سب سے پہلے اللہ رب کریم و رحم کا بے پناہ شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھ ناچیز کو عالمی امن مشاعرہ میں شمولیت کا موقعہ دیا۔ اس کے بعد میں مشاعرہ کے سول منتظمین کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنھوں نے نہایت فراخ دلی سے مجھے اس شان دار پروگرام میں اہمیت دی جن میں سے ہمارے دوست سردار زیب ایڈووکیٹ اور عطاء اللہ جان ایڈووکیٹ کا اہم کردار تھا۔
اس مشاعرہ میں دنیا بھر کے مشہور و معروف بڑے بڑے ادبی نام کے مالک موجود تھے۔ مشاعرہ کے رنگ و روپ میں رحمت شاہ سایلؔ ، اباسین یوسف زئؔ ، درویش درانیؔ اور اسیر منگلؔ جیسے ناموں کا بڑا ہاتھ تھا۔ افغانستان سے آئے ہوئے شعراء نے تماشائیوں کے جوش و جذبہ اور ذوق میں اور بھی اضافہ کیا۔ مذکورہ مشاعرہ یو این ڈی اور پارسا کے تعاون سے ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر کے دایرۂ اختیار میں ان کے زیر انتظام منعقد ہوا تھا۔ یہ مشاعرہ تھوڑا بہت تنقید کا نشانہ بھی بنا تھا جو ناقدین کا نظریۂ آزادئ صحافت و ادب کے قاعدہ کے تحت حق بھی تھا اور وہ کسی حد تک حق بہ جانب بھی تھے لیکن کم زوری کی گنجایش نہ رکھنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور انسان اس سے عاجز ہے۔ اس وجہ سے یہ پروگرام بعض کم زوریوں کاشکار بھی ہوا ہوگا۔
بہ ہر حال یہ مشاعرہ میرے تجزیہ کے مطابق پشتو کے سب سے بڑے معیار کا مشاعرہ اس لحاظ سے تھا کہ اس میں دنیا بھر کی بڑی بڑی ادبی شخصیات نے مل کر شرکت کی تھی، جن کا آپس میں ادبی اختلاف کا محاذ ہمیشہ گرم رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مشاعرہ کی عالمگیریت کا یہ عالم تھا کہ اس میں انگریز تماشائی بھی بیٹھے تھے اور پشتونوں سے بھی زیادہ ذوق و شوق کے ساتھ اشعار کا ترجمہ کروا کر سن رہے تھے اور اس سے لطف اندوز بھی ہو رہے تھے۔ ترجمان ڈی سی سوات محمود اسلم وزیر صاحب خود تھے، جو اہم اشعار کا ترجمہ کرکے انھیں وقفہ وقفہ سے محظوظ کرنے کی سعی کر رہے تھے۔ اس مشاعرہ کی رنگینیوں اور اہمیت کا ذکر پہلے سے کالم کی زینت بنا کر اس کی تصویر ان لوگوں کو اپنے الفاظ کی صورت میں پیش کرنا میرا فرض تھا، جو اس سے محروم رہے تھے لیکن تاخیراس لیے ہوئی تھی کہ محمود اسلم وزیر صاحب (ڈی سی سوات) نے مشاعرہ کے اختتام پر راقم کو ایوارڈ دینے کی پیشکش کی تھی اور ابھی تک ایوارڈ کچھ نا مساعد حالات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا تھا۔ اس طرح ایک ہی پروگرام پر دو مرتبہ کالم لکھنا میرے بس کا روگ نہیں۔ کیوں کہ ہم تو ایک کالم لکھنے میں کئی ہفتے گزارنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ایک اہم ترین ایشو کی اہمیت پر لکھنے سے پہلے پہلے دوسرے ایشو کی اہمیت پہلے والے ایشو کی اہمیت کو زایل کر دیتا ہے اور اس طرح ہم فرض نبھانے میں کوتاہی کرتے چلے جاتے ہیں۔ اب یہ کالم خواہ مخواہ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے اور وہ احسان پہلے عوامی ریمارکس اور میڈیا کی کوریج خصوصاً زما سوات ڈاٹ کام کے نمائندوں کے ہاتھوں مجھ پر کیا گیا ہے اور پھر محمود اسلم وزیر صاحب (ڈی سی سوات) کے ہاتھوں ایوارڈ دینے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو بڑا احسان کیا ہے، اسے نظر انداز کرکے ان کا شکریہ ادا نہ کرنا میں ’’کبر‘‘ سمجھ رہا تھا۔ کیوں کہ انھوں نے اکیلا مجھے نہیں عوام اور خصوصاً مشاعرہ کے تماشائیوں کی داد کو سند جان کر ان کی حقیقت پسندی کا اعتراف کیا ہے۔ ایوارڈ کی تقریب ڈی سی سوات کے دفتر میں معزز وکلاء کی موجودگی میں بہت شان دار طریقہ سے ہوئی جس کی کمپیئرنگ امجد علی سورجؔ نے کی جو اس وقت ’’سپین سرلو کل ٹی وی‘‘ کے رپورٹر کی حیثیت سے پروگرام میں مدعو تھے۔ یہاں کے ایک لوکل اخبار کی نمایندگی فضل حکیم صاحب کررہے تھے اور پشتو کا نمایندہ میڈیا ’’خیبر نیوز‘‘ کی نمایندگی سعید الرحمان صاحب اور ان کے کیمرہ مین ساتھی ظفر کر رہے تھے۔پروگرام میں شمس الاقبال شمسؔ صاحب بھی موجود تھے۔ میں ان تمام کا بڑا احسان مند ہوں جنھوں نے اپنے اپنے میڈیائی ادارہ کی طرف سے نمایندگی کرکے اپنی کوریج سے اس تقریب کو چار چاند لگائے اور میری عزت افزائی کرکے دنیا کے کونے کونے تک اس تقریب کی خبر پہنچائی جس میں سوات پریس کلب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈی سی سوات کے عملہ میں سے محمد اکبر اور رحمت خان نے آفیشلی تعاون کرکے اپنے اخلاص کا اظہار کیا جس پر میں ان کا بھی بے حد ممنون ہوں۔ان تمام تماشائیوں اور بعد میں میری نظم کو زما سوات ڈاٹ کام پر سن کر مجھے داد دینے اور میری حوصلہ افزائی کرنے والوں کا بے حد ممنون ہوں، جنھوں نے میری نظم کو عوام کے دلوں کی آواز کو سمجھ کر محسوس کیا اور اس میں میرے ساتھ اختلاف کی بجائے سو فی صد اتفاق کرکے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے اپنے قلم کے ذریعے مزید ظلم و جبر اور خصوصاً دہشت گردی کے خلاف نعرہ ہائے تکبیر اُٹھانے کی جرأت دی اور مجھے حقیقت میں حوصلہ کے وہ پر دیئے جن پر میں اور بھی اونچا اڑنے کی صلاحیت اپنے اندر ابھار سکتا ہوں۔ میرے دوست و احباب میں سے کئی ایسے بھی تھے جنھوں نے باہر ملکوں سے نقد انعام بھیج کر اپنی محبت سے میری حوصلہ افزائی کی، جن میں افضل خان آف گلی باغ سوات نے سعودی عرب سے سب سے بڑا انعام بھیج کر مجھ میں ایک نئی روح پھونکی۔
مذکورہ مشاعرہ میں پیش کرنے والی نظم میں راقم نے عالم انسانیت کو امن کا پیغام دے کر دہشت گردی کے خلاف اپنی طاقت کے مطابق قلمی جہاد کا اعلان کیا ہے اور وہ اعلان تا دم آخر برقرار رہے گا۔ کیوں کہ عوام نے مجھے ایک فی صد بھی مایوس ہونے اور اپنے کیے پر پشیمان ہونے کا احساس نہیں دلایا بلکہ لگتا یہ ہے کہ انھوں نے اس جہاد میں میرے سامنے حوصلہ کا پہاڑ کھڑا کرکے اس پر میرے اور امن کے وجود کی حفاظت کے لیے کچھ جاں باز پہرہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں اور اس کا اندازہ مجھے ملک و قوم اور امن سے پیار کرنے والوں کی بے تحاشا محبت سے لگتا ہے، جنھوں نے میری تمام کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے مجھے پیار کے ساتھ سینے سے لگایا ہے، جس کا راقم کے ساتھ کوئی بدلہ نہیں۔ صرف اللہ سے دعا کرسکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا و آخرت میں اپنی بے پناہ نعمتوں سے نوازے۔ کیوں کہ ان کا پیار شخصیت سے نہیں حقیقت سے ہے اور راقم کی شخصیت پیار حاصل کرنے سے عاجز ہے۔ ان کی محبت کا حق ادا کرنا میرے بس کا کام نہیں۔ روایتاً لفظ تشکر پر اکتفا کروں گا۔ آخر میں اس پیغام کے ساتھ اختتام کررہاہوں کہ
پہ نفرتونو چی تیریگی د عذاب پہ شانی
د محبت نہ یی قربان کہ چی جوندون تری جوڑ شی
3,135 total views, no views today


