بریکوٹ ، صوبائی حکومت کے تعلمی ایمرجنسی کے باوجود گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سیدوشریف کے انتظامیہ طلبہ پر تعلیم کے دروزاے بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔متعلقہ انچارج منت و سماجت کے باوجود ایف ایس سی سیکنڈ ائیر طالبہ کو اپنی انا کا مسلہ بنا کر سال ضائع کرنے پر بضد ہے ۔طالبہ کے والد انصاف کے لئے عدالت پہنچ گئے ۔صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام انصاف فراہم کریں ۔ان خیالات کا اظہار بریکوٹ کے رہائشی الطاف علی خان نے میڈیا سے اپنی فریاد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اکتوبر 2014میں بیماری کے سلسلے سب گھروالے لاہور گئے تھے ۔میری بیٹی ذلیندہ سینکڈ ایئر کی طالبہ ہے کے لئے کالج ہذا کو درخواست ارسال کی مگر انہوں نے کہا کہ درخواست کی ضرورت نہیں مذکور ہ درخواست بطور ثبوت میرے پاس موجود ہے کو خارج کر کے دوبارہ داخل کروا لیں گے ۔واپسی پر آکر میں نے دوبارہ داخلے کے سلسلے میں کالج انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اپ کی بیٹی کو کالج سے خار ج نہیں کیا گیا ہے ۔نومبر میں پروموشن فیس 1270روپے جبکہ دسمبر میں1400روپے داخلہ فیس بھی جمع کرچکے ہیں ۔میرے بیٹی کو دسمبر میں خارج کیا گیا ہے جس سے ہمیں بے خبر رکھا گیا اور کالج انتظامیہ کا موقف ہے کہ اسے اکتوبر میں خارج کیا گیا ہے ۔ حالانکہ دسمبر میں خارج ہونے کے ثبوت بھی موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم اس سلسلے میں غیر جانبدارنہ تحقیقات کرکے میرے بیٹی کو انصاف فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم پر بھر پور توجہ دے کر مذید جاری رکھ سکیں ۔
964 total views, no views today


