مینگورہ،انتشار کے حالت سے نکلنے کیلئے مشترکہ کوششوں کو ضرورت ہے ملک دہشتگردی کا شکار ، پختون دھرتی پر قیامت صغریٰ برپا ہے ہر طرف قتل و غارت گری ہے ، خوف کاسماں ہے ،لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے، شکوک و شہبات نے جنم لیا ہے ، ان خیالات کااظہار معروف پشتو شاعر رحمت شاہ سائل ، ڈاکٹر کمال سعادات ، ہنر کدہ اسلام آباد کے جمال شاہ ، عبیداللہ درویش ، نعیم مرزا ، عطاء اللہ جان اور دیگرنے سسٹینبل ڈویلپمنٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام آرٹ اور لیٹریچر کے امن کے بحالی میں کردار کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ دہشتگردی امپورٹیڈ ہے پختون امن پسند اور تاریخی قوم ہے ، پختون کھبی کسی کا سر تن سے جدا نہیں کرسکتا باہر کے لوگوں نے مغربی کلچر کو یہاں پروموڈ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشتگردی اور اپریشن نے قوم کو مفلوج کردیا ہے ، ہر طرف خاموشی ہے لفظ کہنے سے لوگ ڈرتے ہیں کوئی بات تک نہیں کرسکتا ایسی صورت میں اہل قلم کو کردار ادا کرنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ ڈرو خوف رکھنی والی ذہن خوف ہی پھیلاتے ہیں ذہنوں سے خوف کو نکال کر خوشحالی اور ترقیاتی معاشرہ تشکیل دینا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ پختون دھرتی پر جاری جنگ نے یہاں کے روایات و ثقافت کو تباہ کردیا ہے ، شرپسندوں نے جرگہ چھوڑا نہ مسجد یہاں تک کہ مشران کو ختم کردیا انہوں نے کہا کہ پختون دھرتی میں امن کی بحالی اور خوشحالی کیلئے مشترکہ کوشش کرنی ہوگی ، تعلیم کو فروغ دینا ہوگا ، شعرا و ادیبوں سمیت صحافیوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ قوم کو اس تلخ اور کھٹن حالات سے نکالنے میں کردار ادا کریں ۔
806 total views, no views today


