تحریر: خورشید علی
رحیم محمد کی عمر سینتالیس سال ہے۔ وہ گاؤں دکوڑک سوات کا رہائشی ہے۔ ایک پاؤں سے معذور یہ شخص ہر وقت اپنے خیالوں میں گم رہتا ہے اور اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے اس کے چہرے پر عجیب سی بے چینی چھاجاتی ہے۔ رحیم محمد کے چار بچے ہیں جن میں سب سے بڑی اس کی بیٹی ہے جو آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے جب کہ باقی بچے پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ رحیم محمد کہتے ہیں کہ میں سال دو ہزار نو تک ایک خوش حال زندگی گزاررہا تھا کہ تین جون 2008ء کو ایک مارٹر گولہ مسجد کے قریب اس وقت آگراجب میں نماز پڑھنے کے بعد گھر واپس جارہا تھا۔ یہ صبح کے تقریباً ساڑھے سات بجے تھے۔ مارٹم گولے کے دھماکے میں، مَیں بری طرح زخمی ہوگیا۔ بعد میں اسپتال میں میرے ایک پاؤں کو کاٹ دیا گیا۔ سال دو ہزار بارہ تک میری زندگی کے دن بہت ہی مشکل سے گزرے۔ حکومت نے مدد کی اور نہ ہی غیر سرکاری اداروں اور مخیر حضرات نے میرے حالات جاننے کی کوشش کی۔ حکومت وقت نے مجھے معذور افراد کا شناختی کارڈ بھی جاری کیا، لیکن اس کارڈ سے بھی ہمیں کوئی مدد نہ ملی۔ انھوں نے کہا کہ ایک اخبار میں معذور وں کو مصنوعی اعضاء لگانے کا اشتہار پڑھا، تو اس نمبر پر رابطہ کیا اور بالآخر مجھے مصنوعی پاؤں لگادیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ نے پاؤں کے ساتھ ساتھ میرے بچوں کو تعلیمی وظائف بھی دیئے اور کاروبار شروع کرنے کے لیے بھی مجھے مدددی گئی۔میرے بچوں کے وہ سوال اب بھی مجھے یاد ہیں جب میں معذور ہوا اورکسی کام کا نہ رہا، تو میرے بچے مجھ سے پوچھتے تھے کہ ہمارے اسکول اور پڑھائی کا کیا ہوگا؟ میرے بچے اسکول جانا اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ انھوں نے اس کا بندوبست خود ہی کردیا اور آج میرے بچے اسکول جارہے ہیں اور دل لگا کر پڑھائی بھی کرتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ہمارے ساتھ مدد نہ کی جاتی، تو شاید میرے بچے آج بھیک مانگ رہے ہوتے۔
شاہی بیگم کی عمر چالیس برس سے زیادہ ہے اور وہ تحصیل کبل کے علاقہ کوزہ بانڈی سے تعلق رکھتی ہے۔ شاہی بیگم کا شوہر اسکول میں بچوں کو پڑھاتا تھا۔ وہ دہشت گردی کی اندھی گولی کا نشانہ بن گیا۔ اس کے بعد میں اور میرے بچے علاقہ کے عوام کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ شاہی بیگم کہتی ہیں کہ سوات کی دہشت گردی نے میرے ہنستے بستے گھر کو تباہ کیا۔ ہمارے گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ میرا شوہر تھا۔ جب وہ فائرنگ میں شہید ہوا تو پھربچوں اور گھر کی نگہداشت مشکل تھی۔ پھر ہماری مدد ’’نوید زندگی بحالی حیات پروگرام‘‘ کے تحت کی گئی اور مجھے تقریباً تین لاکھ روپے کا سامان کاروبار کے لیے دیا گیا۔ اب میں اپنے گھر میں مانیاری کا سامان بھیج کر اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہوں۔
ہمت بی بی کی عمر پندرہ سال ہے۔ وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے۔ سوات میں دہشت گردی اور لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آج بھی اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ میری زندگی کے دو قیمتی سال ضائع ہوگئے جب شدت پسندوں نے ہمارے اسکول کو بند کردیاتھا۔ ہمارے اسکول جانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اگر وہ دو سال ضائع نہ ہوتے، تو آج میں دسویں جماعت پاس کرچکی ہوتی۔ میں نے اپنے والد سے کہاں کہ شہر چلتے ہیں تاکہ ہم اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں۔ ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ مارٹم گولہ گرنے سے میرے والد بری طرح زخمی ہوگئے اور تعلیمی سلسلہ رک گیا۔ انھوں نے کہاکہ یو ایس ایڈ کی بہ دولت ہی ادھورا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا اور آج میں میرے بہن بھائی اسکول جاکر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
