سال بھر میں یہ واحد رات تھی جب ہمیں شام کے بعد گھر سے نکل کر گھومنے کی اجازت ملتی تھی۔ ہم دو تین ہم عمر ساتھی پہلے تو افسر آباد کے قریب واقع پہاڑی پر چڑھ کر سیدوشریف اور مینگورہ کے چراغان سے لطف اندوز ہوتے۔ یہ نظارہ بڑا سحر انگیز ہوتا تھا۔ پھر نیچے آکر دونوں قصبوں میں مختلف جگہوں پر جاری رقص و سرود کی محفلیں دیکھتے تھے اور رات گئے گھروں کو لوٹتے تھے۔
اسی طرح کی بارہ دسمبر کی ایک یخ بستہ رات کا ذکر ہے۔ ہم اور پڑوس کے چند لڑکے چراغان کا نظارہ کرنے کے بعد سیدوشریف کی طرف چل نکلے۔ والئی سوات کی رہائش گاہ کے عقب میں مشین شہید کے گرد و نواح میں سیف الملوک صدیقی مرحوم کا حجرہ اُس رات کو مرجع خلائق ہوتا تھا۔ اس رات کو ان کے ہاں ثقافت اور ادب ساتھ ساتھ دکھائی دیتے تھے۔ صوبہ بھر سے آئے ہوئے شعراء اور مقامی ادیب مشاعرے میں اپنا کلام سنا کر داد سمیٹتے اور اس کے ساتھ ہی اسٹیج ڈرامے اور رقص کی محفل سجائی جاتی تھی۔
جس رات کا میں ذکر کررہا ہوں، اُس رات کو محفل موسیقی کے لیے طوطالئی سے ایک رقاصہ آئی تھی۔ اس کا ’’صوابی وال‘‘ لہجہ ہم بچوں کے کانوں کے لیے بہت مسحور کن ہوتا تھا۔
پروگرام کے آغاز میں اس نے سیف الملوک صدیقی صاحب کی تخلیق کردہ ایک خوب صورت نظم اپنی شیریں آواز میں گاکر سنائی جس کا مطلع مجھے ساٹھ سال گزرنے کے باوجود آج تک یاد ہے۔
اے دَ جہان زیبہ! زیب پہ تا جہان کوی
فخر پہ تازکہ دَ سوات ہر یو انسان کوی
جس کا مفہوم یوں ہے کہ اے جہان زیب، دنیا تیری وجہ سے خوب صورت ہے۔ اسی لیے سوات کا ہر انسان تجھ پر فخر کرتا ہے۔
اس کے بعد ڈرامے کا آغاز ہوا۔ ڈرامے میں لڑکیوں کا کردار ادا کرنے والے لڑکے ہمارے ہی اسکول کے طالب علم تھے۔ یہ لڑکے اس ڈرامے کی کئی ہفتوں سے ’’ری ہرسل‘‘ کرتے آتے تھے۔ ان لڑکوں میں سے جو نام مجھے یاد ہیں وہ قاسم گل، منہاج اور محمد پرویش تھے جو چھٹی ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔ ہیرو کا نام غالباً عماد تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے ڈرامے سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے مینگورہ کا رُخ کیا۔ جہانزیب کالج پر کیا گیا چراغان عمارت کی خوب صورتی اور شان میں اضافہ کر رہا تھا۔ کالج کے اندر بھی پروگرام ہورہے تھے، مگر ہم جگہ جگہ پر رقص و سرود کی محفلیں دیکھتے ہوئے مینگورہ کے وسط یعنی تاج چوک پہنچ گئے۔ وہاں پر اپنے دور کی مشہور رقاصائیں ’’جان‘‘ اور ’’اقبال‘‘ محو رقص تھیں۔ لوگ اُن پر پیسہ نچاور کررہے تھے۔ ہم نے یہاں کچھ وقت گزارا، تو واپس سیدوشریف کے طرف روانہ ہوئے۔ اور جب ہم افسر آباد اپنے گھر پہنچے، تو صبح صادق کی روشنی پھیلنے لگی اور برقی قمقموں کی روشنی آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگی۔ عام تعطیل تھی اور دن کو بھی وہی جشن کا سماں جاری رہا۔ ناشتے کے بعد ہم گراسی گراؤنڈ آگئے جہاں پر سیکڑوں کی تعداد میں ریاستی ملیشیا کے سپاہی سالانہ پریڈ کی تیاری میں مصروف تھے۔ نو بجے کے قریب حضور ’’والی صاحب‘‘ کار میں آئے اور پیویلین کے درمیان بنائے گئے اسٹیج کے اوپر کھڑے ہوگئے۔ پیویلین کے ایک پہلو میں ریاست کا شاہی پرچم لہرا رہا تھا اور دوسرے کونے پر پاکستان کا قومی پرچم سر بہ فلک تھا۔
فوج نے شاہی سیلوٹ اور ترانہ پیش کیا اور پھر تمام پلٹنیں مارچ کی دُھن پر سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرتی رہیں اور سلامی پیش کرتی رہیں۔ سب سے آخر میں شاہی بیڈ اپنے سفید یونی فارم اور چمک دار لونگیوں میں ملبوس مارچ کرتا ہوا آگیا۔ چبوترے کے عین سامنے کھڑا ہوا اور کوئی پندرہ بیس منٹ تک اپنے فن کا مظاہرہ کرتا رہا۔ اس کے بعد اسکولوں کے طلبہ پی ٹی شو کا مظاہرہ کرکے لوگوں سے داد وصول کرتے رہے۔
پریڈ کے اختتام پر والئی سوات کی گاڑی آکر چبوترے کے قریب رُک جاتی، والی صاحب چند لمحوں تک فوج کے اعلیٰ افسروں سے باتیں کرتے۔ شان دار پریڈ کے انعقاد پر اُن کی حوصلہ افزائی کی اور کار میں سوار ہو کر گراؤنڈ سے رخصت ہوگئے۔
اور پھر اچانک یہ فیصلہ ہوا کہ چوں کہ سوات میں دسمبر کے مہینے میں سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے اور بیرون ریاست سے آنے والے معزز مہمان اور شعرائے کرام اس شدت سے مانوس نہیں ہیں، تو جشن کی تمام رسومات کو والی صاحب کے یوم پیدائش کی مناسبت سے پانچ جون منعقد کرنے کے احکامات صادر کیے گئے۔
775 total views, no views today


