آثار قدیمہ پر تحقیقی مضمون لکھنا تھا جس کے لیے ہمارے استاد صاحب نے باہمی مشاورت سے اوڈیگرام میں واقع تاریخی سلطان محمود غزنوی مسجد کی سیر کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے پیر کا دن منتخب کیا گیا۔ پیر کے دن دو اساتذہ کرام کی زیر نگرانی ہم صبح نو بجے صبح اوڈیگرام روانہ ہوئے۔ قریباً پندرہ منٹ سفر کرنے کے بعد ہم وہاں پہنچے اور گاڑیوں سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔ ہماری منزل سلطان محمود غزنوی مسجد تھی۔ ہمارے گائیڈ جناب عدالت خان صاحب ہمیں قدم قدم پر سفر کی تاریخی اہمیت کے بارے میں لیکچر دیتے رہے۔ راستے ہی میں غازی بابا کا مزار آیا۔ عدالت خان صاحب نے کہا کہ’’ ایک روایت کے مطابق غازی بابا کا اصل نام پیر خوش حال تھا اور وہ گاؤں ڈڈھرہ کے رہنے والے تھے‘‘۔ ہماری منزل سلطان محمود غزنوی مسجد تھی، اس لیے ہم نے دوبارہ پیدل سفر شروع کیا اور بالآخر ہم اپنی منزل تک پہنچ ہی گئے، جس کا ہمیں کئی دنوں سے انتظار تھا۔ اس مسجد کے ساتھ ہی ہم نے بدھ مت عبادت گاہ بھی دیکھی جو اپنے دور کے بہترین طرز تعمیر کا شاہ کار ہے۔ آج بھی یہ عبادت گاہ مرجع خلائق ہے۔ اس سے ملحقہ سلطان محمود غزنوی کی تعمیر کردہ مسجد ہے جو ہر خاص و عام کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق سلطان محمود غزنوی نے 971ء کو جب کہ دوسری روایت کے مطابق 979ء کو سبکتگین کے ہاں غزنی میں آنکھ کھولی تھی۔ سبکتگین کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام محمود غزنوی اور دوسرے کا اسماعیل تھا۔ سبکتگین غزنی کا بادشاہ تھا۔ اس نے اپنی بادشاہت اسماعیل کے حوالہ کی مگر باپ کے مرنے کے بعد محمود غزنوی نے اپنے بھائی اسماعیل سے بادشاہت چھین لی اور یوں وہ 998ء کو غزنی کے بادشاہ بنے۔ انھوں نے ہندوستان پر سترہ بارحملہ کیا۔ انھی حملوں میں سے ایک انھوں نے راجہ گیرا جو کہ یہاں کا طاقت ور بادشاہ تھا، پر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سلطان نے پیر خوش حال کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ایک بڑی لڑائی لڑی ۔ اسی معرکہ میں پیر خوش حال نے جام شہادت نوش کی اور وہ یہاں پر مدفون ہیں۔ اسی معرکہ میں سلطان محمود غزنوی کے دو بیٹے بھی شہید ہوئے جوکہ یہاں ہی مدفون ہیں۔ بہ ہر حال سلطان محمود غزنوی نے بہادری سے لڑ کر راجہ گیرا کو شکست سے دوچار کیا۔ اس کے بعد وہ غزنی واپس چلے گئے اور ایک عرصہ کے بعد 30اپریل 1030ء کو اللہ کو پیارے ہوگئے۔ جاتے جاتے انھوں نے یہاں ایک مسجد تعمیر کروائی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے اس مسجدکی بنیاد 948-49ء کو ڈالی۔ یہ مسجد شمالی پاکستان کی سب سے پرانی مسجد ہے۔ عدالت خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ مسجد کے احاطہ سے 1984ء میں ایک کتبہ دریافت ہوا تھا جس پر درج تھا کہ محمود غزنوی نے اپنے بھتیجے حاکم منصور کو اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ حاکم منصور نے اپنے سپہ سالار نوشگین کی زیر نگرانی اسے تعمیر کیا۔ کتبہ کی دریافت کے بعد اٹلی کے آثار قدیمہ کے ماہرین نے 1984ء میں سلطان محمود غزنوی مسجد کو دریافت کیا۔ اس دور میں بنائے گئے اس مسجد کی طرز تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ ہمیں جیسے ہی مسجد میں جانے کی اجازت مل گئی تو ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں کہا گیا کہ کسی بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے کیوں کہ اس سے فطرت میں بگاڑ واقع ہونے کا اندیشہ ہے یعنی آج سے ہزاروں سال پہلے جو چیز جہاں رکھی گئی تھی وہ آج تک وہاں پڑی ہے اور اگر اسے ہاتھ لگایا گیا تو فطرت میں بگاڑ واقع ہوجائے گا۔ مسجد کے صحن کے عین درمیان پانی کا ایک حوض بنایا گیا ہے جہاں اس زمانہ میں لوگ وضو کیا کرتے تھے۔ مسجد کے ہال میں ایک مہراب نمایاں نظر آتا ہے جسے میں اُس وقت کے فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ مانتا ہوں۔ مسجد کی دیواریں عام پتھروں سے بنی ہوئی ہیں لیکن وہ اتنے اچھے طریقے سے تعمیر کی گئی ہیں کہ شاید آج کا معمار بھی اس کے مقابلہ کی دیوار کھڑی کرنے میں کام یاب نہ ہوسکے۔ مسجد میں قدم قدم پر ہمیں بیش بہا معلومات حاصل ہوئیں مگر ان سب کو رقم کرنے میں مضمون کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے۔ اس موقع پر میں پاک فوج کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کے دم قدم سے یہاں پر کافی تعمیری کام ہوا ہے۔ مسجد تک پکی سڑک کی تعمیر کے علاوہ انھوں نے سیاحوں کی سہولت کے لیے بیت الخلا بھی تعمیر کی ہے۔ پاک فوج ہی کے زیر نگرانی سلطان محمود غزنوی مسجد میں قریباً 1000 سال کے بعد مورخہ 28 مارچ 2010ء کو یہاں نماز عصر باجماعت ا دا کی گئی جس کے بعد اللہ کایہ تاریخی گھر عبادت کے لیے کھلا ہے۔ ہمیں اپنے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل کے مطابق چھٹی سے پہلے واپس سکول آنا تھا، اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی واپسی کے حکم کی تعمیل کرنا پڑی۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی شکل سے بدصورت تھے مگر ان کی تعمیر کردہ یہ مسجد ان کے اندر کی خوب صورتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میری تمام طالب العلم دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی مصروف ترین زندگی سے تھوڑا سا وقت نکال کر اس تاریخی جگہ کی زیارت ضرور کریں۔
2,032 total views, no views today


