تحریر ؛۔ عبد اللہ تراب
ایک عزیزہ پی ایس ٹی ٹیچر جو کہ بہت دور افتادہ اسٹیشن پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں، اُن کے تبادلہ کے لیے راقم سے درخواست کی گئی۔ میرا خیال تھا کہ یہ موصوفہ رشتہ دار خاتون کا قانونی حق ہے اور گزشتہ پانچ سالوں سے اتنی دور ڈیوٹی دے چکی ہیں۔ اُن کی ٹرانس فر چٹکی میں ہوجائے گی۔ مگر مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو میں نے ایسے مسئلہ میں ہاتھ ڈال دیا ہے جس کے سامنے مسئلۂ کشمیر ہیچ ہے۔ ڈی ای او دلشاد صاحبہ (جن کا ہماری خوش قسمتی سے) ٹرانس فر ہوچکا ہے۔ پہلے اُس نے خوب مجھے تگنی کا ناچ نچایا۔ اکثر موصوفہ چھٹی پر یا میٹنگ پر پائی جاتی تھیں اور کلرکس حضرات اُن کی غیر موجودگی میں دھوپ سینکتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف پائے جاتے تھے۔ کچھ آٹے میں نمک کے برابر خدا ترس بندے بھی مل جایا کرتے تھے، جو کہ ایمان داری سے میری راہ نمائی فرماتے تھے۔
آخر چند ہفتوں بعد موصوفہ سے دفتر میں ملاقات ہوہی گئی۔ انھوں نے فرمایا کہ آپ کی عزیزہ سنگل ٹیچر ہیں، اس لیے ٹرانس فر نہیں ہوسکتی۔
میں نے کہاں فلاں اسکول میں بھی تو سنگل ٹیچر تھیں، اُن کا تبادلہ تو آپ نے کر دیا ہے۔ آخر ہمارا کیا قصور ہے؟
تو موصوفہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگیں۔
بہ ہر حال کافی انتظار کے بعد متعلقہ اسکول میں دوسری مدرس تعینات ہوئیں۔ راقم الحروف دوبارہ فی میل آفس گئے، تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ دو روز بعد صاحبہ کے دفتر قدم بوسی کے لیے گیا، تو بتایا گیا کہ میڈم صاحبہ اپنے کیس کی پیروی کے لیے پشاور گئی ہیں۔ میں سر پیٹ کر رہ گیا۔
الغرض بڑی تگ ودو کے بعد ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس بار موصوفہ نے عذر تراشا کہ قانونی طور پر ہر اسکول میں دو ٹیچرز کا ہونا ضروری ہے۔
اب عجیب بات یہ ہے کہ اُن کے دور میں ایک درجن سے زاید اسکول بند رہے اور اُن میں ٹیچرز ندارد تھیں۔
قارئین کرام! خود ہی اندازہ لگائیں کہ یہ کتنی بڑی بے انصافی ہے اور دن دھاڑے اونٹ نگلنے والی بات ہے۔ اور پھر کہتے ہیں، ہم نے تو دانہ تک نہیں کھایا۔
الغرض اُن کی ٹرانس فر پر عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ اُن کے بعد محترمہ شمیم اختر صاحب ’’ای ڈی او‘‘ بن کر آئیں۔ ہم نے دوبارہ اُمید کے دیئے جلائے۔ شروع میں اُن کا رویہ ہم دردانہ و تسلی بخشانہ رہا، مگر پھر آہستہ آہستہ انھوں نے ٹرخانے اور بہانہ بازی کا وہی پرانا سلسلہ شروع کردیا۔
وہی دھاک کے دو پات یعنی اسکول کو ہم ایک ٹیچر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ وہی میٹنگ اور میٹنگ سے زیادہ ’’ایٹنگ‘‘ کا طولانی چکر پھر شروع ہوگیا۔
ہمارے افسران جب کام کے موڈ میں نہ ہوں، تو میٹنگ کی ٹرم اُن کے کام آتی ہے۔ ایسا اکثر مسلسل ہوتا آرہا ہے۔ یہ اُن کا کار گر ہتھیار ہے۔
اب راقم کو سمجھ نہیں آرہی کہ صرف ہماری ہی ٹرانس فر سے کیوں اسکول سنگل ٹیچر کے سہارے رہ کر نونہالان قوم کا تعلیمی نقصان تو ہوتا ہے اور یہ جو بیس کے قریب اسکول ایک سال تک خالی پڑے تھے، وہاں پر بچوں کا تعلیمی حرج نہیں ہورہا تھا؟ ہے نا عجیب بات؟
راقم کو تو دال میں کچھ کالا کالا نظر آرہا ہے۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
یہ اقربا پروری کیوں؟
یہ بے انصافی کیوں؟
یہ اپنے پرائے کیوں؟
پانچ چھے تقرری و تبادلے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ کئی نئی تقرریاں ہوچکی ہیں، لیکن موصوفہ کو ایڈجسٹ بھی نہیں کیا گیا۔ آخر اُس مظلوم معمار قوم کا نام کیوں نہیں آتا؟ اس بے قاعدگی کا آڈٹ کون کرے گا؟ اس کی ذمہ داری کس کے کندھوں پر ہے؟ کیا فضل حکیم صاحب اس بارے میں پوچھنے کی جسارت کرسکیں گے؟ کہ چار پانچ سال سے کیوں ٹیچر اتنی دور ڈیوٹی دے رہی ہے؟ کیا متعلقہ ای ڈی او صاحبہ بتا سکتی ہیں کہ دو درجن کے قریب جو خالی اسکول گزشتہ دو سالوں سے بغیر ٹیچرز کے خالی پڑے ہیں۔ اُن کا تبادلہ کیوں اور کس بنیاد پر کیا گیا؟ اور تبادلوں میں اپنے پرائے کا فرق کب ختم ہوگا؟ چاہیے تو یہ تھا کہ Tenure مکمل کرنے والی ٹیچرز کا تبادلہ از خود کیا جاتا۔
کیا محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران اس دوہرے معیار پر محکمۂ تعلیم زنانہ سوات کے خلاف محکمانہ کارروائی کرکے اور تمام احکامات کی چھان بین کرکے نئے پاکستان کے نعرے کو سچا ثابت کرسکیں گے؟
712 total views, no views today


