مقبوضہ کشمیر میں بارتی مظالم اور خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف سوات کے عوام کا احتجاجی مظاہرہ، پاکستان زندہ باد اور کشمیربنے گا پاکستان کے نعرے، پریس کلب سے نشاط چوک تک ریلی نکالی گئی، بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف سوات میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی گئی، جس میں سول سوسائٹی، سول ڈیفنس، سکولوں کے بچوں، آمن کمیٹی اور صلاحی کمیٹی کے رہنماپں نے شرکت کی، اس موقع پر بھارتی جارحیت کے خلاف سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ نشاط چوک تک ریلی بھی نکالی گئی، جہاں پر ریلی نے جلسے کی شکل اختیار کی، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی عامر علی شاہ، سوات پریس کلب کے چیئرمین شہزاد عالم، اصلاحی کمیٹی کے صدر محمد زبیر خان اور اقلیتی برادری کے رہنما بالک رام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے 370 اور 35کا خاتمہ کرکے کشمیریوں کا حق چھین لیا ہے

اور ان سے آزادی چھین لی ہے جس کی ہم کسی بھی صورت اجازت نہیں دے سکتے، انہوں نے کہا کہ کشمیرپر اقوام متحدہ کے قرار دادوں پر من و عن عمل کیا جائیں اور کشمیریوں کو انکا حق دلایا جائیں، انہوں نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے عامی اداروں کو اسکا نوٹس لیا جائیں، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کی آزادی واپس دلانے کے لئے پاکستان اپنے سفارتی تعلقات استعمال کریں۔

مینگورہ شہر کے علاوہ سوات کے تحصیل بریکوٹ، مٹہ، خوازہ خیلہ، کبل اور بحرین میں بھی ہر گاوں میں چھوٹے بڑے جلوس نکالے گئے اور مظاہرے ہوئے،ان مظاہروں میں نجی وسرکاری سکولوں، کالجوں کے طلبا اور سیاسی وسماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی، طالب علموں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر کشمیر کے ازادی کے نعرے درج تھے۔

یونیورسٹی آف سوات میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے کے خلاف گذشتہ روز ایک واک کا اہتمام کیا گیا۔ واک میں یونیورسٹی آف سوات کے طلباء، اساتذہ اور دیگر سٹاف ممبران نے شرکت کی۔ واک کے اختتام پر مختلف شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کرے کیونکہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ بھارت آئین کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم نہیں کرسکتا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال خان نے کہا کہ بھارت 35 اے میں تبدیلی کرکے مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جو مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت ختم کرنے کی سازش ہے۔ شرکاء نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کی خواہشات کی ترجمانی کر رہی ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے فیصلے کے فوراً بعدکشمیری شہری سڑکوں پر نکل آئے، سیاہ پرچم لہرائے اور بھارتی فیصلے کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

2,528 total views, no views today



