اسلام آباد (ان لائن)نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئرصحافی و تجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر منحصر ہے ، اگر اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کہہ دے کہ جج کی ویڈیو ٹیپ کا اس کیس پر سنجیدہ اثر پڑے گا تو پھر وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خوش نہیں ہیں جس طریقے سے یہ کیس ہینڈل کیا گیا ہے اور ہمیں ایک ری ٹرائل چاہئے۔اگر ری ٹرائل کی بات کی گئی تو پھر نواز شریف رہا ہو جائیں گے لیکن اگر اسلام آباد ہائیکورٹ یہ کہہ دے کہ ٹیپ کا اثر کیس پر زیادہ نہیں ہے اور ہم اس ٹیپ سے متعلق ویسے بھی فیصلہ کر سکتے ہیں تو اس صورت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی رہائی نہیں ہو گی اور وہ جیل میں ہی رہیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق تفصیلی فیصلہ میں پانچ سوال کرتے ہوئے کہاہے کہ کیا ویڈیو مستند ہے؟ اگر ویڈیو مستند ہے تو اسے کس فورم پر کیسے ثابت کیا جائے؟ ویڈیو کے نواز شریف کے کیس پر کیا اثرات ہوں گے؟ ویڈیو کے جج کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جج ارشد ملک کے رویے کو کس فورم پر دیکھا جائے گا؟ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرمہے، ویڈیو مستند شہادت ثابت ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ یا نواز شریف سمیت فریقین اسے اضافی شہادت کے طور پر لا سکتے ہیں، 428 سی آر پی سی کے قانون کے تحت اس ویڈیو کو شہادت کے طور پر لایا جا سکتا ہے،معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ شہادتیں یا ٹرائل جج کے کنڈکٹ کے متاثر نہ ہونے کا فیصلہ کریگی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ شہادتوں کا دوبارہ خود جائزہ لے، اپیلوں کو میرٹ پر دستیاب شہادتوں سے فیصلہ کرے،جج کے کنڈکٹ سے ملک کے ہزاروں ایماندار اپ رائٹ اور شفاف ججوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں، امید ہے ارشد ملک کو ان کے اصل محکمے میں بھیج کر انضباطی کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے 20 اگست کو محفوظ کیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور جمعہ کو چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کا فیصلہ سنایا۔25صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کر دیا گیا جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال بھی بینچ کا حصہ تھے ۔ فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کیس میں 5 اہم سوال تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا ویڈیو مستند ہے؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر ویڈیو مستند ہے تو اسے کس فورم پر کیسے ثابت کیا جائے؟ تیسرا سوال یہ تھا کہ ویڈیو کے نواز شریف کے کیس پر کیا اثرات ہوں گے؟چوتھا سوال یہ تھا کہ ویڈیو کے جج کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ پانچواں سوال یہ تھا کہ جج ارشد ملک کے رویے کو کس فورم پر دیکھا جائے گا؟۔سپریم کورٹ کے 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مرحلہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات میں مداخلت کرے، بالخصوص متعلقہ ویڈیو کا تعلق اسلام آباد میں زیر التوا اپیل سے ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ویڈیو لیکس کے معاملے پر ایف آئی اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات پر حکومت یا عدالت کی طرف سے کسی کمیشن کے قیام کی رائے کا کوئی فائدہ نہیں۔فیصلے میں لکھا گیا کہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، ارشد ملک لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں جو ڈیپوٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ماتحت احتساب عدالت نمبر 2 میں تعینات ہوئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بتایا گیا کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ارشد ملک کو اب تک لاہور ہائی کورٹ نہیں بھجوایا گیا ہے اس لیے محکمانہ کارروائی کا ابھی آغاز نہیں ہوا۔فیصلے میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک کی 7 جولائی کی پریس ریلیز اور 11 جولائی کا بیان حلفی ان کے خلاف فرد جرم ہے۔عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ویڈیو مستند شہادت ثابت ہونے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ یا نواز شریف سمیت فریقین اسے اضافی شہادت کے طور پر لا سکتے ہیں، 428 سی آر پی سی کے قانون کے تحت اس ویڈیو کو شہادت کے طور پر لایا جا سکتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ جج کے کنڈکٹ کے قابل اعتراض ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرنا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ شہادتیں یا ٹرائل جج کے کنڈکٹ کے متاثر
1,012 total views, no views today



