سوات (سوات نیوز) ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے گرینڈ جرگہ نے سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم کی قیادت میں وفاقی وزیر پانی و بجلی عمر ایوب خان سے وفاقی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ملاقات کی، اس موقع پر سابق ممبر قومی اسمبلی میانگل عدنان اورنگزیب بھی موجود تھے جن کی کاوشوں سے تاجروں کا وفاقی وزیر عمر ایوب سے ملاقات ہوئی، گرینڈ جرگہ میں سوات سے تعلق رکھنے والے سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری وکیل احمد، ڈاکٹر خالد محمود خالد، شاہین فارما کے فضل کریم، زاہد خان، سوات چیمبر آف کامرس کے سابق صدر یوسف علی خان، معروف تاجر محمد رحمان صراف، تیمرگرہ سے واجد جان، لائق زادہ، انجمن تاجران دیر کے صدر انوار الدین، بونیر کے صدر بشیر احمد، بخت علی اور دیگر شامل تھے اس موقع پر تاجروں کی نمائندگی کرتے ہوئے عبد الرحیم خان نے وفاقی وزیر عمر ایوب کی توجہ سوات میں شورش کے دوران تاجروں کے نقصانات اور قیام امن کیلئے ان کی قربانیوں کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن بھر کے تاجروں کو شورش کے دوران کافی نقصانات اُٹھانا پڑے
لیکن حکومت کی طرف سے ان کے نقصانات کا کوئی ازالہ نہ ہو سکا انہوں نے کہا کہ اب ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ذریعہ معاش سیاحت سے وابستہ ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے حکومت پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ ان کوبطریق احسن سرانجام دیں عبدالرحیم نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سیاحتی سیزن میں ان علاقوں میں کم سے کم لوڈ شیڈنگ کی جائے اور اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری کیا جائے اور خصوصی طور پر رمضان شریف میں انتہائی کم لوڈ شیڈنگ کی جائے انہوں نے کہا کہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور کاروباری طبقہ باقاعدگی سے بجلی بلز جمع کراتے ہیں اور جس طرح حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جن علاقوں میں پابندی کے ساتھ بجلی بلز جمع کرائے جائیں گے ان علاقوں کو بجلی لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کر دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ اگر واپڈا کی طرف سے سیزن میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم سے کم رکھا گیا تو یہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا انہوں نے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا معاملہ بھی اُٹھایا جبکہ کاروباری لوگوں کے میٹر داخلہ میں این ٹی این کے اندراج سمیت واپڈا کے حوالے سے کاروباری لوگوں اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل پر وفاقی وزیر کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور عبدالرحیم نے اس حوالے سے دو گھنٹوں تک وفاقی وزیر عمرایوب خان کو واپڈا (پسکو) بارے لوگوں کے تحفظات پیش کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور تاجروں کا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کر دیا جبکہ اس موقع پر میانگل عدنان اورنگزیب نے بھی تاجروں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے وفاقی وزیر کو ان مسائل کے حل کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا جس پر وفاقی وزیر عمر ایوب خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے تاجران گرینڈ جرگہ کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے انہوں نے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ پر غور و خوص کرنے کی یقین دہانی کرائی انہوں نے کمرشل میٹر لگانے میں نیشنل ٹیکس نمبر NTN ختم کرنے کے احکامات جاری کئے اور مینگورہ رحیم آباد گر ڈ اسٹیشن کو اپ گریڈ کرنے کی بھی ہدایت کی انہوں نے سخاکوٹ بازار، بونیر سواڑئ اور مٹہ بازار کیلئے دو دو ٹرانس فارمرز کی بھی منظوری دی اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ موجودہ حکومت ان کے مسائل کے حل کیلئے تمام اقدامات اُٹھا رہی ہے اس موقع پر عبدالرحیم نے وفاقی وزیر عمر ایوب کا اس اُمید کے ساتھ شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ جرگہ میں جن مسائل کے حل کی یقین د ہانی کرائی ہے اس کو عملی جامہ پہنائیں گے اخر میں عبدالرحیم نے عدنان اورنگزیب کی تاجروں کے مسائل کے حل میں غیر معمولی دلچسپی لینے اور ان کی ملاقات وفاقی وزیر عمر ایوب سے کرانے میں اہم کردار ادا کرنے پر اُن کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ تاجران گرینڈ جرگہ نے وفاقی وزیر عمر ایوب کو سوات آنے کی دعوت بھی دی جو وفاقی وزیر عمرا یوب نے قبول کر لی۔
1,286 total views, no views today



