سوات (سوات نیوز) جے یو آئی ضلع سوات نے پیش امام اور پارٹی ورکروں پر تشدد کرنے والے ملزمان کی گرفتاری اور مسجد کو کھولنے کے لئے دو دن کا الٹی میٹم دے دیا، دودن بعد انصاف نہ ملا تو ڈی آئی جی اور کمشنر کے دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے، مولانا مفتی وزیر زادہ اور ان کے ساتھیوں پر پولیس کی موجودگی میں تشدد کی گئی ہے ان ملزمان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے اور جانبداری کا مظاہر کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں، سوات پریس کلب میں جمعیت علمائے اسلام ضلع سوات کے عہدیداروں جنرل سیکرٹری مولانا سید قمر، سینئر نائب صدر مولانا حجت اللہ، تحصیل مٹہ کے امیر قاری رحیم اللہ، تحصیل بریکوٹ کے امیر فضل واحد، ضلعی مجلس عاملہ کے رکن مولانا محمد عالم، مولانا اسحاق، مولانا قیصر الدین، زخمی ہونے والے مفتی وزیر زادہ کے بھائی کورودان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ چھ سال سے پی ٹی آئی کے رہنما اور ان کے ورکرز کوزہ درشخیلہ میں جے یو آئی کے رہنما اور پیش امام مفتی وزیر زادہ کو دھمکیاں دے رہے تھے،جس کے خلاف جے یوآئی کے مقامی قائدین نے ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن اور متعلقہ ایس ایچ او کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواستیں دی لیکن ان پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، 24اگست کو پی ٹی آئی کے رہنما اختر خان نے پولیس اور غنڈوں کے ہمراہ مسجد میں مفتی وزیر زادہ، مدرسہ کے اساتذہ اور طالب علموں پر حملہ کیا انہیں شدید زخمی کردیا، ہمارے پانچ افراد اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں لیکن اس غنڈہ گردی کے واقعے پر مقامی انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا، انہوں نے کہا کہ جب جے یو آئی کے قائدین نے مظاہرے اعلان کیا تو ہمارے ساتھ ڈی ایس پی نے مذاکرات کئے اور ہمارے شرائط تسلیم کرکے معاہدہ کیا لیکن ڈی ایس پی نے معاہدے سے انحراف کرکے مسجد کو دوسرے قائم مقام پیش امام کے حوالے کرنے کے بجائے مسجد کو تالے لگادیئے اور نہ ہی ایف آئی آر درج کیا، جب ہم نے رابطہ کیا تو کہا کہ امن امان کی صورت حال خراب ہونے کے خدشے میں مسجد کو تالے لگادیئے ہیں،
انہوں نے کہا کہ مفتی وزیر زادہ عرصہ تیرہ سال سے اس علاقے میں مقیم ہیں جب کہ پی ٹی آئی کا رہنما تین سال پہلے اس علاقے میں رہائش پذیر ہوئے ہیں اور کوئی عوامی نمائندہ نہیں لیکن اس کے ساتھ دو پولیس اہلکار سیکورٹی پر مامور ہیں اس سوال کا جواب ڈی آئی جی دیں کہ کوئی عوامی عہدہ نہ وہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے رہنما کو کیوں دو سیکورٹی گارڈز دیئے گئے ہیں جس سے وہ لوگوں کو دھمکا تے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جے یو آئی کے ورکروں پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے، اشاڑے پولیس چوکی کے اہلکاروں نے جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور مسجد و مدرسہ کھول دیا جائے، اگر ہمارے مطالبات دو دین میں تسلیم نہیں ہوئے تو ہم ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن اور کمشنر کے دفاتر کے سامنے دھرنا دیں گے اور اس معاملے کو قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں پہنچائیں گے، اس لئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان، آرمی چیف اور چیف جسٹس مداخلت کرکے ہمیں انصاف فراہم کریں۔
1,505 total views, no views today



