مینگورہ،فارن گریجویٹ ڈاکٹروں نے بھرتیوں میں مسلسل نظر اندازی کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا، تیس دن کے اندرمسئلہ حل نہ ہوا تو وزیراعلیٰ ہاؤس اوراسمبلی ہال کے سامنے دھرنا دیں گے،اس حوالے سے فارن گریجویٹ ڈاکٹرحبیب اللہ خان یوسفزئی ،ڈاکٹرجمشید،ڈاکٹر خورشید احمد اورڈاکٹرلیاقت علی خان نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کرتے ہوئے کہاکہ ایک عرصہ سے یہاں پر ڈاکٹروں کی بھرتیاں ہورہی ہیں جن میں گریجویٹ ڈاکٹروں کو یکسرنظراندازکیا جارہا ہے جو ہمارے ساتھ سراسرناانصافی ہے حالانکہ ہم نے مختلف ممالک سے گریجویٹ کیا ہے اورپی ایم ڈی سی سے رجسٹرڈہیں اورجن میں قابل ڈاکٹرں کی کوئی کمی نہیں مگر اس کے باوجود بھی ہمارے ساتھ امتیازی سلوک روارکھا جارہاہے،انہوں نے کہاکہ 2013اور2014میں میڈیکل افیسرزکی کنٹریکٹ پر تقرری کو ہم مستردکرتے ہیں کیونکہ ان میں ایک بھی فارن گریجویٹ کونہیں لیا گیا ہے ،سینئرڈاکٹروں کو چھوڑ کر جونیئرڈاکٹربھرتی کئے گئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ دکھی انسانیت کی خدمت ہمارامشن ہے جسے ہرحال میں جاری رکھا جائے گا،انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیرصحت شہرام ترکئی،عمران خان ،شاہ محمودقریشی اوردیگر حکومتی اہلکار خودبھی فارن گریجویٹ ہیں اگر ہمیں ہماراحق نہیں مل رہاتو ان پر بھی پابندی لگائی جائے،انہوں نے کہاکہ کیاہم پاکستانی نہیں ہیں ؟پاکستان کے دیگرصوبوں میں فارن ڈاکٹروں کی تقری ممکن ہے مگر خیبرپختونخوا میں نہیں ،انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ 2013اور2014میں کی گئی تقرریوں پر نظرثانی کرے اورہمیں تیس دن کے اندراندرمطمین کرے بصورت دیگر وزیراعلیٰ ہاؤس اوراسمبلی ہال کے سامنے دھرنادینے پر مجبورہوجائیں گے۔
690 total views, no views today


