خیبر پختو ن خوا کا ضلع ’’وادئ سوات‘‘ ملکوتی حسن سے مالا مال ہے۔ ضلع سوات تا ریخی لحاظ سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی میں یہ ڈھیر سارے حکم را نوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر ڈھیر ساری قوموں کا قبضہ ہو گزرا ہے جیسے آریہ، بدھ مت وغیرہ۔ پھر جدید سوات کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اور ان میں بادشاہ صاحب کی کاوشوں کا مطالعہ کیجیے۔ ان کا اپنا نام میاں گل عبد الودود تھا۔ سیدو بابا جیسی برگزیدہ ہستی ان کے دادا تھے۔ پھر ان کے بعد والی سوات کا دور آتا ہے۔ انھوں نے اپنے دور حکومت میں امن و امان، عدل اورانصاف قائم کی ایک نئی مثال قائم کی۔ اس کے سا تھ ساتھ تعمیر و ترقی، صحت و تعلیم اور اس کے علاوہ بہت سے شعبوں میں سوات نے خوب ترقی کی۔ اگر بادشاہ صاحب بانئی ریاست سوات تھے، تو والئی سوات ’’معمار سوات‘‘ ہیں۔ انھوں نے سوات کوئی رشک چمن بنالیا۔ جگہ جگہ خوب صورت عما رتیں، سیر سپاٹے کی جگہیں، خوب صورت ہوٹل اور پارک بنائے۔ صحت اور تعلیم کی مد میں کافی رقم خرچ کی اور اسپتالوں، صحت کے مراکز اور اسکولوں کا جال بچھایا۔ عدل و انصاف کے معاملے وہ بڑے حساس واقع ہوئے اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان کے مصداق ہر کسی کو انصاف بہم پہنچانے کی غرض سے ایک نظام وضع کیا تھا انھوں نے۔ پھر سوات کے لوگو ں نے پا کستا ن کے ساتھ شامل ہونے کا مطالبہ کیا اور اس کے ساتھ ہی ایک زریں باب کا خاتمہ ہوا۔ ریاست سوات کو پاکستان ایک ضلع کی حیثیت دی اور پھر اسے یکسر بھول بیٹھا۔ میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ والئی سوات کے دور حکومت کے بعد جتنا کام یہاں پر ترقی کے نام پر ہوا وہ والی صاحب کے دور کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔آج عدالتوں کا نظام دیکھیں۔ اچھے خاصے لوگ عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تنگ آجاتے ہیں اور زیادہ تر تو دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ بدامنی یہاں زوروں پر ہے۔ بے روزگاری کا یہ حال ہے کہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ٹماٹر بیچنے پر مجبور ہیں۔ صحت کے نام پر نادار مریضوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کے نام پر ایک زبردست تجارت جاری ہے۔ ہوٹل فحاشی کے اڈے بن گئے ہیں۔ غرض ایسا کوئی شعبہ نہیں جو اہل سوات ک بھلائی کے لیے مصروف عمل ہو۔ اجتماعی مفاد پر انفرادی مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف جنھیں ہم منتخب کرکے اسمبلی ہال میں بھیجتے ہیں وہ قوم کو یک سر بھول کر اپنی جیبیں گرم کرنے کی غرض سے مصروف ہوجاتے ہیں۔اقربا پروری، رشوت ستانی اور دو نمبری نے عوام کا دل سیاست سے بھر دیا ہے۔ اے کاش! وہ ریاستی دور واپس آجائے اور ہمیں اس جنجال سے نجات مل جائے۔
1,094 total views, no views today