خیبر پختون خوا حکومت کے مطابق سال 2010ء کے بعد صوبہ بھر میں آٹھ سو سولہ بم دھماکے ہوئے، جس میں دو ہزار سے زائد جاں بحق جب کہ پانچ ہزار زخمی ہوئے۔ اسی طرح فاٹا سیکرٹریٹ کے مطابق فاٹا میں سات سو تریاسی بم دھماکے ہوئے ہیں جس میں پندرہ سو افراد جاں بحق جب کہ پچیس سو زخمی ہوئے ہیومن رائٹس کے سا تھ کام کرنے والے فضل خالق خان کا کہنا ہے کہ ملاکنڈڈویژن میں شورش کے دوران میں پانچ ہزار بچے یتیم ہوئے ہیں، ابتدا ء میں ان بچوں کی پرورش کے لیے کوئی سرکاری ادارہ موجود نہیں تھا۔ یہ بچے اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہوتے تھے جو ان سے بھیک منگواتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ سوات میں ایسے درجنوں بچوں کو ہم نے دیکھا جو رات کے وقت گلیوں میں سوتے تھے جب ان سے پوچھ گچھ ہوئی، تو ان بچوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت تک گھر جانے کی اجازت نہیں جب تک ہم دو سے تین سو روپے اکٹھا نہیں کرلیتے۔ جس دن ہمارے ساتھ پیسے کم ہوتے ہیں، ہم گلیوں او ر بازاروں کے فٹ پاتوں پر رات بسر کر تے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے بچے توجہ کے مستحق ہیں، تاکہ کل یہ بڑے ہوکر سماج دشمن عناصر کے ہاتھ نہ لگ سکیں اور ایک مفید شہری بن سکیں۔
یو ایس ایڈ کے ’’نوید زندگی بحالی حیات‘‘ پروگرام کے تحت خیبر پختون خوا اور فاٹا کے سیکڑوں لوگوں کو کاروبار ی سامان، ان کے بچوں کو تعلیمی وظائف اور خوراکی وغیر خوراکی اشیاء دی جاچکی ہیں۔ ادارے کے کوآرڈی نیٹر کمیونی کیشن نوید یوسف زئی نے کہا کہ یہ پروگرام سال 2012 ء سے شروع کیا گیا ہے۔ تین سالہ اس پروگرام میں ان لوگوں کی مدد کی جاتی ہے جو دہشت گردی سے متاثرہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ سال 2012ء کے بعد جو لوگ دہشت گردی کا شکار رہے ہوں، تو ان لوگوں کی رجسٹریشن کی جاتی ہے جس کے لیے ایک ٹول فری نمبر 0800-26266 دیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ افراد اس نمبر پر رابطہ کرتے ہیں جس کے بعد ہماری ٹیم متعلقہ متاثرہ خاندان کے پاس پہنچ جاتی ہے اور ضروری کوائف لینے کے بعد ان کی امداد کی جاتی ہے۔ سال 2007ء سے لے کر اب تک متاثرہ خاندانوں کو اس پروگرام میں شامل کیاجارہا ہے۔متاثرہ افراد کو مختلف ہنر کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے لیے روزگار شروع کرسکیں
امریکی ادارے کے اس پروگرام کے تحت اب تک سیکڑوں لوگوں کی امداد کی جا چکی ہے، لیکن اب بھی ہزاروں افراد ایسے ہیں جو اس امداد سے
محروم ہیں۔ اس بارے نوید یوسف زئی کا کہنا ہے کہ جتنے لوگوں کے کوائف ہماری ساتھ ہیں ان کو امداد دی جائے گی اور اگر اس پروگرام کو وسعت دی گئی، تو مزید ایسے متاثرہ افراد کو روزگار پروگرام کے تحت مدد فراہم کی جائے گی۔
سوات کے متاثرہ شخص رحیم محمد نے یو ایس ایڈ کے اس پروگرام کو کافی سراہا لیکن ساتھ انھوں نے حکومت وقت پر بھی زور دیا حکومت کو بھی آگے آنا ہوگا اور ان لوگوں کی امداد کرنی ہوگی۔ کیوں کہ بیرونی امدادی ادارے کب تک متاثرین کی امداد کرتے رہیں گے۔ اگر انھوں نے سرگرمیاں ختم کردیں، تو کہیں متاثرین بھکاری نہ بن جائیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ امدادی ادارے ہم جیسے متاثرین کی امداد نہ کرتے، توشاید ہم جینے کا حوصلہ کھو دیتے۔ انھوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ اب بھی ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن کی امداد کی ضرورت ہے۔ حکومتی ادارے بھی یو ایس ایڈ کی طرح متاثرین کا کاروبار شروع کرنے کے لیے مدد کریں، تاکہ وہ دوسروں پر بوجھ بننے کی بجائے متاثرہ افراد کی مدد کرسکیں۔
1,538 total views, no views today


