مٹہ (رحیم خان) مٹہ میں واوچر سکول خیبر پختونخوا کے اساتذہ کا مٹہ چوک میں دھرنا پولیس نے جگہ جگہ پر ناکہ بندی کرکے دھرنے میں شرکت کیلئے انے والی تمام بچوں کو مٹہ انے نہیں دیا مٹہ کو انے والی تمام سڑکوں پر پولیس نے صبح سے ناکہ بندیاں کرکے دھرنے میں شرکت کیلئے انے والے بچوں کی تمام گاڑیوں کو روک دیئے تھے جو حکومت اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے وہ دشمن کی بچوں کو کیا سبق پڑھایئنگے ایک طرف حکومت تعلیم عام کرنے کیلئے بلند وبالا دعوے کرتے ہیں جبکہ دوسرے طرف صوبے میں 84ہزار بچوں کی تعلیم خطرے میں ڈال کر واوچر سکولوں کو پچھلے ایک سال سے پیسے یونیفارم کتابیں اور تنخواہیں نہیں دیتے اگر حکومت نے واوچر سکولوں کی مطالبات پوری نہیں کی تو پورے صوبے میں سکولوں کو بند کردینگے مٹہ چوک میں دھرنے سے مقررین کا خطاب تفصیلات کی مطابق گذشتہ روز مٹہ چوک میں واوچر سکولوں خیبر پختونخوا کے اساتذہ کا ان سکولوں کو فنڈز نہ دینے کی خلاف احتجاجی دھرنا ہوا جس میں ان سکولوں کے اساتذہ اور دیگر ذمہ داروں نے شرکت کی ادھر پولیس نے دھرنے کی دن صبح سے مٹہ کو انے والے تمام اہم روڈز پر ناکہ بندیاں لگاکر دھرنے میں شرکت کیلئے انے والے تمام بچوں کی گاڑیوں کو روک کر دھرنے میں شریک نہیں ہونے دیا اور جگہ جگہ پر ناکہ بندیوں کی مقامات پر تمام بچوں کی گاڑیوں کو اخری وقت تک روک کر دھرنے میں شرکت کیلئے جانے نہیں دیا ادھر حالات اور ناکہ بندیوں کو دیکھ واوچر سکولوں کے اساتذہ اور یونین کے ذمہ دار ایک ایک ہو کر مٹہ بازار پہنچ گئے اور پھر مٹہ چوک میں دھرنے پر بیٹھ گئے ادھر دھرنے سے چیرمین حاجی عابد صوبائی صدر ظفر اقبال صوبائی جنرل سیکرٹری شمس الہاد ی ضلع پشاور کے جنرل سیکرٹری ارباب عدنان صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حسین احمد سینئر نائب صدر اشتیاق تنولی ڈی ائی خان سے عزیز خان بٹگرام سے ہاشمی ہری پور سے نوید مانسہرہ سے جاوید اقبال بونیر سے سید رحیم دیر سے انجنئیریعقوب شاہ نگلہ سے وکیل خان اور دیگر افراد نے خطاب کیا مقررین نے کہا کہ اس وقت صوبائی سیکرٹری تعلیم اور حکومت کے وجہ سے صوبے میں 84ہزار بچے تعلیم سے محروم ہونے والے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بن کر تماشہ کررہا ہے انہوں نے کہا کہ جو حکومت اپنی عوام کو تعلیم نہیں دے سکتے وہ دشمن کی بچوں کو کیا تعلیم دینگے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے انکے جائز مطالبات پوری نہیں کی تو پورے صوبے میں سکولوں کو بند کردینگے انہوں نے کہا کہ حکومت کے طرف سے تعلیم عام کرنے کی اس سے اور زیادہ وفاداری کی مثال کیا ہوگی کہ خود صوبے میں 84ہزار بچوں کو تعلیم حاصل کرنے سے محروم کی جاتی ہے جو عوام کیساتھ اور اساتذہ برادری کیساتھ ظلم اور زیادتی کا انتہاء ہیں جو کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جایئگی دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر مٹہ زمین خان مومند اور دیگر ذمہ داروں اور دھرنے کی شرکاء کی درمیان اخری وقت تک مذاکرات جاری تھے
1,102 total views, no views today



