سوات ،خواتین پر تشد بندکرنے کے لئے قانون سازی کی ضروت ہے، قانون میں خواتین کو بہت کم تحفظ دیاگیاہے، عرفان خان، حکومت خواتین کو تحفظ دے رہی ہے اور اس کے لئے قوانیں موجود ہے مگر عملدرامد میں کوتاہیاں ہوتی ہے ڈسی سوات ،تفصیلات کے مطابق مقامی ہوٹل میں عورت فاونڈیشن کے تعاون سے اویکنینگ کے زیرے اہتمام خواتین کے مسائل پر سمینار منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے عورت فاونڈیشن کی نیشنل منیجر سائمہ منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختون خوامیں خواتین کے ساتھ انتہائی زیادتیاں ہورہی ہے اور پچھلے نومہینوں کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے خبروں کے مطابق 278خواتین کو ماراگیاہے ،اسطرح 80خواتین نے خودکشیاں کرکے اپنے زندگی کاخاتمہ کردیا، انہوں مزید کہاکہ پچھلے نو مہینوں میں عورتوں پر تشدت کے604کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں ، مزید انہوں نے کہاکہ یہ اعداد وشمار اخبارت میں شائع ہونے والے خبروں سے لی گئی ہیں جبکہ حقیقت میں اعدا وشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں کیوں کہ بہت سارے کیس رپورٹ ہونے سے بچ جاتے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ اس تشدت کو ختم کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہیں پاکستان کے آئین میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوئی خاص قوانیں موجود نہیں ہیں ، خواتین کو 33فیصد مختلف شعبوں میں حصہ دینا ان کا مطالبہ ہے، اس موقع پر عورت فاونڈیشن کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر شبینہ حیات نے کہا کہ یہ اعداد وشمار انتہائی تشویشناک ہے اور اس پر قابوپانے کے لے حکومتی سطح کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر اگاہی کی ضرورت ہیں اور اس سلسلے میں غیر سرکاری ادارے اہم کردار اد کرسکتے ہیں، اس سے پہلے مقامی غیر سرکاری ادارے اویکنینگ کے رہنما افتخار خان نے سوات میں عورتوں کی تشدت پر تفصیلی بحث اور پریزٹیشن پیش کی انہوں نے کہا کہ سوات میں خواتین پر تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہے اور اس کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہیں ، اویکنینگ ہی کے سربراہ عرفان خان نے کہا کہ ان کی تظیم خواتین پر تشد د کے خلاف سرگرم عمل ہے اور علاقے میں متاثرہ خواتین کو مفت قانونی، مالی اور اخلاقی تعاون دیتے ہیں اور اس سللے میں سیول سوسائٹی ان کے ساتھ مدد کررہی ہے ، سمینار کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر اشفاق خان نے کہا کہ خواتین پر تشد کے خلاف پاکستان کے آئین میں دفعات موجود ہیں اور حکومت خواتین کو ہرقسم کی تحفظ فراہم کررہی ہے بعض اوقات اس پر عمل درامد میں کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔لیکن جن خواتین کو مشکلات درپیش ہووہ ضلعی انتظامیہ سے مدد لے سکتے ہیں ایک خاتون نے مینگورہ میں رکشوں میں غیر ضروری آئینوں سے کوفت اور مشکلات کی شکایت پر اے سی نے کہا کہ آج ہی وہ پولیس کو اس سلسلے میں حکم جاری کریگاکہ مینگورہ کے تمام رکشوں سے غیر ضروی شیشے تھوڑ دی جائیں۔
812 total views, no views today


