سوات،خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے کی بعض اہم ترین شاہراہوں کی تعمیر و ترقی پر کام کی سست رفتا پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام پر زور دیا ہے کہ ان ترقیاتی سکیموں کی جلد اور معیاری تکمیل یقینی بنائی جائے کیونکہ حد درجہ تاخیر سے محکمے کے ساتھ ساتھ ہماری قومی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے انہوں نے چکدرہ تا کالاام روڈ میں بعض مقامات پر ٹوٹ پھوٹ اور بحرین سے کالام تک 34کلومیٹر سڑک کی حالت زار پر گہر ی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر کام تیز کرنے اور اگلا سیاحتی سیزن شروع ہونے سے پہلے اسکی تکمیل کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ یہ شاہراہ سیاحتی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے اور اس معاملہ میں غفلت کی صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں متحمل نہیں ہو سکتیں یہاں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو یہ غلط تاثر ہرگز نہیں ملنا چاہئے کہ ہم اپنی سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کے قابل بھی نہیں وزیر اعلیٰ نے پشاور میں تجاوزات کا مکمل کا صفایا کرنے اورسرکلرروڈ سمیت تمام اندرون شہر سڑکوں کو دو رویہ بنانے نیزدونوں جانب کی فٹ پاتھوں کو راہ گیروں کی آمد ورفت کیلئے صاف وآرام دہ بنانے کی ہدایت بھی کی وہ اپنے دفتر سی ایم سیکریٹ پشاور میں مختلف شاہراہوں کی تعمیر و توسیع پر پیش رفت اور پشاور شہر میں صحت وصفائی اور خوبصورتی سے متعلق دو مختلف اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے جس میں دوسروں کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری خالد پرویز ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل منیجر عبدالصمد، سیکرٹری مواصلات وتعمیرات احمد حنیف اورکزئی ،پشاورمیونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر سید ظفر علی شاہ، ڈبلیو ایس ایس پی کے چیف ایگزیکٹو انجینئر محمد نعیم، پارسا، پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی پرویز خٹک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے ملاکنڈ تا کالام اور ملاکنڈ تا چترال سڑکیں صوبائی حکومت کی تحویل میں تھیں تو انکی دیکھ بھال کافی بہتر تھی مگر 2007ء میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس اسکا انتظام جانے سے یہ اہم شاہراہیں عدم توجہی کا شکار رہی ہیں حالانکہ اس اقدام کا مقصد انہیں زیادہ بہتر بنانا تھا جبکہ 2010ء کے طوفانی سیلاب میں بحرین تا کالام سڑک بہہ جانے کے بعد اسے بالکل نظر انداز کیا گیا جو کسی طرح مناسب نہیں انہوں نے کہا کہ پشاور چمکنی انٹرچینج، ناردرن بائی پاس اور دیگر اہم منصوبوں کی طرح بحرین تا کالام روڈ کی جلد تعمیر کیلئے صوبائی حکومت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو اپنے محدود وسائل کے باوجود 14کروڑ روپے کا قرضہ بھی فراہم کیا مگر پورا ایک سال گزرنے پر بھی صورتحال جوں کی توں ہے اور اس کا وفاقی حکومت کی سطح پر سخت ترین نوٹس لینا چاہئے اس موقع پر پختونخوا ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ انکی ہدایت پر چکدرہ سے مدین تک دریائے سوات کی بائیں جانب شموزئی شاہراہ کی تعمیر و توسیع کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے مجموعی 88کلومیٹر میں سے 78کلومیٹر شاہراہ کو جدید مشینری سے کشادہ و پختہ کیا گیا اور سیلاب میں بہہ جانیوالے کانجو، خوازہ خیلہ اور باغ ڈھیری پلوں کی تعمیر نو بھی کی گئی جسکی بدولت دائیں جانب کی بیشتر ٹریفک بھی اس طرف مڑ گئی ہے اسی طرح تین ارب اسی کروڑ روپے کی سعودی امداد سے 45کلومیٹر منگورہ فتح پور کی تعمیر نو میں بھی این ایچ اے کی بھرپور معاونت کی جارہی ہے پرویز خٹک نے معاونت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ این ایچ اے خیبرپختونخوا میں اپنے اہداف کے حصول پر مناسب توجہ دے گی پشاور میں صحت و صفائی، آبنوشی، سڑکوں کی کشادگی اور ٹریفک مسائل کے حل سے متعلق اجلاس میں انہوں نے بلدیہ پشاور اور ڈبلیو ایس ایس پی حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی کارکردگی زیادہ بہتر بنائیں تجاوزات کو بلارورعایت گرائیں اور سڑکوں و بازاروں کو کشادہ اور دو رویہ بنائیں ٹیوب ویلوں کی بروقت درستگی اور شہری شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں ایڈمنسٹریٹر بلدیہ پشاور سید ظفر علی شاہ نے بتایا کہ گلبہار تا لاہوری گیٹ، رامداس تا ڈبگری اور دیگر نامکمل مقامات پر شاہراہ کو دو رویہ بنانے اور تجاوزات ہٹانے پر کام تیز کیا جا رہا ہے جسکی بدولت عنقریب شہر کا حلیہ بدل جائے گا اور نہ صرف راستے کشادہ ہونگے بلکہ پھول و پودے اندرون شہر کی سڑکوں کے کنارے بھی نظر آنا شروع ہونگے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور میں صفائی اور آبنوشی کی صورتحال بہتر ہونے پر اگلے مرحلے میں ایبٹ آباد اور دیگر ڈویژنل شہروں میں بھی ڈبلیو ایس ایس پی کی طرز پر پبلک میونسپل کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جسکے شہری خوبصورتی اور ماحول پر اچھے اثرات مرتب ہونگے اور لوگ بھی میونسپل خدمات کے حوالے سے خوشگوار تبدیلیاں محسوس کرینگے۔
850 total views, no views today


