کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخرنہیں ہوتی، سیاستدانوں کی بچھائی گئی بساط پر کارکنوں اورعوام کو مہروں کی طرح استعمال کرنا ،جیتنا،ہارنااوبساط سمیٹنامعمول کاایک عمل ہے جسے وہ بازی لے جانے کی امیدپر باربار بچھاتے اورسمیٹتے رہتے ہیں،انہیں یہ ریلیف حاصل ہے کہ اگرآج اپنی کہی ہوئی بات سے کل مکر جائے تو سیاسی شطرنج میں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی ،عوام کوچاہئے کہ وہ سیاستدانوں سے مکمل طورپرمتنفرہونے کی بجائے ان کی اگلی چال کا انتظارکریں،ملکی سطح پرجاری سیاست سے قطع نظرسوات میں ہونے والی سیاست کودیکھے تواس سے عام لوگ توچکراکررہ جاتے ہیں اور چکرا نے کایہ عمل عوام کو سیاست اورسیاستدانوں سے بالکل متنفرکرنے کا سبب بن رہاہے کیونکہ ان پر یہ رازآشکارہ ہوچکاہے کہ سیاستدان نامی یہ مخلوق یا تو الیکشن کے زمانے میں متحرک اوربعدازاں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے فاتحہ خوانی میں نظرآتی ہے اوربعض سیاستدان تو کچھ زیادہ ہی فاتحہ خوانی کے شوقین معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ جہاں کہیں بھی ہوکسی کی فوتگی یافاتحہ خوانی کی اطلاع ملتے ہی فوراََ پہنچ جاتے ہیں ،سوات کی سیاست صرف غمی خوشی میں شرکت کرنے تک محدودہے حالانکہ اس عمل کیلئے سیاسی وابستگی ضروری نہیں کیونکہ یہاں کے لوگ اس کے بغیر بھی ایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک رہتے ہیں۔
سوات کے عوام بڑی شدت کیساتھ یہ بات محسوس کررہے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں نے انہیں فٹ با کی طرح ایک دوسرے کے حوالے کرنا شروع کردیا ہے مثال کے طورپر مسلم لیگ ن نے یہاں کے عوام کو تحریک انصاف یعنی مرکزنے انہیں صوبے کے رحم کرم پرچھوڑدیا ہے،شائدن لیگ انہیں پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی سزادے رہی ہے ،بس ایک انتقام ہے جس کا عوام کونشانہ بنایاجارہاہے ،یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ سوات کے تما م لوگ نہ تو مسلم لیگی ہیں اورنہ ہی تحریک انصاف والے ،بلکہ یہاں پرہرسیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں مگر مرکزاورصوبے میں برسراقتدارپارٹیوں نے آپس کی کشمکش میں عوام کوپیسنے اورکچلنے کا جیسے تہیہ کررکھاہے ،یہ وہی پارٹیاں ہیں جو الیکشن میں انصاف،بحرانوں کے خاتمے اورعوام کوریلیف دینے کے وعد ے کرتے نہیں تھکتی تھیں مگرمقصد پوراہونے کے بعدوعدے پوراکرنے کی بجائے عوام کو عتاب کا نشانہ بنانے لگیں۔
سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی،زیرنظرتحریرکی ابتدااسی فقرہ سے کی گئی ہے آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں،اگر سیاست میں کوئی بات حرف آخر ہوتی تو سب سے قبل ن لیگ کے مشیر صاحب نے سیاست کو خیربادکہہ دیاہوتاکیونکہ موصوف نے حلقہ پی کے چھیاسی پرہونے والے ضمنی انتخابات کیلئے چلائی جانے والی مہم کے دوران کئی باریہ الفاظ کہے تھے کہ اگر یہ سیٹ ہارگیاتو وہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے،مگرموصوف نے سیٹ بھی ہاری اورسیاست بھی نہیں چھوڑی ،ویسے مشیرصاحب کے خلوص اور دیانتداری پر کسی قسم کا شک بھی نہیں کیا جاسکتا ،بڑے مخلص ،ملنسار،دیانتداراوربردبارشخص ہے ،ہرکسی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنااوران کی خدمت کیلئے تیار رہناان کی عادت نہیں بلکہ فطرت بن گئی ہے ،جو بھی وعدہ کرتے ہیں پوراکرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام حلقوں میں انہیں قدرکی نگاہ سے دیکھاجارہاہے ،انہیں ساتھی بھی بڑے مخلص ملے ہیں مگر ایک المیہ یہ ہے کہ ان کے ذاتی خادم جنہوں نے عمر کابیشترحصہ مشیرصاحب کیساتھ گزارہ ہے اورگزاررہے ہیں ان کی بدنامی کاسبب بن رہے ہیں اگر یہ کہاجائے تو نامناسب نہیں ہوگا کہ مشیر صاحب کے ساتھ ان کے خادموں اورملازموں کی موجودگی میں انہیں مخالفین کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہی ملازمین لوگو ں کو ان سے متنفرکرنے کیلئے کافی ہیں،یہ ملازمین جنہیں مشیرصاحب نے موبائل فون بھی دے رکھے ہیں تاکہ وہ رابطہ کرنے پر پارٹی کارکنوں اوردیگراہل علاقہ کو ان کی سیاسی سرگرمیوں ،پروگراموں اورآمدورفت کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرسکیں مگر ان ملازمین کے نخرے تو دیکھئے جن کے موبائل یا تو بند رہتے ہیں اوراگرکھلے ہوتو گھنٹوں گھنٹوں گھنٹی بجنے پربھی اٹینڈ کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کرتے،اورتواور موبائل پر بھیجے گئے پیغام کا جواب تک بھی نہیں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے بہت سے کارکن مشیر صاحب کے بیشترپروگراموں میں شرکت کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں،مشیرصاحب کے یہ ذاتی ملازمین اگر کبھی کسی کی کال اٹینڈ بھی کریں تو ان کالہجہ ا س قدر نامناسب ہوتا ہے کہ کال کرنے والاحیران رہ جاتاہے،ایسا لگتاہے کہ مشیرصاحب کے یہ خادم خود کو خادم نہیں بلکہ حاکم سمجھتے ہیں جو مشیر صاحب کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں،اس موقع پر پشتو کے معروف شاعرروغانے کا ایک شعر یاد آیا وہ کہتے ہیں کہ
فکر بہ دِ وڑی رورہ کہ دَ نہر مستی دِ اولیدہ
خان بہ درنہ ہیر شی کہ دَ نوکر مستی دِ اولیدہ
مشیرصاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ان ملازمین کالہجہ اوررویہ درست کرنے کیلئے ان کی تربیت کا انتظام کریں اوراگر پھر بھی یہ لوگ راہ راست پر نہیں آئے تو برائے مہربانی انہیں فارغ کرکے ان کی جگہ اپنی طرح مخلص ،دیانتدار اورملنسار ملازمین رکھیں ،امید ہے کہ ہماری یہ گزارش مشیرصاحب پر گراں نہیں گزرے گی بلکہ وہ اس پر ہمدردانہ غور کرکے پارٹی کارکنوں اوراہل علاقہ کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
692 total views, no views today


