جلد ہی سوات میں ایک ایسا دور آنے والا ہے کہ یہاں ہر خاص و عام ’’نا معلوم‘‘ گولی کا نشانہ بنے گا اور یہاں موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کہیں گے کہ ’’نامعلوم‘‘ نے معلوم کو قتل کر دیا اور اب ’’نامعلوم‘‘ کی تلاش جاری ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آخر سوات میں اتنی بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کر کیا رہے ہیں کہ ہر بار دن دہاڑے ’’نامعلوم افراد‘‘ کسی معلوم سرکردہ لیڈر یا امن کمیٹی کے کسی رکن کو بڑے آرام سے قتل کرکے صحیح سلامت غائب ہو جاتے ہیں۔ ریگولر پولیس، اسپیشل پولیس فورس، لیویز اور فوج سب ہی سوات میں مصروف عمل ہیں۔ سوات، جسے ہم پوری دنیا میں کامیاب فوجی آپریشن کا ماڈل پیش کر رہے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سیکورٹی فورسز نے بڑی دلیری سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے ان کے چنگل سے اس جنت نظیر وادی کو آزاد کرایا ہے۔مجھے تو ڈر ہے کہ بہت جلد ایک ایسا وقت آئے گا کہ یہاں کوئی دن دہاڑے چوری کرے گا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہیں گے کہ ’’نامعلوم چوروں‘‘ نے چوری کی ہے۔ ’’نا معلوم افراد‘‘ دن دہاڑے بازار میں ڈکیتی کرکے غائب ہوگئے۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ رات کو معلوم افراد کے گھر میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گھر والے انھیں چور سمجھ کر فائر کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے معلوم افراد کو گرفتا ر کرکے نامعلوم نقب زنوں کو بھول جاتے ہیں۔ ’’نامعلوم‘‘ گاڑی سڑک پر بچوں کو کچلنے کے بعد فرار ہوگئی۔ ’’نامعلوم‘‘ ڈاکٹر کی غفلت سے معلوم مریض جاں بحق ہوگیا۔ ’’نا معلوم‘‘ پولیس نے معلوم شہری پر تشدد کیا۔’’نامعلوم‘‘ دکان داروں نے معلوم بازار میں تجاوزات لگاکر سڑک کو تنگ کر دیا وغیر ہ وغیرہ۔ بس یوں لگتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’’نامعلوم‘‘ لفظ سے محبت ہوگئی ہے۔ قارئین کرام! یہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کہیں جنات تو نہیں جو سوات میں تمام حصاروں کو توڑ کر جائے وقوعہ پہنچ جاتے ہیں، نہ نظر آنے والے یہ جنات کامیابی سے اپنے ٹارگٹ کو گولیوں سے چھلنی کردیتے ہیں اور یہ جا وہ جا۔ ’’نامعلوم‘‘ قاتلوں کے بعد جو سب سے خطرناک مسئلہ سوات میں تیزی سے سامنے آرہاہے وہ ’’نامعلوم‘‘ گروہوں اور افراد کی طرف سے یہاں کے تاجروں اور امیروں کو بھتہ خوری کے خطوط کا ملنا ہے، جس میں واضح طورپر ’’نامعلوم‘‘ بدمعاش یا دہشت گرد، معلوم شریفوں سے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مطلوبہ رقم کو ہنڈی سے جلد از جلد بھیجنے کا حکم صادر فرماتے ہیں۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ بے چارے شریف تاجر کو پتہ ہوتا ہے کہ جان گنوانے سے بہتر ہے کہ کہیں سے رقم کی بندوبست کی جائے اور بتائی ہوئی ہنڈی سے رقم بھیج کر گلو خلاصی کی جائے۔ یوں ’’نامعلوم‘‘ بھتہ خوروں یا دہشت گردوں کی آرام سے اپنا مشن جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ویسے بھی ان تاجروں اور شریف امیروں کو علم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے نہ تو ان کو بچا سکتے ہیں اور نہ ان کی کوئی مدد ہی کرسکتے ہیں۔ بھلا کیوں کسی ’’نامعلوم‘‘ فرد کی گولی کا نشانہ بنا جائے۔ آخر کب تک ہم ’’نا معلوم‘‘ قاتلوں کانشانہ بنتے رہیں گے؟ یا وہ لوگ نشانہ بنتے رہیں گے جن میں کچھ بولنے اور بات کرنے کا حوصلہ ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی سوچھی سمجھی سازش کے تحت سواتیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے؟ مجھے تو ڈر ہے کہ جلد ایک دن آئے گا کہ سوات میں سواتی ختم ہوجائیں گے اور یہاں صرف ’’نامعلوم افراد‘‘ ہی رہ جائیں گے۔ لگتا ہے ہمارے ادارے مکمل طورپر ناکام ہوگئے ہیں۔ سواتی کسی ’’نامعلوم‘‘ طاقت سے نبرد آزما ہیں۔ آئیں، دعا کریں کہ سوات 1969ء سے پہلے والا سوات بن جائے، تاکہ ہم حقیقی امن و سکون سے بچی کھچی زندگی بسر کریں اور کم از کم ’’نامعلوم‘‘ اور ’’معلوم‘‘ میں تمیز کرنا سیکھیں۔ مجھے اس بات کا بھی بے حد دکھ ہے کہ ہم سواتی بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی بندش وغیرہ کے لیے سڑکوں پر نکل آتے ہیں، مگر ’’نامعلوم افراد‘‘ کو معلوم کرنے کے مطالبہ پر لمبی تان کر سوگئے ہیں، ماسوائے چند غیرت مند لوگوں کے۔ نہ تو ہم نے یونی ورسٹی کے طلبہ کواحتجاج کرتے ہوئے دیکھا ہے، نہ تاجر برادری کو شٹر ڈاون ہڑتال کرتے اور نہ ٹرانسپورٹروں کو ہی پہیہ جام ہڑتا ل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جہاں تک بات عوامی حلقہ کی ہے، تو وہ تو جیسے گونگا بہرا ہوگیا ہے۔ اور تو اور پاکستان تحریک انصاف جو یہاں کی حکم ران جماعت ہے اور ہر شہری کو حفاظت دینا ان کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے، ان کی طرف سے تو ایک مذمتی بیان تک نہیں آرہا ہے۔ پر ان بے چاروں کو کیا قصور؟ وہ پہلے دھرنوں سے فارغ ہوجائیں، پھر انھیں دوسرے مسائل کی طرف دھیان دینے کا وقت ملے گا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں موندھ لینے سے مسئلے حل نہیں ہوا کرتے۔ ہم سب کو مل کر آواز اٹھانا ہوگی، تب ہی یہ ’’مسئلہ‘‘ حل ہوگا۔ ورنہ بے حس قوم کو بچانے کے لیے اوپر سے بھی کوئی مدد نہیں آیاکرتی، کیوں کہ بے حسوں کا صفحۂ ہستی سے مٹ جانے میں ہی فائدہ ہے۔اللہ تمام آواز اٹھانے والوں کا حامی و ناصر ہو۔
740 total views, no views today


