تحریر : خالدہ رفیق، ایڈوکیٹ
آج کل اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔پہلے ریڈیو، ٹیلی وژن، سینما اور اخبارات میں عورت کی پیشکش ہوتی تھی اور آج کل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر عورت کی وہ تصویر پیش کی جاتی ہے جو پہلے سے بد نمااور ذرائع ابلاغ کی پرانی تصویر کشی سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ مغربی تانیثت پسندوں کی نظر میں بھی قابل گرفت ہے۔
عورت کی پہلی تصویر ایک خاص روایت پر مبنی تھی جس میں عورت کو صرف نمود و نمائش کا ایک کھلونا پیش کیا جاتا تھا۔ مثلاً عوت کی نرم آواز کو ریڈیو اور ٹیلی فون کے لیے خریدا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بڑی اور چھوٹی سکرینوں کی ایجادنے اس کی آواز کے ساتھ اس کے حُسن وجمال کو بھی تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ۔صنعتکاری اور سرمایا دانہ نظام نے عورت کو سیگریٹ اور ریزر کی اشتہاربازی کے لیے پوری دنیامیں پیش کیا حالانکہ کسی نے بھی یہ سوال نہیں کیا کہ سگریٹ اور بلیڈکا عورت سے کیا تعلق ہے؟لیکن سرمایا دارنہ نظام کا مقصد عورت کے حُسن وجمال کو اپنی پیداوار کے بڑھانے کا ذریعہ بنا یا اورعورت کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ پوری آزادی کے ساتھ چھوٹی اور بڑی سکرین پر اپنے حُسن و جمال کی نمائش کرنے میں آزاد ہے اور صرف اسی کو عورت کی آزادی قرار دیا گیا۔چونکہ مردوں کا شعور تجارتی ہونےاورمنافع کمانے کے لیے عورت کے حُسن کی ضرورت تھی اور آزادی کی صورت میں وہ اُسے میسر آیا ایک شاعرہ کے بقول:
؎ یہ روشنی کا تقاضا ہے اس کی قیمت ہے
چراغ جو بھی بنے گا اُسے تو جلنا ہے
غرض ساٹھ کی دہائی سے قبل عورت کی نہ صرف سکرین پر آشیاء کی فروخت اور خرید کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ اُسے ایک تجارتی چیز Commodityبنا کر پیش کیا جاتا رہا۔دور جدید میں عورت کو ایک نئے المیے سے دوچار ہونا پڑا ہے جسے آسان لفظوں میں سوشل میڈیا پر عورت کی نئی پیشکش قراردیا جاسکتاہے۔جہاں تک مغربی عورت کا تعلق ہے تو اُسے ۱۹۶۰ء سے پہلے اس کی مرضی کے خلاف اور دھوکہ دے کر بڑی اور چھوٹی سکرینوں پر یوں پیش کیا گیا کہ جس سے خود عورت کو اپنی ذات سے ہی نفرت ہو گئ ۔لیکن دور جدید میںمغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں عورت کو ایک ایسی تجارتی چیز میں بدل دیا گیا ہے کہ جو سوشل میڈیا پر ہر جگہ آشیاء کی خرید و فروخت کی اشتہار بازی کے بجائے خود ایک تجارتی چیز بنادی گئ ۔پہلےدور میں مقابلہ حُسن کے نام پر اس کو سرعام رسوا کیا گیا جبکہ دور جدید میں اُسے بلیک میلنگ کے ذریعےپوری دنیا میں رسوا کیا جاتا ہے ۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو عورت کی پیشکش کی دونوں صورتیں صرف مرد کے تجارتی مفاد میں ہیں اور عورت کو بلیک میلنگ اور سوائی کے علاوہ کچھ نہیں ملا ہے۔ عورت کو آزادی اور خوبصورتی کا دھوکہ دے کر مرد نے اُس کے تمام فوائد تجارتی نفع کی صورت میں خود سمیٹ لیے ہیں۔ ایک شاعرہ کے بقول:
؎ سارے پھولوں کا وہ ہی ما لک ہے
میں تو مالی ہوں، باغ اس کے ہیں
