سوات (سوات نیوز)ایڈیشنل سیشن جج اضافی ضلعی قاضی بحرین سید بادشاہ کے عدالت نے بیوی کو شدید زخمی کرنے والے شوہر کو مقدمے سے بری کردیا، واقعات کے مطابق مسماۃ کشمالہ بی بی نے پولیس سٹیشن کالام میں ایف آئی آر نمبر 223 مورخہ 16-07-018 جرم324-337Dدرج کیا تھا اور ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا تھا کہ میرے شوہر محمد بشیر نے مجھ پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا ہے،فاضل عدالت نے اس اہم مقدمے میں 28/08-019 کو فیصلہ سنا تے ہوئے ملزم محمد بشیر کو مقدمے سے بری کردیا،واضح رہے کہ ایف آئی آر میں مسماۃ کشمالہ بی بی نے موقف اختیار کیا تھا کہ مجھ پرمیرے شوہر محمد بشیر نے فائرنگ کے بعد دباؤ ڈالا کہ پولیس سٹیشن میں یہ کہہ دو کہ میں نے اپنے اپ پر خود فائرنگ کردی ہے ورنہ اپکی بیٹی کی طرح اپکے بیٹے کو بھی قتل کردیں گے، مجبوراً ان کے دباؤ میں آکرمیں نے بیان دیا، بعد میں جب میرے والد اور خاندان کے دوسرے افراد ہستپال پہنچ گئے اور میں نے ان ساروں کو صورت حال سے اگاہ کردیا، تو میں نے اپنے شوہر پر دعویداری کی، متاثرہ خاتون نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر محمد بشیر ایک دن مجھے مار رہے تھے کہ اچانک لاٹھی میری ایک ماہ کے بیٹی ساجدہ پر لگی اور وہ موت کے اغوش میں چلی گئی اور میں نے ڈر کے مارے کچھ نہیں کہا راتو رات ان کو دپنایا گیا، میرے انسانی حقوق اور خواتین تنظمیوں سے ہمدردانہ اپیل ہے کہ میں ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں اور خواتین کے ساتھ اگر اسی طرح صورتحال رہا اور اداروں کے طرف سے تحفظ نہیں ملا تو یہاں پر میری طرح اور خواتین کی زندگی اجیرن بن جائیگی،اور جس طرح سوات میں پورے ملک سے زیادہ خواتین کے خود کشیوں کا سلسلہ جاری ہے ملک کی اداروں سن لو یہ بھی ایک دن خبر بن جائیگی کہ کشمالہ بی بی نے دریائے سوات میں چلانگ لگار کر خود کشی کرلی ہے، چند مہینوں میں تین سو سے زائد خواتین نے خود کشی کرلی ہے جس میں ایک نمبر کا اور اضافہ ہوجائیگا،اداروں سے انصاف نہ ملنا مجھ جیسے غریب کو ایک بڑی عالمیہ سے کم نہیں اور انصاف حاصل کرنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جو میرے پاس ہے ہی نہیں، میں یہ بھی استقامت نہیں رکھتی کہ اپنے ایک سالہ بیٹے شاہ سوار کی کفالت کروں، انہوں نے کہا کہ میں نے ملک کے اہم اہم اداروں کے سربراہوں کو بھی عاجزانہ درخواستیں بھیج دی ہے مگر کہی سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، میرے شکایات پر ہونے والے انکوائیریاں اصل فائل کے ساتھ نہیں ملی فیصلہ آگیا مگر وہ انکوائریاں مثل کے زینت نہ بن سکی، پتہ نہیں مجھ جیسی کتنی حوا کی بیٹیاں اسی طرح محرومیوں کی زندگیاں گزاررہے ہیں، اخر میں انہوں نے کہا کہ اگر مجھے انصاف نہ مل سکا تو میں اپنے ایک سالہ بیٹے شاہ سوار کے ساتھ خود کشی کرلوں گا، خودکشی کے تمام تر ذمہ ملک کے اس اداروں سربراہو پر ہوگی۔
1,090 total views, no views today



