جہاں نام نہاد سیکورٹی، صحت، انصاف، تعلیم اور ترقی کے نام پر غیر پختونوں نے اتنی دکانیں کھول رکھی ہیں، وہاں اگر اک آدھ دکان کوئٹہ سے آیا ہوا ’’پختون‘‘ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو بخدا اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اپنی دکان اُس ڈرامے کے ’’ری میک‘‘ کے حوالے سے نہ کھولے، جس میں ایک بار پُرامن اہل سوات کو وحشی اور درندے دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی جاچکی ہے۔ مذکورہ ڈرامے کی وجہ سے اب ہم اہل سوات کو باقی ماندہ دنیا ’’انسان‘‘ نہیں سمجھتی۔ بہ خدا اُس کا ’’ری میک‘‘ ہم اہل سوات کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوگا جس میں اولاً چند کرداروں کو تخلیق کیا گیا، ثانیاً ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے اور آج نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ ان کے خلاف مجھ جیسے لکھاری کی لب کشائی یا خامہ فرسائی نقار خانے میں توتی کی آواز کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ چند این جی اوز زدہ عناصر وقتی فائدے اور ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کی ملمع کاری کرکے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش میں لگے ہیں۔ کبھی نہ کبھی تو ایک غیر جانب دار مؤرخ قلم اٹھائے گا، اس وقت وہ کسی کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ مگر یہ بھی تو ایک حقیقت ہی ہے کہ حضرت انسان غلطی کا پتلا ہونے کے ساتھ ساتھ فطری طور پر حریص بھی ہے۔ ہل من مزید کا راگ الاپنے والا بسا اوقات اپنی خودی تک کو داؤ پر لگا دیتا ہے اور یہ سلسلہ لب گور پہنچنے تک جاری رہتا ہے۔ اب کس کافر کا دل یورپ کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونا نہ چاہتا ہوگا، وہ نفرین بھیجنے کے لائق ہے جو ’’سیرینا‘‘ کے پرشکوہ ماحول میں عشائیے یا پھر کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے سحر انگیز ماحول میں ظہرانے پر بلائے گئے اجلاس کو اپنے نظریات کی بھینٹ چڑھاتا ہے کہ یہی تو آج کل ’’اہل قلم‘‘ کی ’’حصہ بہ قدر جثہ‘‘ کے مصداق لگنے والی مختلف قیمتیں ہیں۔ یہ میں بہک کر کہاں نکل گیا۔ بات ہو رہی تھی وادئ سوات میں اسٹیج ہونے والے ڈرامہ کی جس کے ’’ری میک‘‘ کی خاطر کوئٹہ کے ایک ’’مہان فن کار‘‘ لنگوٹی کس کر میدان میں اترے ہیں۔ قارئین کرام! مجھے اس ڈرامہ کی بھنک ان دنوں پڑی تھی جب اہل ملوک آباد کو دو روز تک زبردستی اپنے گھروں تک محدود کیا گیا تھا اور مختلف مناظر کی عکس بندی کی جا رہی تھی۔ وہ تو بھلا ہو عثمان اولس یارؔ کا جنھوں نے وقت دے کر ایک الجھی ہوئی گتھی سلجھا دی۔ قارئین کرام! میں ہرگز قلم نہ اٹھاتا، اگر اس میں میرے کچھ اپنے دوست، رفیق کار اور چند دیگر بڑے بھوڑے شامل نہ ہوتے۔ برسبیل تذکرہ، پچھلے روز اپنے ایک ہم دم دیرینہ سے اس حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ حضرت نے یہ کہہ کر بری الذمہ ہونے کی بھرپور کوشش کی کہ ’’بھئی، میری تو روزی روٹی کا مسئلہ ہے۔ میں تو باقاعدہ دہاڑی لیتا ہوں۔‘‘ اب اسے یہ کون سمجھائے کہ بندۂ خدا، چند کوڑیوں کی خاطر اہلِ سوات کی مٹی کیوں پلید کرنے جا رہے ہو؟ باقی ماندہ دنیا کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ یہاں آکر حالات کا جائزہ لے۔ اہلِ دنیا کی نظر میڈیا پر ہے۔ اور ہمارا علاقائی میڈیا بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے کے مصداق کردار ادا کرنے پر مجبور ہے، اور جو اس مٹی کے لیے اپنی زندگی وقف کر چکے ہیں، انھیں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ شنید ہے کہ ایک بہت ہی سلجھے ہوئے، بے باک اور نڈر صحافی کو بھی شیشے میں اتارا گیا ہے اور وہ بھی ایک سین میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ اب اس بات میں کتنی صداقت ہے، ڈرامہ ریلیز ہوتے ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ اس طرح ایک بہت ہی سلجھے ہوئے مصورکی قیمت پانچ ہزار لگائی گئی ہے۔ اور مصوربھی کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا قسم کا نہیں بلکہ ایسا ماہر فن کار جس کے فن پارے کسی نمائش میں رکھے جائیں، تو فن کار موصوف کو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے۔ ان کا اس کھیل کا حصہ بننا’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ کے مصداق ناممکن سی بات لگتی ہے۔ ان سے گلہ میرا حق بنتا ہے، بھلے ہی ان کا تعلق سوات سے نہ ہو، مگر ہیں تو ہمارے ہم خیال۔ ہم اکثر دو تین مہینے بعد ایک نشست کا اہتمام کیا کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ والئی سوات کے بنگلے پر ایک عجب سین پکچرائز کیا گیا ہے، جس میں مرحومہ شبانہ (سوات کی مشہور رقاصہ) کی روح کو اسکرین پر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ جنت میں محافل رقص و سرود کا اہتمام کیا کرتی ہے اور فرشتے تک اس کی آواز پر جھوم جاتے ہیں(الامان و الحفیظ)۔ اور ثم العجب یہ کہ بہ مشکل ولئی عہد سوات کا چالیسواں پورا ہوا ہے۔ ایسے میں موسیقی کی محفل کا انعقاد سمجھ سے بالاتر ہے۔ قارئین کرام! اس ڈرامے کو پکچرائز کرنے کی خاطر باقاعدہ طور پر مختلف علاقوں کے لوگوں کو زبردستی گھروں تک محدود رکھنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی گئی ہے۔ گھر گھر تلاشیوں، غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے اور اس قبیل کے دیگر کارروائیوں کی شوٹنگ زور و شور سے جاری ہے۔ گرین چوک جسے پتہ نہیں کس عقل کل نے ’’خونی چوک‘‘ سے موسوم کیا ہے، میں باقاعدہ طور پر انسانوں کو ذبح کرنے کی عکس بندی کی گئی ہے۔ بھلے ہی کوئی مجھ سے اتفاق نہ کرے مگر میں یہ کہتے ہوئے صد فی صد حق بہ جانب ہوں کہ ایسی قوم شاید ہی تاریخ کا حصہ بنی ہو، جو اپنی لوئی اتروانے میں اتارنے والے کی معاون بنی ہو۔ اگر نہیں ہے، تو چلیے ایک اور سرخاب کا پر لگ گیا۔ باقی رہی یہ بات کہ کون اس تمام تر عمل کو فنڈ کر رہا ہے، یہ کس ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے اور اس سے کس کس کو کیا کیا فائدہ ہوگا؟ یہ آنے والے وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کہ سارے پتے ایک ہی داؤ کی نذر نہیں کیے جاتے۔ قارئین کرام! میں نے اپنی کسی پرانی تحریر میں ایک مثال دی تھی کہ ’’اکیلا لوہا جنگل سے ایک لکڑی تک نہیں کاٹ سکتا، جب تک لکڑی اس کے ساتھ مل کر دستے کا کام نہ دے۔‘‘ پہلا ڈرامہ ہمارے اپنوں کی بے حسی کی وجہ سے ’’ہٹ‘‘ ثابت ہوا اور کئیوں کی جیبیں گرم کر گیا۔ اب اس کے ’’ری میک‘‘ کی باری ہے۔ اس میں ہمارے اپنے جس تن دہی کے ساتھ مصروف عمل ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ’’سپر ہٹ‘‘ ہی ثابت ہوگا اور بعید نہیں کہ ’’بلاک بسٹر‘‘ ثابت ہوجائے۔ مگر اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیوں کہ بہ قول عثمان اولس یارؔ ’’ اگر یہ کوئی نظریاتی عمل ہوتا، تو ہم سب اس کا حصہ بنتے۔ مگر یہ تو ایک شخص مخصوص اپنی دکان چمکانے جا رہا ہے۔ اس کے لیے تو یہ تمام تر عمل محض ایک ’’کاروباری ڈیل‘‘ ہے۔ پیسہ وہ ہضم کرلے گا اور جا بیٹھے گا اسلام آباد کے پرسکون ماحول میں، مگر اس کے بعد یہاں سوات میں جو ’’دما دم مست قلندر‘‘ ہوگا، اس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی ہے؟ ‘‘ صاحبو! اپنی اپنی جیبیں گرم کرلو، مشہور ہوجاؤ، مخصوص لوگوں کے نور نظر بن جاؤ اور جب یہ ڈرامہ ختم ہوجائے، تو اس وقت اپنے گریبان میں بھی جھانک لو، یا کسی آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر خود سے سوال کرو کہ ’’یہ سب کچھ کرنے کے بعد آپ حضرات کا ضمیر مطمئن ہے؟‘‘ اگر جواب ’’ہاں‘‘ میں ملے، تو مجھ پر فی سبیل اللہ ’’تبریٰ ‘‘بھیج دیں کہ ایک گھٹیا لکھاری محض سستی شہرت کی خاطر شرفاء کی پگڑیاں اچھال رہا ہے۔ نہ جانے کیوں جاتے جاتے ہندی فلموں کے مشہور ویلن مرحوم امجد خان کا یہ ڈائیلاگ ذہن کی ہنڈیا میں کد بد کر رہا ہے کہ ’’تیرا کیا ہوگا کالیا؟‘‘
850 total views, no views today


