مدین ، خیر پور حادثے کے لواحقین کا مدین پریس کلب میں احتجاجی پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ ،المعصوم کوچ والوں نے ایک دن بھی حادثے کے شہدا کا سوگ نہیں منایا ، پریس کانفرنس میں مقررین کا خطاب تفصیلات کے مطابق پیا، خوڑ ،چانچرو،اور ساتال کے وہ لواحقین جن کے عزیز وقرباء خیر پور حادثے میں شہید ہو گئے تھے لوا حقین میں طور خان ،اشرف علی ،حمیرا بچی،احمد ذادہ،ولی رحمت ساتال، ولیت محمد ،محمد ثواب،عمر محمد ، اختر علی،عقل ذادہ،مسلم خان،ابراھیم وغیرہ شامل ہیں نے مدین پریس کلب میں احتجاجی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ المعصوم کوچ کے مالک نے خیر پور حا دثے کے ورثاکو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا ہے مگر ہم لوگوں کے پاس وہ فاتحہ کے لئے بھی نہیں آئے انہوں نے کہاکہ سندھ گورنمنٹ نے شہدا کے وارثین کے لئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا مگر تا حال اس پر کوئی عمل درامد نہیں ہو ا انہوں نے کہاکہ سندھ گورنمنٹ نے موقع پر شہدا کو علاقوں میں پہنچانے کے لئے طیارہ مہیا کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں مگر اس وقت کہاگیا تھا کہ شہدا کے ساتھ ان کے ورثا میں ایک ایک شخص طیارے میں جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا ،کہاکہ حادثے کا ڈرائیور احمد خان تمام شہدا کا قاتل ہے اور زندہ ہے جو کہ ایک شرابی اور نشئی آدمی ہے اس وقت بھی وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا حکومت اس کو گرفتار کر کے اس کا لائسنس ضبط کرے انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے احتجاج کا حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا تو ہم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور ہر قسم کا احتجاج کر یں گے جس میں روڈ بلاک کر بھی شامل ہے پریس کانفرنس کے بعد لو حقین نے المعصوم کوچ اڈا مدین کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
760 total views, no views today


