تحریر ۔ فاروق خان
15 نومبر کی رات دس بجے 24 سالہ حضرت علی یوسفزئی اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد بائی پاس پر چہل قدمی کرنے جارہے تھے جو ان کے روز کا معمول تھا کہ وہاں موجود زیر تعمیر فلائی اوور کے مقام پر ایک تیز رفتار سفید رنگ کی موٹرکار بے قابوں ہو کر نوجوان حضرت علی یوسفزئی پر چل دوڑی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے۔
اگر غلطی گاڑی میں سوار ڈرائیور کی تھی تو اس کے ساتھ ساتھ اس کے موت کی زمہ دار یہ فلائی اوور اور اس کو بنانے والے بھی ہے۔ کیونکہ نہ وہا فاصلے پر کوئی سائن بورڈ لگایا گیا ہے اور نہ ہی لائٹس کا خاطرخواہ بندوبست کیا گیا ہے جس سے پتہ چل سکے کے کوئی تعمیراتی کام چل رہا ہے۔
سوال یہ اٹھتاں ہے کہ کیا حکومت اور انتظامیہ کی اتنی ناقص پلیننگ کا خمیازہ ہمیشہ عوام کو بھگتنا پڑیگا۔۔؟
کیا بی آر ٹی کی طرح بائی پاس فلائی اوور پر بھی کچوے کی رفتار پر کام ہوگا اور عوام کی جان و مال اس پراجیکٹ کے مکمل ہونے تک رسک میں رہینگی؟
اگر فنڈز پہلے سے موجود ہے تو اس طرح کے بڑے منصوبوں کو بروقت ختم کیوں نہیں کیا جاتا۔؟ مجھے یقین ہے ان سب محرکات کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا بلکہ صرف یہ بات ہوئی ہوگی کے کتنا کمیشن بچے گا ؟
کہا کہا پر پیسے بچائے جائے اور جیبے بھری جائے۔
بس دعا ہے کہ علی جیسا کوئی اور نوجوان اس فلائی اوور کی بے رحمی کا شکار نہ ہو۔
1,895 total views, no views today



