سوات(سوات نیوز) تحصیل مٹہ کوزدرشخیلہ میں دشمنی دوستی میں تبدیل، سوات پولیس اور علاقہ مشران نے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرایا، ایس پی انوسٹی گیشن ملک محمد اعجازخان کے کوششوں سے دونوں فریقوں میں صلح ہوگئے،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مینگورہ پولیس سٹیشن میں جرگہ منعقد ہوا جس میں ایس پی انوسٹی گیشن سوات ملک محمد اعجاز خان سمیت علاقہ مشران اور ڈی آر سی ممبران نے شرکت کی اور 28اگست کو تحصیل مٹہ کوز ہ درشخیلہ کے مسجد میں تنازعہ ہونے والے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرایا گیا، 28اگست کو تحصیل مٹہ کوزہ درشخیلہ میں مسجد میں دو فریقین ملک اختر خان سکنہ تحصیل مٹہ رہنما پاکستان تحریک انصاف اور مفتی وزیر سکنہ تحصیل مٹہ رہنما جمعیت علماء اسلام کے مابین مسجد میں جھگڑا ہو اتھا جس میں دونوں فریقین سے 6بندے شدید زخمی ہوئے تھے، جس میں آر پی او ملاکنڈ ڈویژن محمد اعجاز خان اور ڈی پی او سید اشفاق انور کے خصوصی ہدایت پر ایس پی انوسٹی گیشن ملک محمد اعجاز خان نے علاقہ مشران خورشید خان،رحمت علی خان، محمد حکیم خان، نثار خان،خورشید علی،تل ودان، عبداللہ ممبر صاحب، خیرات محمد، اکبر باچا اور ڈی آر سی ممبران کے ساتھ ملکر دونوں فریقین کے درمیان صلح کر ایا،اور اس خوشی کے موقع پر دونوں فریقین کیلئے ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا، علاقہ مشران نے پولیس کے اس احسن اقدام کو سراہا اور کہا کہ اگر سوات میں اسطرح قابل اور ایماندار آفیسر ہوں تو علاقہ سوات میں بد امنی پیدا نہیں ہوگی، ایس پی انوسٹی گیشن ملک محمد اعجاز خان نے ڈی آر سی جرگے کے مشران اور علاقہ مشران کا شکریہ ادا کیااور صلح کرانے والے علاقہ مشران،ڈی آر سی ممبران میں حوصلہ افزائی کیلئے سر ٹیفیکیٹس بھی تقسیم کی، ایس پی انوسٹی گیشن محمد ملک اعجاز نے کہا کہ علاقہ میں امن برقرار رکھنے کیلئے علاقہ مشران کی بہت بڑی کردار ہوتی ہے جو آج ثابت بھی ہو اہے، انہوں نے کہا کہ عوام اور پولیس کے درمیان فاصلہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس قسم کے حالات پیدا ہونے پر علاقہ مشران اور عوام کو اعتماد میں لینگے اور ڈی آر سی اور مظبوط کرینگے تا کہ یہاں عوا م کے درمیان جو مسائل ہو ں وہ اچھے طریقے سے حل ہو سکے، جس سے علاقہ میں امن اور خوشحالی کے فضاء قائم ہوگی۔
واضح رہے کہ ایک ماہ قبل درشخیلہ میں مسجد میں امامت کے تنازعہ پر ملک اخترعلی اور مفتی وزیر زادہ کےدرمیان لڑائی ہوئی تھی جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کیخلاف ایف ائی ار درج کئے تھے، عدالت نے ضمانت منسوخ کرکے دونوں فریقین کو جیل بھیجوادیا تھا، جس کے بعد علاقہ کے عمائدن نے جرگہ کرکے دونوں میں راضی نامہ کرلیا تھا ۔
986 total views, no views today



