اس کالم میں، مَیں اپنے اور سوات کے تاریخی گاؤں کے چند معمولی مگر اہم مسائل کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں منگلور کے ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں، قیادتوں، متعلقہ اداروں اور اداروں کے اعلیٰ حکام کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ وہ اس جانب توجہ عطا فرماویں اور مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھاویں۔
1:۔ منگلور کے دونوں اطراف کی سڑکوں پر کام شروع ہے، جو لائق تحسین ہے۔ براہِ کرم کام کو صحیح طریقے سے سر انجام دیا جائے۔ اعلیٰ کوالٹی کی میٹریل استعمال کیا جائے۔ موزوں مشینری کا استعمال ہو۔ کام کی کوالٹی کا لحاظ رکھا جائے۔ نیز منگلور بائی پاس کے روڈ کو سروے کے مطابق دو کلو میٹر تک مکمل کیا جائے۔ سنا گیا ہے کہ دو کلومیٹر میں سے ایک کلومیٹر کو فی الحال مکمل کیا جائے گا۔ حیرانی کی بات ہے کہ دو کلومیٹر میں بھی ایک کلومیٹر کی کٹوتی کی جارہی ہے۔ کیا یہ کوئی خیرات یا زکوٰۃ کا پیسہ ہے؟ فی الفور دو کلومیٹر روڈ کے لیے بجٹ کا اجراء کیا جائے۔
2:۔ منگلور کے سول اسپتال میں بچوں کے ویکسی نیشن ڈاٹا کارڈ عرصہ ایک سال سے ختم ہوگئے ہیں۔ ایک عام معمولی کاغذ پر ڈاٹا لکھا جاتا ہے، جو کسی وقت بھی ضائع ہوسکتا ہے۔ اس میں بچوں کی صحت اور زندگی کے نازک اور حساس معاملے درج ہوتے ہیں۔ لہٰذا مقامی محکمۂ صحت اس جانب ضروری توجہ دے کر متعلقہ ڈاٹا کارڈ مہیا کرے۔
3:۔ منگلور کے اس سول اسپتال کو جو اس وقت منگلور پل کے پاس ایک تنگ و تاریک عمارت میں بہ مشکل کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ فوراً نئے اسپتال (نواز شریف کڈنی اسپتال) میں منتقل کیا جائے۔ موجودہ جگہ میں اسپتال کے عملہ اور مریضوں کے لیے بہت کم گنجائش ہے اور مریضوں کو خدمات مہیا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ لہٰذا کڈنی اسپتال میں فی الحال ایک فلور سول اسپتال منگلور کو حوالے کیا جانا چاہیے۔ کڈنی اسپتال میں مشینری لگانے، اسٹاف مہیا کرنے اور اُسے اپنے تمام مکمل حالت میں چالو کرنے میں وقت لگے گا جب کہ منگلور اور آس پاس کے مضافات کے ہزاروں لوگوں کو صحت کے حوالے سے اس وقت ان گنت مشکلات کا سامنا ہے۔
4:۔ منگلور کے گاؤں میں پینے کے پانی صاف کا بڑا مسئلہ ہے۔ لائن جا بہ جا لیک ہے جس کی وجہ سے بڑے مقدار میں پانی کا ضیاع ہو رہا ہے اور دوسری طرف لیکج کے ذریعے گلی کوچوں اور ندیوں کی گندگی صاف پانی میں شامل ہوکر عوامی صحت کے لیے بے شمار بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کا زیادہ مقدار ضائع ہونے کی صورت میں سڑکوں اور راستوں کی حالت بھی خراب کرنے کا مؤجب بن رہا ہے۔ اچھے بھلے روڈ اور راستوں میں کھڈے بن جاتے ہیں جن کی مرمت کے لیے بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ ضروری وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ منگلور بائی پاس روڈ کے بننے کے باوجود اگر پانی کی لائن کے لیکج کا بندوبست نہ کیا گیا، تو نئے تعمیر شدہ روڈ میں دوبارہ کھڈے بن جائیں گے اور ساری محنت اور پیسہ پر پانی پھر جائے گا۔ لہٰذا اس مسئلہ کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
