سات سو سال پہلے ایک آدمی نے دنیا کو تقریباً فتح کرلیا تھا۔ اُس زمانے میں دنیا کے نصف حصے پر اُس آدمی نے بادشاہت قائم کی تھی اور دنیا میں اپنا خوف پھیلا کر نوع انسان پر ایسی دھاک بٹھائی جس کا اثر کئی نسلوں تک باقی رہا۔ اپنی زندگی میں اُ س نے بہت سے نام پائے۔ ’’قہر خدا، جنگجوئے کامل، باج گیر‘‘ وغیرہ۔ عام طور پر وہ دنیا میں ’’چنگیز خان‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کا پیدائشی نام تموچن تھا۔ تموچن اصل میں ایک جنگ جو قبیلے کا نام تھا جسے چنگیز خان کے والد نے فتح کرکے اپنے دشمن قبیلے کا نام اپنے بیٹے کے لیے رکھا۔
چنگیز خان ایک بہت بڑا فاتح تھا۔ وہ جب اپنی فوج کے ساتھ کوچ کرتا، تواُس کا سفر میلوں نہیں، بلکہ ایک بہت بڑے پیمانے پر ہوتا تھا۔ اُس کے راستے میں جو بھی دشمن آتا، وہ دھول کی طرح مٹ جاتا۔ دریاؤں کا رُخ بدل جاتا، پرندے درختوں سے اُڑ جاتے اور اُس کے گزرجانے کے بعد اس شہر میں بھیڑیوں کے سوا کوئی زندہ مخلوق نہ بچتی۔ انسانی جانوں کی اس نے ایسی تباہی کی جو آج کے انسان کو انگشت بدنداں کردیتی ہے۔
قصہ مختصر، ایک خانہ بہ دوش سردار چنگیز خان نے دنیا کی مختلف قوتوں سے جنگیں لڑیں اور کامران ہوا۔
کئی وجوہات کی بنا پر چنگیز خان کی شخصیت ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ چنگیز خان کی عہد کی تاریخ ہمیں ایرانیوں اور چینیوں کی مختلف تحریروں سے ملتی ہے۔ قوت برداشت پہلی چیز تھی، جو چنگیز خان کو ورثے میں ملی تھی۔
اب آتے ہیں شہر بخارا کی طرف جسے چنگیز خان نے برباد کیا تھا۔ یہ شہر ازبکستان میں واقع ہے۔ اس شہر کو امام بخاری کے وطن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں ساتویں عیسوی میں مسلمان آگے تھے۔ ۱۲۲۰ء میں چنگیز خان نے اس پر بربریت کی انتہا کی تھی۔ ۱۸۶۸ء میں اس پر روس کا قبضہ ہوا۔ بخارا شہر جو کبھی صرف ریشم اور پھلوں کے لیے مشہور تھا، ۱۸۵۰ء میں یہاں گیس دریافت ہوئی۔ قابض فوج یہاں اپنے گھوڑوں پر شہر کی سڑکوں پر نکل آئی اور گوداموں اور ذخیروں کو لوٹنا شروع کیا۔ کتب خانوں کو اپنے گھوڑوں کا اصطبل بنایا اور مسلمان بدقسمتی کے عالم میںیہ دیکھتے رہے کہ قرآن شریف مبارک کو گھوڑوں کے پاؤں کے نیچے روندتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ تموچن نے کہا کہ میں اس لیے یہاں آیا ہوں کہ میرے آدمیوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ میرے سپاہیوں کے لیے کھانے کا انتظام کرو۔ آس پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میرے سپاہی بے حال ہیں۔ اس لیے اپنے ذخیرے کھول دو، لیکن مسلمانوں کے گوداموں کو تو پہلے ہی سے گوبی کے جنگ جوؤں نے لوٹ لیا تھا۔ چنگیز خان مسجد سے شہر کے چوک میں گیا۔ ایک قابل احترام سید سے کسی شخص نے پوچھا یہ کون ہے؟ سید نے دھیرے سے کہا، یہ خدا کا عذاب ہے جو ہم پر نازل کیا گیا ہے۔
چنگیز خان نے اہل بخارا کو مخاطب کیا اور ان سے ان کے مذہب کے متعلق سوال کیا۔ پھر اُس نے رائے ظاہر کی کہ حج بیت اللہ بڑی غلطی ہے۔ ایک مسلمان مؤرخ نے ان لوگوں کی مصیبت کی واضح تصویر کھینچی ہے۔ یہ دن بڑا عبرت ناک تھا۔ ہر طرف چیخوں کی آوازیں آتی تھیں۔ اُس کے بعد شہر کے مختلف حصوں میں آگ لگائی گئی اور لکڑی اور کچی عمارتوں سے آگ کے شعلے اٹھنے لگے۔ بخارا سے دھوئیں کا ایسا کثیف بادل بلند ہوا کہ سورج روپوش ہوگیا۔
چنگیز خان جو خود بخارا میں دو گھنٹے ٹھہرا تھا، اس نے پورے شہر کو نیست و نابود کردیا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
1,992 total views, no views today


