2014 جاتے جاتے اورآخری ہچکیاں لیتے لیتے اپنی 16دسمبرکوملک کی تاریخ کی بدترین بربریت کے نام کرگیاجسے اب ہرسال کی 16دسمبرکوسوگ اوریوم سیاہ کے طورپر منایاجائے گا،پھولوں کا شہر،مہمان نوازوں کا شہر،تھکے ہارے لوگوں کے سستانے کا شہر،میرے مخلص اورپیارے دوستو ں کا شہر،میرے ملک اورمیرے صوبے کاخوبصورت شہر،جی ہاں پشاورشہرجہاں خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی جس سے اس شہر نے سرخ چادراوڑھ لی اورلہولہوہوگیا،سانحہ پشاور کی المناک اور اندوہناک خبرمجھے اسلام آبادمیں ملی جو پوری قوم کی طرح میرے بھی دل ودماغ اورذہن پرہتھوڑے کی طرح لگی اس وقت مجھے اپنے سات سالہ بیٹے ضمیرعالم خیال آیااورپھرمیرے احساسات مختلف دائروں اوراکائیوں میں تبدیل اورگڈمڈہوگئے ،دیکھئے اس اندہناک سانحہ میں میرے کتنے ضمیراورکتنی ملالائیں خون میں نہاکرہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جداہوگئے،مسلتے وقت کتنے تڑپے ہوں گے وہ پھول، کتنی منتیں کی ہوں گی ان معصوموں نے مگر۔۔نہیں شائد انہیں تومنت سماجت کا بھی موقع نہیں دیاگیاہوگا،وہ لوگ ۔۔۔ہاں وہ بے ضمیرلوگ آئے اورمیرے بہت سے ضمیروں کے گلے کاٹ کر بہت سے بے ضمیروں کے ضمیروں کو جگادیا،سانحہ کیاتھااک قیامت تھی،اک کربلااوراک بھونچال تھاجوآکر گزرتوگیامگر اپنے پیچھے بہت ہی تلخ اورکڑوی یادیں چھوڑگیا،لوگ جنازوں کو کاندھادیتے دیتے تھک گئے،شدت غم سے والدین کے کاندھے جھک گئے ،بچوں کی داستانِ غم دلوں پربوجھ بن گئی ،ذہنوں کوتاریک اورفضاء کو سوگوارکردیا،سکول جہاں بچے زیورتعلیم سے آراستہ ہوتے ہیں ،سکول جو بچوں کیلئے محفوظ مقام ہے،سکول جس سے کسی بھی قوم کے بچوں کا مستقبل وابستہ ہوتاہے،سکول جس میں والدین زبردستی بچوں کو بھیجتے ہیں، ہاں سکول جہاں پراب والدین بچوں کو بھیجنے سے کترانے لگے ہیں۔
مدثر ،شہبازعلی،مبین،رفیق،عبداللہ اورمیرے دیگر ضمیر اورمیری دیگر ملالائیں آج صبح بھی معمول کے مطابق جاگ اٹھے ،ناشتہ کیااور کل ملک وقوم کے تحفظ کی خاطر تیار ہونے کیلئے ہنسی خوشی سکول روانہ ہوئے مگرانہیں کیاپتہ تھا کہ آج ان کے خوابوں کو چکناچورکرنے کیلئے کیاکیا تیاریاں کی گئی ہیں،آج سکول سے وہ خودواپس نہیں آئیں گے ان کے بے روح جسموں کو لایا جائے گا،ان کے لاشے لائے جائیں گے،ان کے آرمانوں کی میتیں لائی جائیں گی اوران کی دائمی جدائی پرملک بھر میں تین دن سوگ کااعلان بھی کیا جائے گا،یہی ہیں وہ ملالائیں جو امن ایوارڈکے اصل مستحق ہیں۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب حاجی بابا سکول میں نماز جنازہ کے دوران دھماکہ ہوا،وہ دن بھی نہیں بھولا جب نشاط میں دھماکہ ہوااوراس دن کو بھی تو بھلایا نہیں جاسکتا جب سیدوشریف روڈ پر خودکش ہوا ،اہلیان سوات کے زخم ابھی تو بھرے نہیں ہرے ہیں جن پر مرہم پٹی رکھنے کی ضرورت ہے مگرمرہم پٹی کی بجائے ان پر نمک کے ساتھ ساتھ ہری مرچیں چھڑکی گئیں،ہم نے جنازوں میں اورقبروں پرپھول دیکھے تھے مگر آج پھولوں کے جنازے بھی دیکھنے کو ملے ۔
ایک سوال ہے کہ ظلم وجبر کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا ؟؟یہ سوال کس سے کیا جائے ؟اورجس سے بھی کاجائے مگرجواب دے گا کون؟سوال وجواب کامرحلہ کب کا گزرچکا اب مرحلہ ہے الجھے ہوئے حالات کو سلجھانے اوربگڑے ہوئے حالات کو سدھارنے کا ،بس اب یہ سلسلہ بندہونا چاہئے۔
میں دیکھ رہاہوں آج درودیواروں کی طرح پرندے بھی خاموش ہیں ان کے چہچہانے کی آوازسنائی نہیں دے رہی ہے ،فضاء بھی بوجھل اورسناٹے کی چادراڑھے ہوئی ہے ،میں نے رخت سفرباندھا اوربوجھل قدموں کے ساتھ دل پر ایک بوجھ لئے اسلام آباد سے سوات کیلئے روانہ ہوا،رات کو اپنے گھر واپس پہنچاتو میراضمیرمیراانتظار کررہاتھاجسے بانہوں میں لے کرکافی دیر تک چھومتارہااورقارئین یقین کریں کہ اس وقت میرادل خون کے آنسو روتا رہا۔
جاتے جاتے ایک پشتوکا ایک شعرقارئین کی نذرکرناچاہوں گا
ہم توتنکے چن رہے تھے آشیانے کے لئے
آپ سے کس نے کہابجلی گرانے کے لئے
692 total views, no views today


