مینگورہ(سوات نیوز)محکمہ صحت نے سوات میں ڈینگی کے مکمل خاتمہ تک جدوجہد کرنے اوراس مقصد کے حصول کیلئے تمام تر صلاحیتیں اوروسائل بروئے کار لانے کا اعلان کردیا،اس حوالے سے گذشتہ روزڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضلع سوات کے دفتر میں ڈینگی سرگرمیوں کے حوالے سے اجلاس زیر صدارت ڈاکٹر اورنگزیب خان منعقد ہوا جس میں ڈینگی فوکل پرسن محی الدین، زاہد علی خان ا ور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں اب تک کی ڈینگی کیخلاف مہم پراطمینان کا اظہارکیاگیا اورعہد کیاگیا کہ ڈینگی مچھر کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی اس موقع پر تفصیلات بتاتے ہوئے فوکل پرسن محی الدین نے کہا کہ ڈینگی مچھر کے خاتمے کی مہم ہم نے 20 مارچ سے شروع کی تھی جو تاحال جاری ہے اورآج تک ہم نے گھروں کے باہر 35100 جگہوں کا معائنہ کیا ہے جس میں 572624 افزائش کی جگہوں کامعائنہ شامل ہے، 924 افزائش کی جگہوں کو تلف کیا گیا گھروں کے اندر خواتین ورکروں نے 212640 گھروں اور افزائش کی 1945654 جگہوں کا معائنہ کیا جس میں 137 افزائش کی جگہوں کو موقع پر تلف کردیا گیا آج تک سیدو ہسپتال میں 84 مریضوں کو داخل کراد گیا ہے جس میں 68 مریضوں کا علاج مکمل ہواجو گھروں کو جا چکے ہیں اور 156 مریض سیدو ہسپتال میں زیر علاج ہیں ہم نے کئی متاثرہ مریضوں کے خون کے نمونے لیکر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھیجے ہیں ان کی رپورٹ آنے کا انتظار ہیں مزید یہ کہ 21 اگست سے متاثرہ علاقوں ملوک آباد، رنگ محلہ، گنبد میرہ، راجہ آباد، صدیق آباد، حاجی بابا، قمبر وغیرہ میں گھروں کے اندر مچھر مارسپرے شروع کیا گیا روزانہ کی بنیاد پر فوگنگ سپرے بھی جاری ہے ملوک آباد میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرکے 300 افرادکا معائنہ کرکے ادویات دی گئی ہیں مزید فری میڈیکل کیمپس کے انعقاد جاری ہیں فوکل پرسن نے مزیدکہا کہ ڈی سی سوات، اے سی بابوزئ سوات اور پشاور کے صوبائی محکمہ جات کے حکام کیساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں انہوں نے ڈینگی کے خاتمہ کیلئے عوام سے تعاؤن کی اپیل کی ہے۔
1,441 total views, no views today



