ڈاکٹر زاہد حسین کے انتقال کی خبر جس انداز میں اخبار میں شائع کی گئی تھی، میری رائے میں وہ مناسب نہیں تھا۔ لکھا گیا تھا کہ ’’ڈاکٹر زاہد حسین آف مکانباغ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ وہ پریس کلب کے سابق چیئرمین صلاح الدین کے بھائی تھے۔‘‘ کیا مرحوم کا بس یہی تعارف تھا؟ کیا ہم لوگ اُن کے عالی مرتبت والد ماسٹر مظفر حسین کو بھول گئے ہیں جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ اسی شہر کے ایک قابل احترام شہری تھے۔ اگر کاروباری لحاظ سے دیکھا جائے، تو وہ سوات کے اولین دو کتب فروشوں میں سے ایک تھے، جن کی دوکان ’’کتابستان سوات‘‘ کے نام سے پہلے مکانباغ اور بعد میں ’’مین بازار‘‘ منتقل ہوئی تھی۔ دوسری دوکان ’’اسلام بک اسٹور‘‘ تھی جو عبدالصمد حاجی صاحب اور ان کے بیٹے محمد سعید کی ملکیت تھی۔ اگر تعلیمی میدان میں اُن کی خدمات کا تذکرہ کریں، تو وہ سوات کے بانی اساتذہ کرام میں شامل تھے اور اس طرح سوات بھر میں اُن کے ہزاروں شاگرد پھیلے ہوئے ہیں جن میں کئی ایک آج بھی زندہ ہوں گے۔ ان کا مخصوص لہجہ میں پشتو بولنا تو ہر کسی کو یاد ہوگا۔ وہ کہیں اور سے نہیں آئے تھے، اسی مٹی میں پیدا ہوئے تھے اور یہی پلے بڑھے اور وفات پائے تھے۔ اُن کے والد ریاستی تاریخ کے ایک منفرد کردار ’’ریفل اُستاد‘‘ تھے۔ میں اُن کے بارے میں مزید تفصیل میں نہیں جاؤں گا، کیوں کہ ہر کسی نے ان کے بارے میں اپنی مرضی کی رائے قائم کی ہے اور دوسرے کو جھوٹا اور خود کو سچا قرار دیتے ہیں۔ ماسٹر مظفر حسین ودودیہ ہائی اسکول سے لے کر جہان زیب کالج کے قیام تک درس و تدریس سے وابستہ رہے اور جب کالج کا قیام عمل میں آیا، تو اس عظیم الشان ادارے کے سٹیورڈ “Steward” کے لیے ماسٹر صاحب ہی کا انتخاب کیا گیا۔ کیوں کہ اس منفرد ادارے کے انتظام و انصرام کے لیے والئی سوات کی نگاہ باریک بین میں ان سے زیادہ موزوں شخصیت اور کوئی ہوہی نہیں سکتی تھی۔ انھوں نے جس طرح اس نو تعمیر شدہ عمارت کو قدرتی پودوں سے آراستہ کیا، اس نے کالج کی شان دوبالا کی۔ کالج کے مالیوں، چوکی داروں اور لیبارٹری اٹنڈنٹ سے کام لینا اُن ہی کا خاصہ تھا۔ کالج میں ضبط و نظم قائم رکھنا اور طلبہ کو ان قواعد و ضوابط کا پابند بنانا ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ وہ جہاں بیٹھتے، رونق محفل ہوتے تھے۔ دل کھول کے قہقہے لگاتے اور اپنی دل چسپ اور انوکھے لہجے سے لوگوں کو خوش کرتے تھے۔ غرض یہ کہ وہ ایک باغ و بہار شخصیت تھے اور کئی خوبیوں کے مالک تھے۔ زاہد حسین (مرحوم) سے ہماری کچھ زیادہ واقفیت نہیں تھی بس سر راہ سلام وغیرہ ہوتا تھا۔ ان کے بڑے بھائی انجینئر اقبال حسین کے ساتھ کچھ وقت ریاستی ملازمت میں اکٹھے گزرا تھا۔ پھر انھوں نے ریاست کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان کی سرکاری ملازمت اختیار کی۔ ان دونوں بھائیوں سے اکٹھے آخری ملاقات بھی کئی سال پہلے غالباً ستر کی دہائی میں نیوائر نائٹ کے ایک پروگرام میں ہوئی تھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مشاہیر کا ذکر گاہے بہ گاہے کرتے رہیں، تاکہ نئی نسل کو ماضی کے درخشندہ ستاروں سے مربوط کرسکیں۔ دوسری خبر میں نے آج (بہ روز اتوار 24 دسمبر) روزنامہ چاند میں پڑھی۔ یہ پشتو کے ایک لائق افتخار بیٹے اکرام اللہ گران کے بارے میں تھی۔ کوئی یقین کرے یا نہ کرے، مگر یہ سو فی صد حقیقت ہے کہ میں نے اُن کے ساتھ دو دن اور دو راتیں ایک ہی کمرے میں اکٹھے گزاری ہیں، مگر نہ ہم نے اُن سے شعر سنانے کی فرمائش کی اور نہ انھوں نے از خود کچھ سنایا۔ ہم دنیا جہاں کی باتیں کرتے تھے۔ حالات حاظرہ پر، دوسرے موضوعات پر، لیکن شعر و شاعری کا کبھی تذکرہ نہ ہوا۔ مزید برآں ان دنوں میڈیا پر اُن کا اتنا زیادہ آنا نہیں تھا، جتنا کہ بعد میں ان کی شہرت پھیلتی گئی۔ ہوا یوں کہ غالباً 1990ء میں ہمارے ایک ایس ڈی او صاحب میاں عنایت اللہ جان ریٹائر ہوگئے۔ میں ان دنوں پراجیکٹ سب ڈویژن سیدو شریف میں میاں صاحب کے ما تحت کام کرتا تھا۔ میاں صاحب بہت پیارے اور مہربان افسر تھے۔ اُن کے ریٹائرمنٹ پر چند احباب نے فیصلہ کیا کہ ان کے اعزاز میں روایتی الوداعی پارٹی کے بجائے کہیں آؤٹنگ پر اُن کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ مینگورہ کے عطاء اللہ اور اقبال حسین کی تجویزپر ہم نے ’’پشمال‘‘ کو اس مقصد کے لیے چن لیا۔ دوران سفر ہم نے گاڑی میں میاں صاحب کے ساتھ ایک خاموش طبع ادھیڑ عمر کے آدمی کو دیکھا، جو قد بت اور شکل سے میاں صاحب سے بہت ملتے تھے۔ میاں صاحب نے اُن کاتعارف کراتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ میرے چھوٹے بھائی اکرام اللہ گرانؔ ہیں، یہ پشتو کے ایک قادر الکلام شاعر ہیں۔‘‘ اسی ایک جملے کے بعد ہم تقریباً اڑھتالیس گھنٹے اکھٹے رہے مگر کسی بھی لمحے شعر و شاعری کا ذکر تک نہیں آیا۔ شاید اُن دنوں ہماری ترجیحات اور مشاغل بھی دوسرے تھے۔ یہ اکثر خاموش رہتے۔ جب وہ دریا کے کنارے زرا زیادہ ہی گم سم ہوجاتے، تو میاں صاحب بہت پیار سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہتے: ’’شاعر لوگوں کی دنیا ہی اور ہوتی ہے یہ شاید اس وقت بھی فکر سخن میں گم ہیں۔‘‘ ہم کالام کا چکر بھی لگا آئے۔ وہاں پر میاں صاحب نے خواہش ظاہر کی، دوسرے سیاحوں کی طرح کلاشن کوف سے فائر کروانا چاہتے تھے۔ جب انھوں نے کرایہ کے رائفل سے فائر شروع کیے، تو اکرام اللہ گران نے اس کو ٹوکا کہ بس کرو۔ گزشتہ سال ہی تو تمھارا بائی پاس آپریشن ہوچکا ہے۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ گرانؔ پشتو کے ادبی افق پر ستارہ بن کر چمکیں گے اور ایک دنیا ان کی شاعری کی گرویدہ ہوجائے گی۔
1,396 total views, no views today