5:۔ تمام مسائل کا تعلق ایک دوسرے سے باندھا جاچکا ہے۔ اگر ایک مسئلہ حل نہ ہوا، تو اس سے دوسرا مسئلہ بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر روڈ کے بننے سے پہلے اگر گیس کنکشن کا مسئلہ حل نہ ہوا، تو پھر گیس کنکشن کے لیے اسی مرمت شدہ سڑک کو کھودنا پڑے گا جس سے وقت بھی ضائع ہوجائے گا اور پیسہ کا ضیاع بھی ہوگا۔ لہٰذا تعمیر اور کنسٹرکشن کا پرانا جاہلانہ رویہ ترک کرکے پہلے منگلور کے گاؤں تک گیس کی مین پائپ لائن کا کنکشن دیا جائے اور پھر روڈ پر تعمیر کا کام کیا جائے۔ ورنہ بار بار توڑنا، بار بار بنانا ویسے بھی ہمارے ارباب اقتدار کا شیوہ ہے۔
6:۔ منگلور کے ایک مضافاتی علاقے ’’باترا‘‘ کے اہم اور ضروری مسائل پر بھر پور توجہ دی جائے۔ ’’باترا‘‘ میں اب آبادی بڑھ گئی ہے بلکہ مزید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لہٰذا مقامی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہاں کے عوام سے ملیں اور ان کے اہم مسائل کی نشان دہی کریں۔ جس میں پانی، سڑک، بجلی کے مسائل خاص طورپر اہم ہیں۔ ان پر خصوصی توجہ دی جائے اور ان کو فی الفور حل کیا جائے۔
7:۔ آخر میں ہم منگلور کے تحریک انصاف کے کارکنان اور قیادت سے درخواست کریں گے کہ وہ آپس کے اختلافات اور گروپ بندی ختم کرکے ایک ہوجائیں۔ در اصل سیاست جنونیت سے نہیں بلکہ ہوش مندی، صبر اور برداشت سے کی جاتی ہے۔ سیاست ایک مشغلہ ہے، کام ہے، انسانیت کی خدمت کا نام ہے۔ اس میں اُتار چڑھاؤ قانونی فطرت ہے۔ اختلافات افراد کے درمیان سیاسی رویے ہیں، لیکن رویوں میں ضد، انا، ہٹ دھرمی کے بجائے لچک اور تنوع پیدا کرنا چاہیے۔ جمہوری رویوں اور روا داری کو فروغ دینا چاہیے۔ سیاست میں محبت اور عاشقی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایک دوسرے کے ساتھ اور پارٹی قیادت کے ساتھ تمام تعلقات کا اظہار مسائل کی نشان دہی اور اُن کے حل پر ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی انا، ذاتی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ ایک دوسرے کو تحمل سے سننا چاہیے۔ دوسروں کے خیالات، جذبات اور احساسات کی قدر کرنی چاہیے۔ نہ کہ ایک دوسرے کا مذاق اُڑا کر نفرتوں کے بیچ بوئے جائیں۔ اختلافات کی صورت میں سینئر قیادت کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھنا نہ بھولیے کہ تحریک انصاف کی منگلور کی قیادت متحد ہوگی، تو مقامی مسائل پر متفق ہوگی اور جتنی متفق ہوگی، اُتنا ہی عوامی مسائل کے حل اور جدوجہد کی طرف متوجہ ہوگی۔ ورنہ سارا وقت ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے، اہمیت گھٹانے اور کردار کشی میں ضائع ہوجائے گا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پارٹی کا ممبر ہوں، نہ اُن کی قیادت سے کوئی رابطہ ہے۔ مندرجہ بالا گزارشات اور تجاویز کی بنیاد وہ خبر ہے جو منگلور کی تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے اختلافات کے حوالے سے یہاں کے ایک مقامی اخبار کے نو دسمبر کے شمارے میں چھپی ہے۔ اُمید ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان میری تجاویز کو اپنی طبع نازک پر گراں نہیں گزاریں گی اور انھیں درخورِ اعتنا سمجھیں گی۔
616 total views, no views today


