ہم ہمیشہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ سماج اور معاشرہ کی تمام برائیاں دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو ہمیشہ بری الذمہ قرار دیتے ہیں۔ ہر ایشو پر ہم سیر حاصل بحث کرسکتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل ہمارے پاس ہوتا ہے۔ اپنا کچھ بھی نہ ہو لیکن پرائے کا حساب کتاب کرنا ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔ بجائے اس کے کہ اپنی ترقی و کامیابی کے لیے کوششیں اور محنت کی جائے، دوسروں کی تنزلی اور ناکامی کے لیے منصوبے بناتے ہیں۔ اوباما سے لے کر نریندر مودی، نوازشریف، آصف زرداری، عمران خان کو تمام دن جی بھر کر برا بھلا کہتے ہیں کہ سب برائیوں، نا انصافیوں، جھگڑوں کے یہ ذمہ دار ہیں۔ ہم بجلی مانگتے ہیں، لیکن میٹر لگانا، بل دینا اور اپنے گھر کے اوپر بجلی کی لائن گزرنا اور بجلی کا پول لگانا نہیں مانتے۔
سڑک مانگتے ہیں لیکن اپنے کھیت کلیان سے ایک فٹ زمین دینے کو تیار نہیں۔ ٹیلی فون کی سہولت مانگتے ہیں، لیکن گھر کے سامنے کھدائی کرنے کو تیار نہیں۔ دوسروں کے گناہوں اور نیکیوں کی ہمیں بہت فکر ہوتی ہے۔ ہر عمل، ہر کردار، ہر فن اور ہر ترقی کو ہم تعصب کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک تاثر بہت عام ہوگیا ہے کہ اپنے پرائے کی ترقی، دولت مندی اور خوش حالی ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔ البتہ اُن کی تنزلی، بے عزتی اور غربت پر ہمیں دلی تسکین ہوتی ہے۔ ہمارے آگے صرف ہماری ذات ہے۔ ملک و قوم کی فلاح و بہبود، اچھائی، برائی، ترقی اور تنزلی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہماری تربیت اس ڈھنگ سے ہوئی ہی نہیں ہے کہ ہم بہ حیثیت قوم کوئی اجتماعی سوچ اپنا لیں۔ اجتماعی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ دوسروں کے حقوق کا احساس کریں۔ اجتماعی یا مجموعی مفادات کا خیال رکھیں۔ جب بھی کوئی ایسا وقت آتا ہے، تو ہم مختلف، بے شمار، جھوٹے حیلے بہانوں کو تراش کر اُن مجموعی مفادات یا اجتماعی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو نکالنے کی ہزار جتن کرتے رہتے ہیں۔ ہم ہر وقت اپنے مفاد کا سوچتے رہتے ہیں اور یہ عادت اب اس حد تک عروج پر پہنچ گئی ہے کہ اپنے مفادات کے لیے دوسروں کی حق تلفی کرنے بلکہ جھوٹ، زور زبردستی کرنے سے ذرا بھی نہیں جھجکتے۔ ایسے حالات میں ایک قوم کی اصلاح بھلا کیسے ہوسکتی ہے؟ ہم پٹرول مہنگا ہونے کا رونا رو رہے تھے اور اسے سستا کرنے کے لیے مطالبے پہ مطالبے کررہے تھے۔ حکومت کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ حکومت کو ظالم، کرپٹ قرار دینا بہت آسان کام ہے، ہم میں سے اکثر اچھے بھلے لوگ گالیوں پر بھی اُتر آتے ہیں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ عالمی منڈی میں تیل نرخوں کے اُتار چھڑاؤ کے تناظر میں حکومت سولہ سترہ روپے فی لیٹر کے حساب پٹرول سستا کرے گی اور ٹرانسپورٹروں کو کرایوں میں کمی کے کٹھن امتحان میں ڈال دے گی۔ کیوں کہ ہم تو اس قبیل کے لوگ ہیں کہ سب کچھ سستا ہو، آسان ہو، سہولیات ہوں، فراوانی ہو، خوش حالی، سکون اور امن و امان ہو لیکن مجھ پر کوئی بوجھ نہ آئے۔ مجھ پر کوئی ذمہ داری نہ ڈالی جائے۔ ہاں، دوسروں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ کوئی بات نہیں۔ بس میرے لائف اسٹائل اور آرام میں کوئی خلل نہ آئے۔
