سوات(سوات نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان نے زرعی ماہرین پر زور دیا ہے کہ وہ زمینداروں کو اپنے تجربات کی روشنی میں کاشت کاری کے جدید طریقے سے روشناس کریں تاکہ زرعی لحاظ سے ہمارا صوبہ خود کفالت کی جانب گامزن ہوسکے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان شعبہ زراعت کی ترقی میں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت نے زراعت کے شعبے کی بہتری کیلئے صوبے اور نئے ضم شدہ ا ضلاع میں اہم نوعیت کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی تحقیقاتی ادارے ترناب پشاور میں صوبہ بھر کے زرعی تحقیقاتی مراکز سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت و لائیو سٹاک محمد اسرار خان، ڈی جی زراعت ریسرچ ڈاکٹر نوید اختر، ڈی جی لائیو سٹاک اور فوکل پرسن محکمہ زراعت ڈاکٹر شیر محمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ صوبے میں اس وقت 16 زرعی تحقیقاتی مراکز کام کر رہے ہیں جن میں زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ترناب پشاور،زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ڈی آئی خان،سی سی آرآئی پیر سباق نوشہر ہ، ریسرچ انسٹیٹیوٹ مردان،زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ مینگورہ سوات،بارانی ریسرچ سٹیشن کوہاٹ،زرعی ریسرچ اسٹیشن بفہ مانسہرہ،ہزارہ زرعی ریسرچ سٹیشن ایبٹ آباد،زرعی ریسرچ سٹیشن چترا ل، ز رعی ریسرچ سٹیشن سرائے نورنگ،زرعی ریسرچ سٹیشن کرک،زرعی ریسرچ سٹیشن صوابی،زرعی ریسرچ سٹیشن بنوں،زرعی ریسرچ اسٹیشن چارسدہ،زرعی ریسرچ سٹیشن بونیر اور ریسرچ ڈائریکٹریٹ شامل ہیں۔صو بے کے ان زرعی تحقیقاتی مراکز میں سائنسدانوں کی انتھک محنت سے تحقیقات کے زریعے مختلف فصلوں، پھلوں اور سبزیوں کی363 نئی اقسام متعارف کرائی گئیں ہیں -وزیر زراعت کو بتایا گیا کہ اناج والی فصلوں یعنی گندم کی 66، مکئی کی 28،چاول کی 6،جو کی 4،چنے کی 15،باجرہ کی3، جوار کی 3،گنے کی 28،چقندر کی 6،تمباکو کی 20،کنوال کی 25،مسورکی 1،مونگ کی 3،اور مٹکی/مٹ دال کی 3 متعدد اقسام متعارف کی گئی ہیں اسی طرح پھلدار پودوں میں آڑو کی 22، الوچہ/ آلوبخارہ کی 8،خوبانی کی 5، ناشپاتی کی 5، بادام کی 7، سیب کی 15، اخروٹ کی 3، چیری کی 2،کھجور کی 2،تربوز کی 3،انگور کی 2،چکوترہ کی 2،پیکان نٹ کی 3،مالٹے کی 12،انار اور انجیر کی ایک ایک ترقی دادہ اقسام/ ورائٹیاں متعارف کرائی گئیں – اسی طرح سبزیوں میں آلو کی 5،پیاز کی 2،ٹماٹر کی7،مٹر کی 8،بینگن کی 3،مرچ کی 4،امریکی کدو/اسکواش کی 2،گاجر کی6،مولی کی 6،شلجم کی2،بھنڈی کی 6 اور دیگر کی 9 ترقی دادہ اقسام/ورائٹیاں متعارف کرائی گئیں اور 2019-20 میں 23 مختلف اناج کے تخم کی نئی اقسام سیڈ کونسل کو منظوری کیلئے پیش کی جائیگی۔ وزیر زراعت نے بریفنگ پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرا کز اپنے تحقیقی کام میں ہونے والی پیش رفت سے زمینداروں کو بھی آگاہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے زراعت کے فروغ کے لیے جتنے منصوبے شروع کیے ہیں اتنے گزشتہ 70 سالوں میں نہیں ہوئے انہوں نے کسانوں کے لئے بہترمعیار کے تخم بر وقت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کم زمین اور کم محنت سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر نے ترناب فارم میں تعمیراتی کام کا بھی معائنہ کیا اور جاری منصوبوں کو بہتر معیار کے ساتھ جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1,370 total views, no views today


