کالام، کالام تابحرین سڑک کی تعمیر کا خواب صرف خواب ہی بن کر رہ گیا۔ سڑک کی تکمیل کے لیے دو مہینے ڈیڈ لائن دی تھی مگر پانچ مہینے گزرنے کے باوجود دس فیصد کام بھی مکمل نہ ہوسکا، مذکورہ سڑک سوات کے تباہ کن سیلاب میں دریابرد ہوچکا تھا۔ سڑک کی خستہ حالی کے باعث رونما ہونے والے حادثات میں کئی خاندان اجڑ گئے اور درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہے۔ حکومتی دعوے صرف اخباری بیانات اور زبانی جمع خرچ تک محدود ہیں۔ حال ہی میں این ایچ اے کی طرف سے اڑتالیس کروڑ جاری کردئے تھے ۔
جس کے افتتاح کے کریڈٹ لینے پر کئی سیاسی راہنما آپس میں دست و گریباں بھی ہوگئے تھے۔مذکورہ سڑک پر تین سیاسی راہنماؤں نے تین بار افتتاح کرلیا ،لیکن اختتام کی جانب قدم بڑھ نہ سکے۔ افتتاحی تقریبوں میں سیاسی حکمرانوں نے دو مہینے میں سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کرنے کے وعدے کرلئے تھے ۔لیکن تعمیراتی کام میں انتہائی سست رفتاری اور غیر معیاری ہونے کی وجہ سے پانچ مہینے گزرنے کے باجود سڑک جوں کا توں ہے۔ بھاری مشینری کے بجائے بیلچوں اور ہتھ ریڑھیوں سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ سیمنٹ تارکول کے بجائے ریت باجری استعمال کیا جارہا ہے ۔ سڑک کی تعمیر آئندہ سیزن تک بھی مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اڑتالیس کروڑ خرد برد ہونے کا خدشہ ہے۔ بحرین تا کالام آدھ گھنٹے کا سڑک بمشکل تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ انتہائی خستہ حالی کے باعث ٹریف حادثات معمول بن گئے ہیں۔بار بار حادثات اور شدید مشکلات کی وجہ سے علاقہ عوام دلبرداشتہ ہوچکی ہے۔ اگر صورت حال یہی رہی تو لاکھوں لوگ احتجاج پر اتر آئیں گے اور حکومتی اداروں کا گھیراؤ اور دھرنوں کا سلسہ شروع ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ : ایچ ایم کالامی سوات نیوز ڈاٹ کام
461 total views, no views today