قارئین کرام! پٹرول سستا ہوا لیکن اب ٹرانسپورٹر حضرات کرایہ کم کرنے پر تیار نہیں۔ وہ اسی طرح پرانے کرائے لے کر غریب عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اشیا خور و نوش اور ضروریات زندگی اسی طرح مہنگی ہیں جس طرح پہلے تھیں۔ یہی ٹرانسپورٹر حضرات تھے کہ کرایوں میں کمی کی ذمہ داری حکومت پر یہ کہہ کر ڈال دیتے تھے کہ پٹرول مہنگا ہے۔ اب جب پٹرول سستا ہوا، تو یک دم تمام گاڑیاں سی این جی پر چلنے لگیں اور ایسا راتوں رات ہوا۔ اب بہانہ یہ کیا جارہا ہے کہ سی این جی مہنگی ہے۔ اگر سی این جی سستی ہوگئی تو پھر کرایوں کی کمی پر سوچا جاسکتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ گاڑیاں پہلے بھی سی این جی پر چلتی تھیں لیکن کرایہ پٹرول کے نرخوں کے حساب سے وصول کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ سی این جی اور پٹرول کے نرخوں میں زمین آسمان کا فرق ہے یعنی یہ پہلے بھی جھوٹ، بے ایمانی اور دھوکہ دہی کے ذریعے عوام کو لوٹتے تھے اور اب بھی جھوٹے بہانوں سے عام آدمی کو لوٹ رہے ہیں۔ پٹرول کے نرخ سستا کرنے کا مدعا یہ ہے کہ عام لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے جب کہ ٹرانسپورٹر حضرات سارا فائدہ اور منافع اپنی جیبوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں، جو سراسر ظلم ہے۔ بے انصافی ہے۔ لالچ اور موقع پرستی ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں کرایوں میں مناسب کمی ہوگئی ہے، لیکن خیبر پختون خوا میں یہ معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ صوبائی حکومت اور انتظامیہ اسلام آباد اور لاہور کے تخت پر قبضہ کرنے سے فارغ نہیں ہیں۔
لہٰذا صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ہماری ضلعی انتظامیہ بھی اس بارے میں تساہل کی شکار ہے۔
وقت کا تقاضا ہے اور سوات کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ مقامی انتظامیہ جلد از جلد ٹرانسپورٹروں سے مذاکرات کرکے تمام سوات میں مختلف اسٹیشنوں اور فاصلوں کے لیے نئے کرایے ناموں کا تعین کرے اور پھر ان کرایوں پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔ جو نہیں مانتے انھیں جرمانہ کرے۔ لائسنس ضبط کرے یا ان کی گاڑیوں کو بند کرے۔ بعض باتیں جمہوریت یا منت سماجت سے نہیں بلکہ زور زبردستی منوانا پڑتی ہیں۔
اس حوالے سے دوسری تجویز یہ ہے کہ اب ضلع سوات کی آباد ی بہت بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا پرائیویٹ اور نجی ٹرانسپورٹ کے ساتھ صوبائی حکومت سرکاری ٹرانسپورٹ کا بھی بندوبست کرے۔ ضلع سوات کے لیے کم از کم بیس یا تیس عدد بڑی بسوں کا انتظام کرکے ہر بس کے لیے دو ڈرائیوروں اور دو کنڈیکٹروں کو بھرتی کیا جائے۔ مختلف راستوں یعنی روٹس پر ان بسوں کو چلایا جائے۔ مناسب سرکاری کرایہ مقرر کرے۔ ان سرکاری بسوں کے چلنے سے پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کی اجارہ داری ختم ہوجائے گی اور عوام کو بھی اچھی خاصی سہولت مل جائے گی۔
مجھے یقین ہے کہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز اس پر اعتراض بھی نہیں کریں گے۔ کیوں کہ رش اتنا زیادہ ہے۔ مسافر اور سواریاں اتنی وافر مقدار میں ہیں کہ سرکاری ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کے کاروبار میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔
لیکن قارئین کرام! ضرورت آگہی کی ہے۔ اپنا اور دوسروں کا حق سمجھنے اور جاننے کی ہے۔ سچ کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی ہے اور بات اپنے ذات اور انفرادی مفادات سے ذرا آگے سوچنے کی زحمت گوارا کرنے کی ہے۔ کیوں کہ ڈھیر سارے مسائل اور مشکلات کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس موجودہ مسئلے کے ہم خود ذمہ دار نہیں؟
638 total views, no views today


