱۵ فی صد بچے سکول آتے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سکول داخلہ مہم کے دوران پچاس ہزار کی آبادی میں صرف ۳۰ بچے داخل ہوئے، جو یقیناًانتہائی افسوسنا ک صورتحال ہے۔ ڈاکٹر جواد نے کہا کہ تعلیم کی بہتری اور مطلوبہ معیار کو اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک معاشرے کا ہر فرد خصوصا والدین اپنا کردار ادا نہ کریں۔ تقریرب سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ ناظم محمد علی شاہ خان نے کہا کہ عوام ہم سے اپنے ذاتی مطالبات پیش کرتے ہے جبکہ تعلیم کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا انہوں نے کہا کہ میں تمام اکابرین کے ساتھ مل کر میاندم کو ایک مثالی ماڈل بنا کر پیش کرونگا، اور والدین کی آواز کے ہر میٹنگ میں شرکت کرونگا۔ آل پرائمری ٹیچر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری صالح علی میاں نے کہا کہ والدین کو اساتذہ سے اپنے بچوں کے بارے میں پوچھنا چاہئے انہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام والدین کی تعاون کے بغیر مثبت نتائج نہیں دے سکتے۔ تقریب سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے بچوں نے مختلف مسائل پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
832 total views, no views today