پاکستان میں نہ جانے روزانہ کتنی لڑکیوں ک ہراساں کیا جاتا ہے جس کا اہم ترین ذریعہ سوشل میڈیا ہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پپاکستانی عورت کو مغربی عورت کی طرح مادر پدرآزادی دی جارہی ہےجس کا نتیجہ ہمارے ملک میں خاندانی نظام کی مکمل تباہی کا شکل میںنکلے گا۔ہمارے پڑوسی بھارت میں اسے نام نہاد آزادی کی وجہ سےنوجوان لڑکیوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا ہے۔ مغرب میں اگر عورت کو آزادی دی گئ ہے تو بہت سی معاشی ذمہ داریوں کا بار حکومت نے بھی اٹھا یا ہے لیکن بھارت یاپاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعےجو سائبر کرائمز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی گوہی روزانہ کی بنیاد پر تمام ذرائع ابلاغ میں موجود ہوتی ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ہند وستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے عورتوں کے خلاف جرائم کی شرح ۶۳ فیصد ہے ۔وہاں پر ۴۰۰ ملین افراد انٹرنیٹ کا ستعمال کرتی ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کو ہراسانی کانشانہ بنا یا جاتا ہے اور سب سے زیادہ شکائتیں جنسی پراسائی کی جاتی ہیں ۔
پاکستان میں سائبر کرائم کے لیے سوشل میڈیا کو ہی استعمال کیا جاتا ہے اور زیادہ تر لڑکیوں کی تصویر وائرل کر کے ان کو خود کشی کرنے پر مجبور کیاجاتا ہے اگرچہ اس بارے میں مؤثر قانون سازی بھی ہوئی ہے لیکن معاشرتی اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے د لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کیا جاتاہے۔ ۱۶فیصد انٹرنیٹ استعمال کرنے والی پاکستانی آبادی میں عورتوں کو بلیک میل کرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے جوکہ تقریباً اٹھائیس فیصد ہے جبکہ گزشتہ تین پرسوں میں اس میں چار فیصد سالانہ اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔بے روزگاری، غربت اور جہالت اس سلسے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا میں پاکستانی عورت کےلئے آزادی کے نام پر مزید خطرات پیدا ہورہے ہیں ۔آج کل تانیثی مسائل میں عورت کے سماجی تحفظ کے بجائے نام نہاد آزادی پر مارچ منعقد کیے جارہے ہیں جن میں عورت کو تحفظ ملنےکی بجائے مزید بے حیائی بڑھنے کا خدشہ لاحق ہے۔ ہمیں یہ ایک نہ ایک روز تسلیم کرنا پڑے گا کہ حیاء اور حجاب عورت کا ذاتی فائدہ اور سماجی تحفظ کی علامت ہے جس کے اُٹھ جانے سے وہ نئی ہندوستانی عورت کی مانند بے ردا ہوجائے گی۔پاکستان عورت کا حال یہ ہے کہ اس کے علاج معالجے کے لیے مرد ڈاکٹر دستیاب ہیں لیکن خواتین ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کےلیے کوئی مارچ منعقد نہیں کیا جاتا ۔پاکستانی مرد جائداد اور مال و دولت میں عورت کا حصہ تسلیم نہیں کرتے مگر اس کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں آتا ۔لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کو گناہ سمجھ کر انہیں ان پڑھ رکھنا کارِ ثواب سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ اُسے مذہبی تعلیم بھی صحیح معلوں میں نہیں دی جاتی لیکن اِن تمام تعصبات اور زیادتیوں کے خلاف کوئی قانونی بِل نہیں لائے جاتے ۔ ایک شاعرہ کا یہ گلہ درست ہے کہ:
؎ بے نموپیڑ ہیں اس بانجھ زمیں کے لوگ
اور احساس میں کچھ برگ و ثمر چاہتے ہیں
1,186 total views, no views today



